بجلی نہیں ہے لیکن بلی ہے

سعد اللہ جان برق  بدھ 15 اگست 2012
barq@email.com

[email protected]

سب سے پہلے معذرت ہی ہو جائے تو بہتر ہے آخر جب حالات کچھ بھی بدل کر نہیں دے رہے ہو کہانی میں کسی نئے ٹوئسٹ کا نام و نشان تک نہ ہو تو ایسے میں وہ ’’نئی پری‘‘ کہاں سے لائیں جسے پڑھنے والوں کی دلہن بنائیں وہی پرانی بے ڈھنگی چال جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے وہی اب بھی چل رہی ہے، اخبارات میں تو جیسے باقاعدہ کوئی حکیمی نسخہ یا پکانے کی ترکیب چل رہی ہو، سب سے پہلے… لیکن ٹھہریئے ہم اسے باقاعدہ کھانا پکانے کی ترکیب کی طرح کیوں نہ درج کریں، پکنے اور پکائے جانے والے پکوان کا نام ہے ’’پاکستانی عوام‘‘ اس میں جو اجزا پڑتے ہیں وہ یوں ہیں۔

امریکا اور پاکستان یعنی نیٹو اور ڈرون … آدھا کلو۔فائیو اسٹار لیڈروں کے بیانات… ایک کلو۔سپریم کورٹ اور حکومت کا ٹاکرا… آدھا کلو۔بجلی، پٹرولیم کے نئے ڈیلی نرخ …چار کلو۔بجلی، تیل، سبزی اور سب کچھ کی لوڈ شیڈنگ …10 کلو۔عوام کی چیخیں … 20 کلو

پکوان کے بجائے آپ اسے اچار بھی کہہ سکتے ہیں جو روزانہ عوام کو پکانے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں اب آپ ہی بتائیں کہ ایسے میں ہم کوئی نیا ذائقہ کہاں سے لائیں زیادہ سے زیادہ کچھ ٹونے ٹوٹکے اور گھریلو نسخے ہی عرض کر سکتے ہیں جو زیادہ تر پرانے ہی ہوتے ہیں، مثلاً مہنگائی سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ بازار میں نکلنے، کسی چیز کا نرخ پوچھنے یا خریدنے سے مکمل پرہیز کریں، ازلی و ابدی اور جدی پشتی ’’ضدی داغوں‘‘ عرف لیڈروں سے نجات حاصل کرنے کے لیے مشہور و معروف ڈیٹرجنٹ پاوڈر ’’لعنت‘‘ استعمال کریں لیکن ان ٹونے ٹوٹکوں سے پورے کالم کا پیٹ تو نہیں بھر سکتا، اس لیے مجبوراً پرانے مال کو نیا لیبل لگا کر ڈالنا پڑتا ہے یا یوں کہئے کہ ری پیٹ ٹیلی کاسٹ سے کام چلایا جائے، چنانچہ ہم بھی ایک پرانی کہانی کو نئے پیکنگ میں پیش کر رہے ہیں یہ کہانی مشہور و معروف ’’خان‘‘ غونڈے خان کی کہانی ہے۔

جب 1947ء میں نقل مکانی ہونے لگی اور ہندو لوگ یہاں سے جانے لگے تو غونڈے خان کے گاؤں کا ہندو بھی جانے کے لیے تیار ہونے لگا۔ خان کو پتہ چلا تو اس نے سیٹھ کو بلوا کر کہا کہ کیا سیٹھ وہاں جا کر کوئی دکان ہی کھولو گے نا۔۔۔ وہ میں یہیں تمہارے لیے ڈال دیتا ہوں رک جاؤ، سیٹھ رک گیا لیکن خان بھول گیا کہ اس نے سیٹھ سے کوئی وعدہ کیا ہے کافی عرصہ گزرنے پر سیٹھ نے خان کو اپنا وعدہ یاد دلایا تو بولا ٹھیک ہے چلو ابھی سودا خرید دیتے ہیں، سیٹھ کو تانگے میں بٹھا کر بازار گئے اور دکان کے لیے چند ضروری آئٹم دو دو چار چار سیر خرید کر لے آئے اور خان نے سیٹھ کو دکان ڈال دی۔

چونکہ خان بھی اشیائے صرف سیٹھ کی دکان سے مفت منگواتا تھا اس لیے کچھ ہی دنوں دکان کے ڈبے پاکستانی لیڈروں کی طرح خالی ہو گئے، سیٹھ بیٹھا رہتا تھا کوئی خریدار آکر پوچھتا سیٹھ ’’بجلی‘‘ ہے سیٹھ کہتا بجلی نہیں باقی سب کچھ ہے، اچھا صابن ؟ ۔۔۔ جی نہیں صابن نہیں ہے باقی سب کچھ ہے، چائے کی پتی ۔۔۔ نہیں چائے کی پتی نہیں ہے باقی سب کچھ ہے، اس پر گاہک غصہ ہو کر بولتا یہ کیسی دکان ہے ؟ کیا ہے تمہارے پاس ؟ اس پر سیٹھ دھیرے سے کہتا ۔۔۔ دکان وکان کچھ بھی نہیں ہے غونڈے خان نے صرف نام کرنا تھا وہ کر لیا کہ میں نے سیٹھ کو دکان ڈال کر دی اور سیٹھ مرے یا جئے ۔۔۔ خان کو کیا؟ یہاں تک تو پرانی کہانی ہے لیکن ہم نے اس کہانی میں ایک نیا ٹوئسٹ بھی ڈال دیا ہے ہوا یوں کہ کئی دن تک سیٹھ لوگوں کے طعنے اور آوازیں برداشت کرتا رہا آخرکار اس نے اپنے بنیا پن سے کام لیا اور شہر کے بڑے دکاندار سے معاملہ کر لیا اور ادھار کا سامان لا لا کر دکان میں بیچنے لگا۔

شہر کے اس بڑے دکاندار کا نام آئی ایم ایف خان تھا، اس دوران گاؤں کے کچھ آوارہ بدمعاش لڑکے بھی سیٹھ کی دکان میں اٹھنے بیٹھنے لگے اور مٹھیاں بھر بھر کر کھانے کی چیزیں کھانے لگے، آخر کار سیٹھ نے تنگ آکر ایک دن اس بدمعاشوں سے کہا کہ میری ساری آمدنی تو تم کھا جاتے ہو مہربانی کر کے جو کچھ کھاؤ اس کے پیسے دیا کرو، بدمعاشوں کو یہ بات بری لگی لیکن براہ راست کچھ کہنے کے بجائے میٹھی چھری چلائی اب وہ چیزوں کے پیسے دیتے تھے لیکن دکان میں اٹھنا بیٹھنا نہیں چھوڑا، آخر ایک دن انھوں نے سیٹھ کو سبق سکھانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا۔ انھوں نے سیٹھ کو خبر سنائی کہ کچھ ہی دنوں میں امریکا پاکستان سے بہت بڑی تعداد میں بلیاں درآمد کرنے والا ہے اور جب یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا تو بلیاں بکریوں اور مرغیوں کے بھاؤ بکنا شروع ہو جائیں گی۔

سیٹھ نے سوچا یہ تو بڑا اچھا موقع ہے چنانچہ اس نے شہر کے دکاندار سے بھاری مقدار میں ادھار پر سودا لانا شروع کیا اور اسے بیچ بیچ کر بلیاں خریدنا شروع کیں وہ آوارہ بدمعاش تو اسی تاک میں تھے چنانچہ یہاں وہاں سے بلیاں پکڑتے اور کسی اور کے ذریعے سیٹھ کے ہاتھ فروخت کرتے، بلیوں کو رکھنے کے لیے اس نے ایک الگ گودام بھی کرائے پر لیا اور بلیاں خرید خرید کر اس میں جمع کرنے لگا جب کوئی ڈیڑھ دو سو بلیاں جمع ہو گئیں تو آوارہ بدمعاشوں نے دوسری چال چلی ایک دن غمگین صورت بنا کر آئے اور سیٹھ کو خبر سنائی کہ امریکا نے غداری کرتے ہوئے بلیوں کا سودا بھارت سے کر لیا، سیٹھ سن ہو کر رہ گیا اپنا سارا کچھ بلیوں پر خرچ کر چکا تھا بلیاں کھاتی بھی رہتی تھیں دکان خالی ہو گئی اور شہر کے دکاندار آئی ایم ایف خان کے اتنے بڑے ادھار کا پہاڑ اس کے کاندھوں پر گر گیا، اب وہ بیٹھا رہتا تھا کوئی سودا لینے آتا تھا تو پوچھتا سیٹھ بجلی ہے۔

سیٹھ جس نے بلیوں کا نام جمہوریت رکھ لیا تھا اس کے جواب میں کہتا بجلی تو نہیں ہے لیکن جمہوریت ہے، دوسرا آتا ۔۔۔ سیٹھ چینی ہے؟ سیٹھ آہ بھر کر کہتا چینی نہیں ہے لیکن جمہوریت بہت ہے کتنی چاہیے وہ شخص منہ بنا کر چلا جاتا تو تیسرا آتا، سیٹھ گیس ہے؟ سیٹھ کہتا گیس کو چھوڑو جمہوریت بھی اچھی ہے میرے پاس ہے، سیدھا سادا حل تو اس کا یہ تھا کہ دروازہ کھول کر بلیوں یعنی جمہوریت کو بھگا دیتا لیکن بہت سارا سرمایہ ان پر خرچ ہو چکا تھا اور بلیاں جو کچھ کھاتی رہتی تھیں وہ الگ… ایسے مفت میں کیسے چھوڑ سکتا تھا، ادھر آئی ایم ایف خان کے تقاضے بڑھتے چلے جا رہے تھے روزانہ یا تو چٹ بھیجتا یا تقاضے کے لیے آدمی بھجواتا، سیٹھ اسے تسلی دیتا کہ فکر نہ کرو میرے پاس جمہوریت کا بڑا اسٹاک پڑا ہے بس ذرا امریکا کو جمہوریت برآمد کرنے دو پھر دیکھنا ۔۔۔۔ وارے نیارے ہو جائیں گے لیکن ظالم امریکا بدستور بھارت کی جمہوریت پر لٹو ہو رہا ہے اس کا خیال ہے کہ پاکستان کی بلیاں عرف جمہوریت کچھ اچھی نسل کی نہیں اس لیے بھارت سے ہی معاہدہ چلتا رہے گا، بے چارا سیٹھ اب بھی دکان کے باہر ایک پیٹی پر بیٹھا رہتا ہے گاہک پوچھتے ہیں‘ سیٹھ بجلی ہے؟

نہیں لیکن جمہوریت ہے
لیکن کوئی ظالم جمہوریت خریدتا ہی نہیں صرف بجلی پٹرولیم اور آٹا چینی کو ہی پوچھ رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔