دو اچھے اور قیمتی انسان

امجد اسلام امجد  جمعرات 13 ستمبر 2018
Amjadislam@gmail.com

[email protected]

المیہ یہ نہیں کہ اچھے اور قیمتی انسان اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں کہ موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی رخصت کے بعد ان سے ملتے جلتے یا ان کی طرح کے لوگوں کو ڈھونڈنا مشکل ہوگیا ہے۔ یوں یہ نقصان ان کے خونی رشتوں اور قریبی لوگوں کا تو ہوتا ہی ہے مگر اس کی زد میں پورا معاشرہ بھی آجاتا ہے۔

یوں تو سائنسی اصول کے مطابق ہر خلا کی طرح ان کا پیدا کردہ خلا بھی پر ہوجاتا ہے اور فطرت انسانی کے مطابق ان کی یاد اور غم بھی مدہم پڑنے لگ جاتے ہیں لیکن غور سے دیکھا جائے تو کچھ اچھے اور قیمتی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی نہ صرف یادیں بہت دیر تک زندہ رہتی ہیں بلکہ ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا بھی بھرنے کے باوجود بھر نہیں پاتا۔

11 ستمبر ہماری تاریخ کا ایک ایسا ہی دن ہے کہ اسی روز قیام پاکستان سے صرف سوا برس بعد قائد ہم سے جدا ہوگئے اور آج ستر برس بعد بھی نہ تو ان کا خلا پر ہوا ہے اور نہ ہی ان کی یاد اور محبت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ بہت دنوں کے بعد اس گیارہ ستمبر کو یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ قوم پھر سے ان کے پیغام ’’اتحاد، ایمان اور تنظیم‘‘ کے گرد جمع ہو رہی ہے۔ دعا ہے کہ یہ امید عمل اور رویے میں تبدیل ہوکر ہمیں قائد کی روح کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچائے رکھے اور ان کی دعاؤں کا سایا ہم پر تاقیامت سلامت رہے۔

اور ان لوگوں کو بھی سلامت رکھے جنہوں نے اپنی زندگیاں ان کے پیغام کی تقلید اور تبلیغ کے نام کر رکھی ہیں اور جو اپنے عمل اور مثال سے اس کی آبیاری کررہے ہیں۔ مشیت کے فیصلوں پر بحث نہ تو ممکن ہے اور نہ جائز کہ یہ معاملہ اس رب کائنات کے حکم اور صوابدید کا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر موجود ہرچیز کا خالق و مالق ہے۔

وہی کسی معاشرے کو اچھے لوگ عطا کرتا ہے اور وہی ان کو واپس بھی لے لیتا ہے۔ لیکن ہر دو صورتوں میں وقت اور میعاد کا فیصلہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ ہم تو صرف یہ دعا ہی کرسکتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرے اور ان کو تادیر ہمارے درمیان موجود اور سلامت رکھے۔ ایسی ہی دو قیمتی اور اچھے انسان 10 اور 11 ستمبر کے دو دنوں کے درمیان واپس بلالیے گئے ہیں۔ میری مراد حسن صہیب مراد اور محترمہ کلثوم نواز شریف سے ہے۔ بلاشبہ یہ دونوں اللہ کے نیک بند ے اس کی مخلوق سے پیار کرنے والے اور اس تک خیر کا سلام اور سامان پہنچانے والوں میں سے تھے اور بلاشبہ ان کی رحلت سے دنیا دو بہت اچھے اور قیمتی انسانوں سے محروم ہوگئی ہے۔

حسن صہیب مراد سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی یہ تو مجھے ٹھیک سے یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ اس وقت بھی ان کے ہونٹوں پر وہی مخصوص دوستانہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں محبت کی چمک تھی جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہی۔ ان کے والد مرحوم ساری عمر جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت میں شامل رہے اور خود حسن مراد بھی جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی میں شاندار علمی مہارت کے باوجود نہ صرف دینی مزاج پر قائم رہے بلکہ اپنے قائم کردہ تعلیمی اور دیگر اداروں میں بھی انھوں نے ایک معتدل انداز میں دین اور اخلاق کی روایات کو آگے بڑھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

مجھے ان کے قائم کردہ ادارے یو ایم ٹی کی کئی تقریبات میں شمولیت کا موقع ملا ہے اور ہر بار میں وہاں کے اساتذہ، طلبہ اور ماحول کے بارے میں ایک خوشگوار تاثر لے کر لوٹا ہوں۔ انھوں نے جس طرح سے اس یونیورسٹی میں پڑھنے والوں کی ذہنی فکری اور تہذیبی سطح پر تربیت کے لیے مختلف تعمیری اقدامات کیے اور تعلیمی ڈگری کے ساتھ ساتھ ان کے دل و دماغ میں ادب، فنون لطیفہ، معاشرت اور محنت کو فروغ دیا وہ بے حد لائق تحسین ہے۔

چند ماہ قبل ہونے والی آخری ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے اپنے پریس کے قیام، لاہوری ناشتے اور ادیبوں اور کتابوں سے ملاقات کے پروگراموں کے بعد اب وہ ترقی یافتہ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں کی طرح اس کو ایسا ادارہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں، جہاں سے نکلنے والے بچے بیک وقت نیشنل بھی ہوں اور انٹرنیشنل بھی تاکہ وہ دنیا سے کچھ لینے کے ساتھ ساتھ اسے کچھ دے بھی سکیں اور خود ان کی اپنی شخصیت بھی مستقبل اور ماضی سے دونوں سے رشتہ آرا ہو۔ دعا کرنی چاہیے کہ ان کے بعد آنے والے اس مشن کو آگے بڑھانے کے اہل بھی ہوں اور دل سے قائل بھی کہ یہی ان کی یاد اور خدمات کو قائم رکھنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔

محترمہ کلثوم نواز شریف کی رحلت بھی ان کے خاندان اور عزیز و اقارب کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ اور نقصان ہے کہ وہ ایک بہت نیک، قیمتی اور غیر معمولی انسان تھیں اور صحیح معنوں میں ان مشرقی روایات کا نمونہ اور بدلتی ہوئی زندگی کا بہترین شعور رکھنے والی خاتون تھیں کہ نہ صرف انھوں نے 47 سالہ طویل ازدواجی رفاقت میں میاں محمد نواز شریف کا بھر پور ساتھ دیا بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کے مشن اور تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے خود بھی میدان میں آگئیں۔

اب یہ ان کے مزاج اور تربیت کا کمال ہے کہ وہ بہت سے دوسروں کی طرح اقتدار اور شہرت کے نشے کی اسیر نہیں ہوئیں بلکہ دوبارہ اسی اطمینان اور ذمے داری سے اپنے فرائض کو ادا کرنے لگ گئیں جن کا دائرہ ایک شفیق ماں، وفا شعار بیوی اور محبت اور خیر بانٹنے والے انسان کے گرد گھومتا تھا۔ وہ رستم زماں گاماں پہلوان کی نواسی، اُردو ادب میں ایم اے، تین بار پاکستان کی خاتون اول اور شریف خاندان کی عمارت کا مرکزی ستون تھیں اور انھوں نے ہر کام بہت محنت، مہارت اور محبت سے کیا۔ سیاسی کلچر کی معروف نعرہ بازی اور جذباتی گرم مزاجی کے باوجود ان کا شمار ان چند لوگوں میں ہوتا ہے جنھیں ہمیشہ عزت اور احترام کی نظروں سے دیکھا گیا۔

مجھے بہت خوشی ہے کہ برادرم اعتزاز احسن نے ان کی وفات کے بعد ان سے اپنے کسی رو میں کہے ہوئے کچھ ناخوشگوار الفاظ کی معافی مانگی اور بہت کھلے دل سے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ رب کریم ان کی روح کو اپنی امان میں رکھے اور ان کے پسماندگان سمیت ہم سب کو ان کی قائم کردہ اعلیٰ تہذیبی روایات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے کہ اب یہی وہ واحد تحفہ ہے جو ہماری طرف سے ان کو پہنچ سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔