چھوٹی بڑی سوچ 

سعد اللہ جان برق  بدھ 12 ستمبر 2018
barq@email.com

[email protected]

لگتا ہے تبدیلی آ رہی ہے، بلکہ آ چکی ہے۔ ہم کسی اور جگہ کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے اندر کی بات کر رہے ہیں۔ کہ ہمیں آج کل ایسا لگنے لگا ہے جیسے تبدیلی آرہی ہے کیونکہ ہم کو کچھ کا کچھ دکھائی دینے لگا ہے۔

پہلے ہم جسے ’’انناس ‘‘ سمجھتے تھے وہ آج کل عورت دکھائی دیتی ہے اور پہلے جو عورت لگتی تھی آج کل ’’شوہر‘‘ لگنے لگی ہے اور جو پہلے شوہر تھا وہ آج کل ’’شوفر‘‘ لگتا ہے، جس کی آدھی زندگی مالک کی ’’بس‘‘ چلانے میں گزر جاتی ہے اور باقی آدھی ’’بیوی‘‘ کے ’’بس‘‘ میں چلتی ہے۔ آپ بالکل یقین نہیں کریں گے کہ چشم گل چشم عرف ڈینگی عرف قہر خداوندی ہمیں بالکل علامہ بریانی عرف برڈ فلو دکھائی دیتا ہے اور یہ دونوں ڈاکٹر امرود مردود کی طرح لگنے لگتے ہیں۔

آپ نے اکثر ایسی خبریں اخباروں میں پڑھی ہوں گی کہ کسی نے اسی سال کی عمر میں میٹرک پاس کی، کسی نے نوے سال کی عمر میں گریجویشن کرلی یا کسی نے نناوے سال کی عمر میں ’’مائیگریشن‘‘ کے  بجائے وکالت کا امتحان پاس کیا۔

کچھ ایسا ہی سلسلہ آج کل ہمارے ساتھ بھی ہو رہا ہے کہ جو سیکھنے کی عمر تھی وہ ہم نے نہ ’’سیکھنے‘‘ میں گزاری ہے اور اب اس ’’کچھ بھی نہ سیکھنے‘‘ کی عمر میں سیکھنے کا بخار ایسا چڑھا ہے کہ کسی گاڑی کے ہارن کو سنتے ہیں تو اس میں بھی ’’معنی‘‘ بلکہ فلسفہ دریافت کر لیتے ہیں۔ کسی جانور کو دیکھ کر ہم اس کا ہمشکل سیاست دانوں میں ڈھونڈتے ہیں اور کسی سیاستدان کو دیکھ کر ہم اس کا جڑواں کسی ’’زو‘‘ میں تلاش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ’’تبدیلی‘‘ نہیں تو اور کیا ہے۔ بلکہ اب تو ہمیں ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں اتنے تبدیل نہ ہو جائیں کہ آئینے کو دیکھ کر یہ نہ کہنے لگیں کہ کون ہے یہ آدمی؟

ایک بات اس تبدیلی کی توہم نے آپ کو بتائی ہی ہے کہ چونکہ اقوال زرین تصنیف کرنے والے بزرگ سارے کے سارے گزرگ ہو چکے ہیں اور ان کے اقوال زرین بھی  ایکسپائر ہو چکے ہیں اس لیے ہم ان کو الٹا کر پڑھتے ہیں۔ اور یہ بھی بتایا تھا کہ ایک بزرگ جس کا قول زرین ہے کہ میں نے ساری عقل احمقوں سے سیکھی ہے اسے آج کل ہم الٹ کر استعمال کرتے ہوئے دانا دانشوروں سے حماقتیں سیکھتے ہیں۔ لیکن ابھی ابھی ایک اور تبدیلی ہم اپنے اندر محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہم ’’فلسفہ‘‘ کتابوں کے بجائے اشتہاروں سے سیکھتے ہیں، خاص طور پر پڑوسی ملک کے چینلوں پر ’’فلسفے‘‘ سے بھر پور اشتہار دیکھ کر تو ہمیں لگتا ہے کہ کہیں پڑوسی ملک کا نام ’’یونان‘‘ نہ پڑ جائے۔

صرف فلسفہ ہی نہیں ان اشتہاروں میں علم طب، علم ہندسہ، علم ہئیت اور منطق تک ہوتا ہے۔ ’’طب‘‘ کا علم تو خیر انھوں نے سب کا سب اشتہاروں میں ڈالا ہوا ہے، صرف ایک صابن لو اور چارسو بیماریوں سے نجات حاصل کرو۔ ایک ٹوتھ پیسٹ لو اور ہر مرض سے نجات پالو، ایک شیمپو استعمال کرو اور سیمسن آف ڈیلالہ بن جائو۔

لیکن اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے مثلا ان دنوں ایک اشتہار جو ہے واشنگ پائوڈر کا لیکن فلسفے سے اتنا بھر پور ہے کہ اب تک کے سارے علوم اور فلسفوں کو الٹ پلٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ بلکہ اقتصادیات اور معاشیات کو بھی واش کر دیا ہے، جسے ہمارے ہاں کے کچھ سرکاری ادارے ایک چٹکی واشنگ پائوڈر سے جدی پشتی کالے داغوں کو چاند ستارے بنا دیتے ہیں۔

ایک ماں کا دس روپے کا نوٹ گر جاتا ہے۔ ایک چھوٹا سا لڑکا اس نوٹ کو پانے کے لیے سارا لباس اور ہاتھ، پیر،چہرہ کیچڑ میں لت پت کر دیتا ہے اور نوٹ لا کر ماں یا دادی کے ہاتھ پر رکھتا ہے، دوسری عورت اس کے لباس اور چہرے مہرے کو دیکھتی ہے لیکن ماں کہتی ہے کوئی بات نہیں دس روپے کے پائوڈر سے یہ سب کچھ صاف ہو جائے گا۔ گویا وہ دس روپے کا نوٹ ’’مل کر‘‘ بھی نہیں ملا۔ بتائیے؟

کیا آپ کو اس اشتہار میں فلسفہ اقتصادیات۔ معاشیات اورمالیات دکھائی دیا؟ نہیں دکھائی دیا ہو گا کیونکہ آپ کو کچھ دکھائی دیتا تو یہ حاجت کیوں ہوتی؟ لیکن ہمیں دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ہمارے اند ر تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ کہ ’’جان اور بچہ ‘‘ دونوں گئے بھاڑ میں۔نوٹ واشنگ پائوڈر والوں کو ملا اوران دونوں ماں سے بیٹے کو مفت کی مشقت۔

لیکن یہ تو معمولی فلسفہ ہے، ایک اور اشتہار جو اس سے بھی چھوٹا ہے لیکن اس میں چھوٹے بڑے کا بہت بڑا فلسفہ بیان کیا گیا ہے، سب سے پہلا فائدہ تو ہمیں یہ حاصل ہو گیا کہ ہم نے دنیا کی اس ’’مظلوم ترین‘‘ مخلوق بچشم خود دیکھ لیا جس کے بارے میں اب تک صرف سنتے آئے تھے یعنی ’’شوہر‘‘ ۔

مظلوم شوہر ویسے ہم نے بہت دیکھے اور پڑھے ہیں، آپ نے بھی دیکھے سنے ہوں گے اگر نہیں تو ابھی دکھا دیتے ہیں، کسی بھی قریبی آئینے میں جا کر آپ اس سے مل سکتے ہیں، ویسے تو اشتہار چھوٹا ہے لیکن یوں کہیے کہ کوزے میں سمندر یا سمندر میں ’’کوزہ‘‘ ہے۔ اس مضمون کا ایک خوبصورت پشتو ٹپہ بھی یاد آرہا ہے اگرچہ اس کا مضمون دوسرا ہے۔

خلق بہ وائی چہ وڑہ دہ

وڑے زما یہ زڑہ چڑے منڈلی دینہ

یعنی لوگ تو کہیں گے کہ ’’چھوٹی‘‘ ہے لیکن اس ’’چھوٹی‘‘ نے میرے دل میں خنجر گھونپے  ہیں،

شوہر اور بیوی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی بیٹی جو ایک پائوں جوانی اور دوسرا بچپن کی سرحد پر رکھے ہوئے ہے، آتی ہے اور اپنا لباس دکھاتی ہے جو آج کل پڑوسی ملک کا خاص الخاص یا قومی لباس ہے۔جو فصیح و بلیغ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ بچارا شوہر اپنے لہجے میں تمام تر مسکینی، بے چارگی اور لجاجت بھر کر کہتا ہے،

یہ کچھ زیادہ چھوٹے نہیں؟

بیوی ایک کو برا کی طرح کہتی ہے۔ چھوٹے کپڑے نہیں ’’سوچ‘‘ ہوتی ہے۔

اب آپ اس لباس اور اس چھوٹی بڑی ’’سوچ‘‘ پر سوچتے رہیے اور جتنا بھی سوچیں گے اپنی سوچ چھوٹی ہوئی چلی جائے گی۔ اس شوہر کی طرح جو پہلے غبارہ تھا لیکن بیوی کے سوئی چھبونے کے بعد ربڑ کا ایک چتھڑا  ہو کر رہ گیا تھا۔

لیکن لڑکی نے ماں کی اس لوہار والی ضرب کو سن کر باپ کی طرف کچھ ایسا دیکھا اور ایسا اشارہ کیا جسے وہ اس کا باپ نہ ہو گندگی کا ڈھیر ہو ۔ اور پھر کہیں سے اٹھا کر ماں کو بسکٹ کا وہ ڈبہ بطور میڈل پیش کیا جس کا یہ اشتہار تھا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔