مسترد ٹیکس لاترمیمی آرڈیننس کی تجاویزآئندہ بجٹ کیلیے پیش

ارشاد انصاری  جمعرات 30 مئ 2013
سیلزٹیکس17فیصد،ہزاریونٹ بجلی کے گھریلواستعمال پر10فیصدودہولڈنگ ودیگرتجاویزشامل   فوٹو: فائل

سیلزٹیکس17فیصد،ہزاریونٹ بجلی کے گھریلواستعمال پر10فیصدودہولڈنگ ودیگرتجاویزشامل فوٹو: فائل

اسلام آ باد:  فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ٹیکس لا ترمیمی آرڈیننس 2013کے مسودے میں 200 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز آئندہ مالی سال کے بجٹ تجاویز کا حصہ بنا کر حتمی منظوری کے لیے وزارت خزانہ کو بھجوادیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے ’’ایکسپریس‘‘کو بتایا کہ ایف بی آر نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی شرائط کے تحت رواں مالی سال کے آخری 2ماہ کے دوران اضافی ریونیو حاصل کرنے کے لیے ٹیکس لاترمیمی آرڈیننس 2013 کا مسودہ تیار کر کے صدر مملکت کو بھجوایا تھا تاہم صدر مملکت نے مذکورہ آرڈیننس کی منظوری نہیں دی جس کی وجہ سے ان ٹیکس اقدام کا اطلاق نہیں ہوسکا، اس لیے اب ایف بی آر نے مجوزہ آرڈینننس کی تمام تجاویز کو آئندہ بجٹ کے لیے تجاویز کا حصہ بناکر وزارت خزانہ کو بجھوادیا ۔

تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ نئی آنے والی حکومت کرے گی کہ آیا ان تجاویز کو آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حصہ بنا کر پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہے یا نہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ان تجاویز میں تمام اشیا کے لیے سیلز ٹیکس کی معیاری شرح 16 فیصد سے بڑھا کر 17فیصد کرنے، سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی فکس، چینی پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 17 فیصدکرنے، غیر رجسٹرڈ افراد کو اشیا کی سپلائی پر مزید 2 فیصد ٹیکس، 1000 یونٹ ماہانہ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر 10فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس، نئی کاروں اور جیپوں کی خریداری پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس اور بینکوں سے رقوم نکلوانے پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.2فیصد سے بڑھا کر 0.3فیصد کرنے، شادی بیاہ کی تقریبات، سیمینار، ورکشاپس، نمائشوں،کنسرٹ و میوزیکل شواور پارٹیوں سمیت دیگر تقریبات پر 5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی سفارشات شامل ہیں۔

ایف بی آر حکام کے مطابق آئندہ بجٹ میں ایف بی آر نے کرائے کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے 2 نئی سلیبز متعارف کرانے کی تجویز دی ہے جن میں کرائے کی مد میں 20لاکھ سے 30 لاکھ روپے سالانہ تک حاصل ہونے والی آمدنی پر ساڑھے 12فیصد اور 30 لاکھ روپے سالانہ سے زائد آمدنی پر 15فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ پانی کی بوتلوں، بیٹریوں، چاکلیٹ، ٹافیاں، کینڈیز، سیرپس، اسکواشز، بسکٹ، کنفیکشنریز، کافی، پینٹ، وارنش، ڈسٹمبر، مختلف قسم کے رنگ، گم، ڈائز، انیملز، مختلف اقسام کی پالش، لسٹر، تھینر، پیپر اور پیپر بورڈ کی مصنوعات، شیشہ، اسٹیشنری پیڈ، ڈائپرز، سگار، واشنگ پاؤڈر، شیمپو اور صابن، شیونگ فوم اور جیل، چائے کی پتی، مصالحہ جات،کھاد سمیت دیگر اشیا پر پرنٹ شدہ قیمت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے، اس کے علاوہ پٹرولیم کمپنیوں اور انرجی کمپنیوں کی طرف سے درآمد کیے جانے والے اور مقامی سطح پر خریدے جانے والے ہائیڈرالک سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اسی طرح جہازوں میں استعمال کے لیے پاکستان نیوی کو سپلائی کیے جانے والے آئل لبریکنٹس پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔