پمز میں بدانتظامی: قائمہ کمیٹی نے جامع رپورٹ طلب کرلی

آن لائن  بدھ 29 مئ 2013
سی ڈی اے کے 28منصوبوں میں مبینہ گھپلوںکا مرحلہ وار جائزہ لینے کا فیصلہ. فوٹو:فائل

سی ڈی اے کے 28منصوبوں میں مبینہ گھپلوںکا مرحلہ وار جائزہ لینے کا فیصلہ. فوٹو:فائل

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن نے پمز اسپتال میں ڈاکٹروں کے جھگڑے کے معاملے پرسیکریٹری’’ کیڈ‘‘ کی جانب سے بنائی جانے والی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے معاملے کی چھان بین کیلیے ذیلی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔

ذیلی کمیٹی کو اسپتال میں ادویہ کی عدم دستیابی، مشینوں کی خرابی سمیت دیگر انتظامی امور کی بدحالی پر 2 ماہ کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن کا اجلاس منگل کو سینیٹرکلثوم پرویز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔

قائمہ کمیٹی نے سی ڈی اے کے 28منصوبوں میں مبینہ گھپلوں کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی جانے والی تفصیلی رپورٹ کا مختصر جائزہ بھی لیااوران منصوبوں کا مرحلہ وار جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ سینیر ڈاکٹر اکرام خان اور جونیئر ڈاکٹر شاہد رضا کاظمی کے درمیان جھگڑے کے معاملے کی چھان بین کیلیے ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی،جس کی سربراہی سینیٹر کامل علی آغا کریں گے۔ ذیلی کمیٹی کے دیگر ممبران میں سینیٹر سعیدہ اقبال اور سینیٹر روبینہ خالد ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔