گیس کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ؟

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 13 ستمبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

عمران خان کی پارٹی پہلی بار اقتدار میں آئی ہے، اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد عمران خان نے عوام کو ان کے مسئلے حل کرنے اور مراعات دینے کا وعدہ کیا تھا اور عوام نے ماضی کی کرپٹ حکومتوں کے مقابلے میں عمران خان کی نئی حکومت سے بہت توقعات وابستہ کرلی تھیں۔ ویسے بھی کوئی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے تو عوام کو کچھ نہ کچھ سہولتیں فراہم کرتی ہے کہ عوام نئی حکومت سے بدظن نہ ہوں اور اس کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔ عمران خان کو حکومت سنبھالے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا کہ موصوف نے گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد اضافہ کرنے کی منظوری دے دی اور میڈیا میں یہ خبر بڑی سرخیوں کے ساتھ شایع ہوئی۔

اس حوالے سے گیس کی انتظامیہ نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ پچھلی حکومت نے چار سال کے عرصے میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرنے دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گیس انتظامیہ نے سابقہ حکومت کو وہ حقائق بتاکر گیس کی قیمتوں میں اضافے کے لیے قائل کیوں نہ کیا۔ گیس انتظامیہ کو پتا ہے کہ موجودہ حکومت پہلی بار اقتدار میں آئی ہے اور عوام اس حکومت سے بہت ساری توقعات باندھے ہوئے ہیں۔ گیس انتظامیہ کو یہ بھی علم ہوگا کہ اگر کوئی حکومت اقتدار سنبھالتے ہی کسی ضروری چیز کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے تو عوام اس سے مایوس ہوجاتے ہیں اور اپوزیشن عوام کی اس مایوسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گیس انتظامیہ کو یہ بھی علم ہوگا کہ ماضی کی اشرافیائی حکومتیں موجودہ مڈل کلاس حکومت کی کس قدر شدید مخالف ہیں۔

گیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومت نے چار سال تک گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرنے دیا، گیس انتظامیہ نے چار سال تک گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کو کس طرح قبول کرلیا اور موجودہ حکومت کو برسر اقتدار آتے ہوئے ہفتہ بھر بھی نہیں ہوا کہ گیس انتظامیہ نئی حکومت کے سر پر سوار ہوگئی اور 5، 10 فیصد اضافے کی تجویز پیش نہیں بلکہ 180 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی۔ کیا گیس انتظامیہ یہ بتاسکتی ہے کہ سابقہ حکومتوں کے دور میں گیس انتظامیہ نے 180 فیصد اضافے کی کبھی تجویز پیش کی تھی اور کیا کسی حکومت نے اس کی اس طرح کی تجویز منظور کی تھی۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ گیس کی لائن لاسز میں کمپنی کو سالانہ 50 ارب روپوں کا نقصان ہوتا ہے۔

لائن لاسز کا بہانہ کے الیکٹرک بھی کرتی ہے اور اس حوالے سے قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالتی ہے۔ لائن لاسز کی ذمے داری کمپنی پر عائد ہوتی ہے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ  چار سال تک لائن لاسز کس طرح برداشت کیا جاتا رہا اور موجودہ حکومت کو برسر اقتدار آئے ہفتہ بھر بھی نہیں ہوا کہ  حکومت کو 180 فیصد اضافے کی تجویز پیش کردی گئی اور 46 فیصد اضافہ منوالیا۔ کمپنی کو فی الوقت الگ رکھیے، ہم حکومت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اس نے گیس کمپنی کو 46 فیصد اضافے کی اجازت کیوں دی؟

اگر ماضی میں چار سال تک حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا تو موجودہ عوامی حکومت کے سر پر ایسا کون سا پہاڑ رکھ دیا تھا کہ ایک ہفتے میں عوام کو اس نے پہلا تحفہ گیس کی قیمت میں اضافے کی شکل میں دے دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری نئی حکومت کو نہ عوامی نفسیات کا پتا نظر آتا ہے نہ بیورو کریسی کی سازشوں سے وہ واقف ہے، لیکن یہ موٹی سی بات ایک عام آدمی کی سمجھ میں آسکتی ہے کوئی ایسی نئی حکومت جس نے عوام کو ان کے مسائل حل کرنے کے لیے غیر معمولی امید دلائی ہوں، اگر وہ ایک ہفتے کے اندر عوام کی بنیادی ضرورت کی چیز یعنی گیس کی قیمتوں میں اچانک 46 فیصد اضافہ کردے تو عوام کا ردعمل کیا ہوگا؟

71 سال سے ملک پر شاہانہ اقتدار برقرار رکھنے والی اشرافیہ اس وقت ماہی بے آب کی  طرح تڑپ رہی ہے اور پوری توجہ کے ساتھ حکومت کے اقدامات کو دیکھ رہی ہے، عوام کو متاثر کرنے والے کسی معمولی سے حکومتی اقدام کو وہ میڈیا میں پہاڑ بناکر پیش کرے گی، اس حقیقت کے پیش نظر ہماری عوامی حکومت کا فرض ہے کہ عوام کو متاثر کرنے والے اقدام کو سو بار گہرائی سے دیکھے، اگر پچھلے چار سال سے ماضی کی اشرافیائی حکومت نے گیس کی قیمت نہیں بڑھائی تھی تو کون سا طوفان اٹھا تھا جس کے خوف سے ہماری عوامی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد اضافے کا تحفہ دے دیا۔

ہماری عوامی حکومت کو شاید اندازہ ہو کہ اس احمقانہ اقدام سے عوام پر کیا اثر پڑے گا اور اپوزیشن خصوصاً چوٹ کھائی ہوئی اپوزیشن اس اقدام سے کس قدر سیاسی فائدہ اٹھائے گی۔ لٹیری حکومتوں کے ستائے ہوئے عوام نئی مڈل کلاس حکومت سے بے شمار توقعات باندھے بیٹھے ہیں۔ اگر ان کی امیدوں پر گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد اضافے کی لاٹھی مار دی جائے تو ان کا رد عمل کیا ہوگا؟

بلاشبہ نئی حکومت میں شامل نئے لوگ ناتجربہ کار ہیں، لیکن عام انسان میں بھی یہ نہیں ہوتا کہ اگر کوئی ایسی نئی حکومت اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد عوامی استعمال کی ایک ضروری چیز کی قیمت میں ایک دم 64 فیصد اضافہ کردے تو رائے عامہ کس قدر مشتعل ہوسکتی ہے۔

عمران حکومت کے کارندوں کو یقیناً اتنا شعور اور اتنی عقل تو ہوگی کہ کس کام کو کس طرح کرنا چاہیے، اگر گیس کی قیمت میں اضافہ کرنا تھا تو لائن لاسز میں کمی کرکے اس اضافے کو پورا کیا جاسکتا تھا اور نہ سہی اتنا تو کیا جاسکتا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کو اضافہ برداشت کرنے میں وقت اور سہولت مل سکے۔ ماضی کی حکومت نے گیس کی قیمت میں چار سال تک اضافہ کیوں نہیں کیا، کیا حکومت عوام کی ہمدرد تھی؟ ایسا نہیں بلکہ ہر کام کو حکومتیں نہ عجلت میں کرتی ہیں نہ ایک دم عوام کے سر پر ڈنڈا ماردیتی ہیں کاش ہماری عوامی حکومت کو عوام کے احساسات کا اندازہ ہو۔اب سنا ہے کہ وزیر اعظم نے گیس کی قیمت میں 46فیصد اضافے کا فیصلہ روک لیا ہے،اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔