ڈیموں کی تعمیر، اوورسیز کیلیے سیونگ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا فیصلہ

ارشاد انصاری  منگل 11 ستمبر 2018
ضروری ترامیم کے بعد اعلان کیاجائیگا،مقصدترسیلات زربڑھانا اورملکی مالی ضروریات پوری کرنے کیلیے وسائل پیدا کرنا ہے،وفاقی وزارت خزانہ۔ فوٹو: فائل

ضروری ترامیم کے بعد اعلان کیاجائیگا،مقصدترسیلات زربڑھانا اورملکی مالی ضروریات پوری کرنے کیلیے وسائل پیدا کرنا ہے،وفاقی وزارت خزانہ۔ فوٹو: فائل

اسلام آ باد:  وفاقی حکومت نے اوور سیز پاکستانیوں کے لیے اوور سیز پاکستانیز سیونگ سرٹیفکیٹ کو دیا میر بھاشا ڈیم کے ساتھ منسلک کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اور ڈیم کی تعمیر کے دورانیہ پر محیط بانڈز و سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے اس کے علاوہ شریعہ بانڈ سمیت مزید تین بچت اسکیمیں بھی متعارف کرائی جائیں گی۔

وزارت خزانہ کے سینئر افسر نے بتایا کہ اوور سیز پاکستانیز سیونگ سرٹیفکیٹ اور شریعہ بانڈ کی اسکیموں کے مسودے تیار ہیں اور پہلے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈیم فنڈ کے اعلان کے موقع پر جاری کردہ ویڈیو پیغام میں ان سرٹیفکیٹس کا اعلان بھی شامل تھا مگر اس حوالے سے چونکہ ابھی ورکنگ مکمل نہیں ہوئی تھی اس لیے اس پغام میں اسے شامل نہیں کیا گیا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں محکمہ قومی بچت کے سابق ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ان بچت اسکیموں کے بارے میں جامع بریفنگ دی جاچکی ہے تاہم اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دیا میر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر سے ان اسکیموں کو منسلک کردیا جائے اور اس بارے میں ورکنگ کی جائے گی جس میں اوور سیز پاکستانیز سیونگ سرٹیفکیٹ و بانڈز کے لیے منافع کی شرح اور اس کے دورانیے کا تعین کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جو تجویز زیر غور ہے اس کے تحت حکومت  اوور سیز پاکستانیز سیونگ سرٹیفکیٹ و بانڈز کی مدت  5 سے 7 سال رکھنے پر غور کررہی ہے اور ان بانڈز کو مقررہ میعاد تک ناقابل کیش رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ جتنے عرصے کے لیے یہ بانڈز و سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے اس عرصے تک انہیں کیش نہیں کروایا جا سکے گا تاکہ ڈیموں کی تعمیر کے لیے فنڈز حاصل ہوجائیں اور حکومت پر مالی بوجھ و دباؤ بھی کم سے کم پڑے تاہم ان بانڈز و سرٹیفکیٹس پر سرمایہ کاروں کو اعلان کردہ شرح کے مطابق منافع فراہم کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مذکورہ سینئر افسر نے گزشتہ روز (پیر) ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ محکمہ قومی بچت کی جانب سے نئی بچت اسکیموںکی سمری تیار کی گئی تھی اب اس میں ضروری ترامیم کی جائیں گی جس کے بعد ان بچت اسکیموں کا اعلان کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوور سیز پاکستانیز سیونگ سرٹیفکیٹ اور شریعہ بانڈ کی اسکیموں کا بنیادی مقصد ترسیلات زر کو بڑھانا اور ملک کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے  خود سے وسائل پیدا کرنا ہے۔

محکمہ قومی بچت کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے شریعہ بانڈز کی ملک کی اسٹاک مارکیٹ پر ٹریڈنگ ہوگی اور ان بانڈز میں ملکی و غیر ملکی خصوصاً اوور سیز پاکستانیز سرمایہ کاری کرسکیں گے جبکہ اوور سیز پاکستانیز سیونگ بانڈز بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے لیے ہوں گے اور وہ اس اسکیم میں سرمایہ کاری کرسکیں گے جس کے لیے بیرون ممالک میں خصوصی کاؤنٹرز بھی قائم کیے جائیں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ شریعہ بانڈز بھی جاری کیے جائیں گے اور ان شریعہ بانڈز کو اسٹاک مارکیٹ میں ان لسٹ کروایا جائے گا جہاں ان بانڈز کی ٹریڈنگ ہوگی۔ علاوہ ازیں ان بانڈز کو غیر ملکی اسٹاک ایکسچینج پر ٹریڈنگ کے لیے ان لسٹ کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔