آٹے سے لوڈشیڈنگ تک

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 30 مئ 2013
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

[email protected]

چھلے دنوں حکومت نے آٹے کی قیمت میں کمی کا جو ایک دلچسپ اور حیرت انگیز اعلان کیا تھا، وہ یہ تھا کہ 33 روپے کلو فروخت ہونے والے آٹے کی قیمت یہ کہتے ہوئے 2 روپے کم کرکے 34 روپے کلو کردی کہ نگراں حکومت عوام کو کم قیمت پر آٹا فراہم کرنا چاہتی ہے جس وقت یہ عوام دوست اعلان کیا گیا اس وقت کھلا آٹا 33 روپے کلو اور 10 کلو کا تھیلا 330 روپے کا مل رہی تھا۔

ہم نے اپنے ایک کالم میں نگراں حکومت کی اس فیاضی کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اس ہیرا پھیری کی تحقیق کی جائے جس میں محکمہ زراعت کراچی کی انتظامیہ اور فلورملوں کے مالکان ملوث ہیں اور کروڑوں روپوں کی کرپشن کا امکان ہے، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ ابھی پچھلے ہفتے اچانک آٹے کی فی کلو قیمت میں 4 روپے کا اضافہ کیا گیا۔ جو آٹا 35 روپے کلو فروخت ہورہا تھا اس کی قیمت 40-39 روپے کلو کردی گئی پھر دوسرے دن خبریں لگیں کہ یہ اضافہ واپس لے لیا گیا ہے۔

پہلی بات یہ کہ اضافہ ہرگز واپس نہیں لیا گیا بلکہ دھڑلے سے آٹا 40 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔ نگراں حکومت اور اس کی انتظامیہ کی خاموشی سے یہ اندازہ ہورہا ہے کہ پچھلی مہربانی کی طرح اس انتطامی مہربانی میں بھی وہی طاقتیں ملوث ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اور اس ہیرا پھیری میں بھی لگتا ہے کروڑوں کا گھپلا ہوگیا ہے۔

یہ کس قدر حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ حکمران فخر سے یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اس سال گندم اتنی وافر مقدار میں پیدا ہوئی ہے کہ بڑی مقدار میں ایکسپورٹ کرنے کے باوجود ابھی لاکھوں ٹن گندم سرکاری گوداموں میں پڑی ہوئی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر آٹے کی قیمت میں اضافے کا کیا جواز ہے۔ پچھلی بار جب آٹا سستا کرنے کے نام پر آٹا مہنگا کیا گیا تھا تو فلور ملوں نے یہ شور مچایا کہ انھیں ان کے کوٹے کے مطابق گندم سپلائی نہیں کی جارہی ہے اگر چہ حکومت کی جانب سے اس الزام کی تردید کردی گئی تھی لیکن آٹا بڑھی ہوئی قیمت پر ہی فروخت کیا جاتا رہا جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں وہی لوگ ملوث ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اچانک آٹے کی قیمت میں 4 روپے کلو کا اضافہ کیوں کیا گیا؟ اور 35 روپے کلو فروخت ہونے والا آٹا 40 روپے کلو کیوں فروخت ہورہا ہے؟ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پچھلی حکومت کے جاتے جاتے لوٹ مار کا جو بازار گرم کیا تھا ہماری نگراں حکومت بھی جاتے جاتے لوٹ مار کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔

پچھلے ہفتے غیر متوقع طور پر بجلی کی قیمت میں بھی فی یونٹ 5 روپے اضافے کا اعلان کیا گیا۔ فی یونٹ پانچ روپے کا یہ اضافہ کیوں کیا گیا؟ جب کہ بجلی کی 20-20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اور عوام سڑکوں پر آکر احتجاج کر رہے ہیں؟ اور زائد بلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 26 مئی کو ایک اور خوشخبری یہ سنائی گئی کہ ایل پی جی کی قیمت میں فی کلو 15 روپے کلو کا اضافہ کردیا گیا۔ سی این جی کی قلت کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ طاقت ور لوگ چاہ رہے ہیں کہ عوام سی این جی کے بجائے ایل پی جی استعمال کریں اور اس حوالے سے ایل پی جی کی قیمت مسلسل کم کی جاتی رہی 160 روپے کلو تک پہنچ جانے والی ایل پی جی کو 100 روپے کلو سے نیچے تک لایاگیا۔

ہماری مہربان حکومتوں نے پٹرول سے عوام کو سی این جی کی طرف لانے کے لیے سی این کی قیمت پٹرول سے قریباً 40-30 فیصد کم رکھی اس فرق کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے اپنی گاڑیوں کو پٹرول سے سی این جی پر منتقل کرالیا اور اس منتقلی پر چالیس سے زائد ہزار روپے خرچ کیے پھر یہ کیا گیا کہ بتدریج سی این جی کی قیمت بڑھائی گئیں اور ساتھ ہی ساتھ ہی ساتھ سی این جی کی قلت کا واویلا شروع ہوا جب کہ متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس اتنی سی این جی موجود ہے جو ہماری ضرورت پوری کرسکتی ہے۔

پٹرول سے سی این جی اور سی این جی سے ایل پی جی پر منتقلی کے لیے جو کٹس لگائی جاتی ہیں وہ باہر سے منگوائی جاتی ہیں یہ اربوں روپوں کا کاروبار ہے اور حکمراں طبقات یہ کاروبار کرنے والوں کو اپنی پالیسیوں کے ذریعے اربوں کی لوٹ مار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ جس کا جتنا جی چاہتا ہے قیمتوں میں اضافہ کردیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس لوٹ مار کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟اس کا انجام کیا ہوگا؟

ایک اور اطلاع کے مطابق پٹرولیم کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے (فی الوقت) نواز شریف نے ابھی تک وزارت عظمیٰ کی کرسی نہیں سنبھالی لیکن ایک ہونے والے وزیراعظم کی حیثیت سے کیا ان پر یہ ذمے داری نہیں آتی کہ وہ اس کا نوٹس لیں؟

ایک طبقہ فکر کا خیال ہے کہ گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ایک منصوبے کے تحت 20-18 گھنٹوں تک پہنچایا جارہا ہے جب مسلم لیگ حکومت سنبھال لے گی تو اس مصنوعی اور پیدا کردہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو کم کرکے عوام کو یہ باور کرایا جائے گا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کے مسائل حل کرنا شروع کردیے ہیں، ہوسکتا ہے یہ خیال درست نہ ہو، لیکن اہل سیاست اپنی کارکردگی دکھانے اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اس سے زیادہ گھٹیا طریقے اختیار کرتے رہتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس حد سے بڑھی ہوئی لوڈشیڈنگ میں کمی کرنے کے لیے اربوں کی جو منظوری دی جاتی رہی معلوم ہوا کہ وزارت خزانہ یہ رقوم جاری نہیں کی۔

آج کی تازہ اطلاعات کے مطابق نگراں وزیر اعظم نے بجلی کی اس 20-20 گھنٹے تک پہنچ جانے والی لوڈشیڈنگ میں کمی کرنے کے لیے ایک بار پھر 10 ارب روپوں کی منظوری دی ہے۔ اول تو اس بات کا خدشہ ہے کہ وزارت خزانہ یہ رقم جاری کرے گی بھی یا نہیں۔ اگر با لفرض محال یہ رقم جاری ہو بھی گئی تو اس سے لوڈشیڈنگ میں کتنی کمی آئے گی اور یہ کمی کتنے دنوں تک برقرار رہے گی؟

لوڈشیڈنگ کی اس بدترین صورت حال سے تنگ آئے ہوئے عوام ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے کر رہے ہیں جگہ جگہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں 11 ارب روپوں کے خرچ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کچھ کمی آئی ہے لیکن اس کمی کا سلسلہ کتنے دن رہے گا۔

ہماری سیاست میں سیاسی رہنماؤں کی دوسری جماعتوں میں عام بھرتی اور شمولیت کا معاملہ ہو پارٹیوں کی تبدیلی کا یاسیاسی اتحادوں کا ہر ایک کا بنیادی مقصد لوٹ مار کے مواقع حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ آج تک کوئی پارٹی بدلی، کوئی اتحاد مہنگائی کم کرنے، لوڈشیڈنگ ختم کرنے، آٹے ، بجلی گیس، ایل پی جی کی قیمتیں کرانے اور عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے کے لیے نہیں بنا نہ بنے گا۔

عوام سڑکوں پر بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور ہمارے وہ سیاستدان جو عوام کی تقدیر بدلنے ایک نیا پاکستان بنانے کے دعویدار ہیں انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں دھرنے دے رہے ہیں ایک دوسرے پر مینڈیٹ چرانے کے الزامات لگا رہے ہیں لیکن کسی میں اتنا احساس نہیں ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے کہ عوام نے انھیں یہ مینڈیٹ ایک دوسرے پر الزام تراشیوں، دھرنوں، مظاہروں اور مفاداتی سیاست کرنے کے لیے نہیں دیا تھا بلکہ اس لیے دیا تھا کہ وہ پانچ سال سے بے لگام مہنگائی، ناقابل برداشت لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کے جس جہنم میں جل رہے ہیں اس جہنم سے انھیں نجات دلائی جائے۔

لیکن زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا سیاستدانوں کو عوام کے مصائب سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ عوام کے مسائل سے لاتعلقی کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو عوام کا رخ بجلی گھروں، بجلی کے دفتروں کے بجائے حکمرانوں کے محلوں کی طرف نہ ہوجائے اگر ایسا ہوا تو نہ مینڈیٹ رہے گا نہ عام بھرتیوں کا سلسلہ رہے گا ، کیا ہمارے محترم مینڈیٹ بردار اس انجام سے باخبر ہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔