لیختینستائن (Liechtenstein)، ایک ننھی منی ریاست

عارف محمود کسانہ  ہفتہ 15 ستمبر 2018
لیختینستائن کی آبادی 38 ہزار ہے جو پاکستان کے کسی بھی چھوٹے سے قصبے کی آبادی سے بھی کم ہوگی۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

لیختینستائن کی آبادی 38 ہزار ہے جو پاکستان کے کسی بھی چھوٹے سے قصبے کی آبادی سے بھی کم ہوگی۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

دومرتبہ پہلے جب سوئٹزرلینڈ کی سیاحت کا موقع ملا تو لیختینستائن (Liechtenstein) کو دیکھنے کی خواہش تھی، وہ اس لیے کہ آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان واقع اس ننھے منے ملک کو دیکھا جائے جس کی سیاحت کےلیے صرف چند گھنٹے ہی کا فی ہوں گے۔ لیکن کوشش کے باوجود ان دونوں مرتبہ ہم یورپ کے چوتھے سب سے چھوٹے ملک کی سیر نہ کرسکے جس وجہ دیگر سیاحتی مصروفیات تھیں لیکن اس بار اسے دیکھنے کا پختہ ارادہ تھا۔

ہمارا پانچ رکنی وفد جس میں مجھ سمیت میری اہلیہ، بیٹا، بہنوئی اور بہن شامل تھیں، ناشتے کے بعد عازم سفر ہوئے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل سے، جہاں ہمارا قیام تھا، روانہ ہوئے اور طے پایا کہ پہلے ہم پہلے آسٹریا جائیں گے اور پھر وہاں سے لیختینستائن سے ہوتے ہوئے براستہ زیورچ واپس باسل آجائیں گے۔ سوئٹزرلینڈ کی سیاحت کےلیے ہم نے باسل کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہ شہر تین ممالک فرانس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے سنگم پر واقع ہے اور یہاں سے ان تینوں ممالک کی سیر ممکن ہے۔

لیختینستائن مغربی یورپ میں سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کا مجموعی رقبہ 160 مربع کلومیٹر ہے یعنی رقبے میں یہ ضلع کراچی شرقی کے برابر ہے۔ اس کی آبادی 38 ہزار ہے جو پاکستان کے کسی بھی چھوٹے سے قصبے کی آبادی سے بھی کم ہوگی۔ یہ دنیا کا چھٹا اور یورپ کا چوتھا سب سے چھوٹا ملک ہے اور رقبے کے اعتبار سے دنیا کے ممالک کی فہرست میں 191 ویں مقام پر ہے۔ یورپ میں صرف ویٹیکن سٹی، مناکو اور سان مرینو اس سے چھوٹے ہیں۔ لیختینستائن کی لمبائی 25 کلومیٹر اور چوڑائی صرف 6 کلومیٹر ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل سے ناشتہ کے بعد ہم ہوٹل سے روانہ ہوئے اور تقریباً دو سو کلومیٹر کا سفر طے کرکے آسٹریا کے سرحدی شہر Feldkirch پہنچے۔ کسی بھی ملک یا شہر پہنچ کر سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ فیس بک کر ’’چیک ان‘‘ کیا جائے تاکہ سند رہے؛ اور دوسرا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اس شہر میں مقیم دوست احباب کو اطلاع ہوجاتی ہے۔ سوئٹزر لینڈ اور آسٹریا کے بارڈر پر نہ کوئی سرحدی محافظ ہے اور نہ ہی کوئی جانچ پڑتال۔ بس ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس پر یورپی یونین کا نشان اور AUSTRIA لکھا ہوا تھا۔

وہاں رک کر کچھ تصویریں بنوائیں اور سرحد پر یوں کھڑے تھے کہ ایک ٹانگ سوئٹزرلینڈ میں تو دوسری آسٹریا میں تھی۔ یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ میرے بہنوئی کو پاک بھارت سرحد یاد آگئی جہاں دنیا میں سب سے زیادہ سیکیورٹی ہوگی اور چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔

بہرحال، ہمارا قافلہ آگے بڑھا اور آسٹریا میں دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر ہم لیختینستائن کی طرف گامزن ہوئے۔ آسٹریا سے جب ہم لیختینستائن میں داخل ہونے لگے تو سرحد پر نگرانی کی جارہی تھی اور دو سپاہی کھڑے تھے جو اس ملک میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کو روک کر چیک کررہے تھے۔ یورپی یونین میں ایک سے دوسرے ملک میں داخلے کے وقت اکثر چیکنگ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہم سویڈن سے روانہ ہوئے اور ڈنمارک جرمنی، نیدرلینڈز، بلجیم، لکسمبرگ، فرانس، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا سے ہوتے ہوئے یہاں تک پہنچے لیکن کہیں بھی ہمیں روکا نہیں گیا۔ یہ خاص التزام شاید اس لیے تھا کہ اس ملک کے اندر آنے والوں کو احساس تو دلایا جائے کہ یہ یہ بھی ایک ملک ہے چاہے چھوٹا ہی سہی۔

میری اہلیہ گاڑی چلا رہی تھیں اور جانچ پڑتال کے مرحلے میں جب ہماری باری آئی تو سرحدی نگران نے ہمیں ایک نظر دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کی طرح یورپ میں بھی جب خاتون گاڑی چلا رہی ہو تو مروت برتی جاتی ہے۔

لیختینستائن کی اپنی فوج نہیں اور پولیس میں صرف 87 سپاہی اور 38 سویلین اسٹاف ہے۔ جرائم کی شرح دنیا بھر میں سب سے کم ہے اور اگر کسی کو دو سال سے زائد سزا دینی ہو تو اسے آسٹریا بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ ملک میں زیادہ عرصے تک قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہی نہیں۔

جونہی ہم نے سرحد پار کی تو ہمارے ٹیلی فون پر سویڈش ٹیلی فون کمپنی کی جانب سے پیغام آیا کہ اب آپ لیختینستائن میں ہیں لیکن یورپی یونین میں رومنگ ختم ہونے کی وجہ سے فون اور ڈیٹا استعمال کرنے کے کوئی اضافی اخراجات نہیں۔

لیختینستائن کا بین الاقوامی کالنگ کوڈ +423 ہے۔ یہ ایک کیتھولک عیسائی ملک ہے اور یہاں مسلمانوں کی تعداد چھ فیصد کے قریب ہے۔ کچھ پاکستانی بھی یہاں مقیم ہیں جس سے یہ بات سچ ثابت ہوجاتی ہے پاکستانی دنیا کے ہر حصے میں موجود ہیں۔

یہاں زیادہ تر جرمن زبان بولی جاتی ہے اور کرنسی سوئس فرانک ہے۔ یہاں سے ہم نے کوئی خریداری تو نہ کی لیکن گاڑی میں پیٹرول ضرور ڈلوایا اور ہوا بھری تاکہ کچھ تو اس میں ملک رقم خرچ ہو اور ہمارے پاس ثبوت بھی رہے۔ اس ملک میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں اور ہمسایہ ممالک سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے علاوہ جرمنی کے ذریعے اس تک رسائی ممکن ہے۔

یہاں آئینی بادشاہت ہے، یہ ملک ایک خاندان نے خریدا تھا اور انہی کے نام سے موسوم ہے۔ یہ معاہدہ پریسبرگ کے نتیجے میں دو صدی قبل 23 جنوری 1719ء سے قائم ہے اور یورپ میں ہونے والی دو عالمی جنگوں میں جرمنی کے قریب واقع ہونے کے باوجود یہ سلامت رہا۔ فی کس آمدنی کے اعتبار سے یہاں کے باشندے دنیا میں امیر ترین شمار کیے جاتے ہیں۔

لیختینستائن کا دارالحکومت Vaduz ہے جس کی آبادی پانچ ہزار ہے۔ شہر کیا ہے، ایک چھوٹا سا بازار ہے لیکن کم آبادی کی وجہ سے صاف ستھرا اور پرسکون ہے۔ ضرویات زندگی کی ہر چیز دستیاب ہے۔ اس شہر میں ایک یونیورسٹی بھی قائم ہے جس کا نام اس ملک کے نام پر University of Liechtenstein ہے۔ اس میں تعلیمی اسٹاف کی تعداد دو سو کے قریب ہے جبکہ طلبہ کی تعداد ایک ہزار تک ہے۔ یونیورسٹی کی عمارت چھوٹی سی ہے لیکن تعلیمی استعداد بہت بہتر ہے۔

دارالحکومت میں سب سے اہم اور قابل دید شئے یہاں کا قلعہ ہے جس کا نام Schloss Vaduz ہے۔ پہاڑی کے دامن میں واقع اس قلعے کی تعمیر کا آغاز بارہویں صد ی میں ہوا تھا۔ اس کا ایک ٹاور ہے جو زیادہ بلند نہیں۔ قلعے میں داخلہ بند ہے، بس باہر سے ہی نظارہ کرسکتے ہیں۔ یہ قلعہ اس شاہی خاندان کی ملکیت ہے اور وہ یہاں رہائش پذیر ہے۔

یہاں کا قومی دن 15 اگست ہے اور اس روز شہزادے کی جانب سے عوام کو قلعے میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے اور شام کو خوب آتشبازی کی جاتی ہے۔ اس ننھی منی ریاست کی سیاحت کرکے بہت خوشی ہوئی اور آخرکار یہاں آنے کی خواہش پوری ہوئی۔

دارالحکومت ویڈز سے اب ہماری روانگی سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورچ کی جانب تھی۔ راستے میں سوئٹزرلینڈ کی خوبصورت جھیل Walensee کے اس قدر دلفریب نظارے تھے کہ ہمیں وہاں رکنا پڑا۔

ایک ہی جھیل میں تین رنگوں والا پانی ایک ساتھ دیکھنے کا یہ پہلا موقعہ تھا۔ پہاڑوں کے دامن میں یہ خوبصورت جھیل جنت ارضی کی مثال ہے۔ ان حسین مناظر کو اپنی آنکھوں میں سموئے اگلی منزل کی جانب گامزن سفر ہوئے جس احوال کسی اگلے بلاگ میں بیان کریں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

عارف محمود کسانہ

عارف محمود کسانہ

بلاگر، کالم نگار ہیں اور سویڈن کی فارن پریس ایسوسی ایشن کے رکن بھی ہیں۔ سویڈن ایک یونیورسٹی کے شعبہ تحقیق سے وابستہ ہیں اور اسٹاک ہوم اسٹڈی سرکل کے بھی منتظم ہیں۔ فیس بُک پر ان سے Arifkisana کی آئی ڈی پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔