لیاقت آباد : سڑکوں پر رکشا اسٹینڈ قائم ٹریفک جام معمول بن گیا

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 31 مئ 2013
لیاقت آباد10نمبر انڈ ر پاس کے اطراف شوروم مالکان نے فٹ پاتھ اورسڑک پر گاڑیاں جبکہ رکشا ڈرائیوروں نے اپنے رکشے کھڑے کرکے راستہ مسدود کردیا ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس

لیاقت آباد10نمبر انڈ ر پاس کے اطراف شوروم مالکان نے فٹ پاتھ اورسڑک پر گاڑیاں جبکہ رکشا ڈرائیوروں نے اپنے رکشے کھڑے کرکے راستہ مسدود کردیا ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی:  لیاقت آباد میں رینٹ ا ے کار کے شورومز اور چنگ چی رکشوں نے علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن بنا دی ، فٹ پاتھ اور سڑک پر گاڑیاں کھڑی کرنے کے بعد بچ جانے والی سڑک پرچنگ چی رکشے کھڑے ہونے سے ٹریفک کے مسائل بدترین شکل اختیار کرگئے۔

پیدل چلنے والوں کومجبوری میں جان خطرے میں ڈال کر سڑک کے وسط سے گزرنا پڑرہا ہے، فٹ پاتھوں اورسڑکوں پر قبضے کے خلاف کارروائی نہ کرنے پرمیونسپل ایڈمنسٹریشن کو مبینہ طور پر بھاری نذرانہ پہنچایا جا رہا ہے،تفصیلات کے مطابق لیاقت آباد انڈر پاس الاعظم اسکوائر کے قریب کار شورومز کے مالکان کی جانب سے گاڑیاں فٹ پاتھ پر کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ سڑک کے کنارے گاڑیوں کو پارک کرنے کی وجہ سے اس مقام سے گزرنے والے شہریوں کو نہ صرف شدید مشکلات اور دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

بلکہ ٹریفک جام کی صورتحال بھی بدترین شکل اختیار کرگئی ہے،شورومز مالکان کی جانب سے فٹ پاتھ اور سڑک پر قبضے کے بعد بچ جانے والی سڑک پر چنگی رکشے کھڑے کردیے گئے ہیں جس کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کا وہاں سے گزرنا محال ہوگیا ،علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شورومز مالکان کی جانب سے فٹ پاتھ پرگاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے میونسپل ایڈمنسٹریشن کو مبینہ طور پر بھاری نذرانہ ادا کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تاحال متعلقہ عملے نے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شورومز مافیا اور چنگی مافیا نے ان کی زندگی کو نہ صرف اجیرن بنا دیا ہے بلکہ اس مقام پر ٹریفک جام رہنا معمول بن گیاہے ، شام کے اوقات میں تو صورتحال انتہائی گھمبیر ہو جاتی ہے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں ، سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد سے آنے والا ٹریفک اور لیاقت آباد فلائی اوورسے غریب آباد کی جانب جانے والے ٹریفک کو الاعظم اسکوائر کے سامنے غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کا حق ہوتا ہے اور وہ حق متعلقہ عملے نے شہریوں سے اپنے مفادات اور خواہشات کی تکمیل کیلیے چھین لیا ہے،مکینوں کا کہنا ہے کہ کئی بار لیاقت آباد ٹاؤن کے متعلقہ افسران کی توجہ اس جانب دلائی گئی تاہم کارروائی نہیں کی گئی بلکہ پراسرار خاموشی اپنائی جاتی رہی جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کہیں کچھ نہ کچھ لین دین ضرور چل رہا ہے ،مکینوں کا کہنا ہے کہ جو متعلقہ عملے کی ضروریات پوری نہیں کرتے ان کے خلاف تجاوزات کے نام پر دکھاوے کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اورمتعلقہ محکمے کے افسران ماتحت عملے کے ساتھ وہاں پر کھڑے ہو کر ایسے تصاویر بنواتے ہیں جیسے تمام کام قانون کے ہورہے ہوں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے لیاقت آباد کے علاقے الآعظم اسکوائر ،لیاقت آباد سپر مارکیٹ اور ڈاکخانے سمیت ملحقہ علاقوں میں چنگی رکشاؤں نے نہ صرف ٹریفک کا نظام درہم برہم کیا ہوا ہے بلکہ دن بھر ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑتے ہوئے دنداناتے پھرتے ہیں اور ٹریفک پولیس ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کرتی ہے جس کی وجہ مک مکا ہے ،علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی ڈاکٹر سیف الرحمٰن سے اپیل کی ہے کہ میونسپل کمشنر سمیت ماتحت عملے کو پابند کیا جائے کہ وہ تجاوزات کے خاتمے میں پسند اور ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر غیر جانبدارانہ کارروائی کو عمل میں لائیں تاکہ مکینوں کو فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قبضہ مافیا سے نجات مل سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔