2020ء تک خالصتان بنانے کا عہد؟

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 14 ستمبر 2018
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

مجھے وہ سکھ نوجوان کبھی نہیں بھولے گا۔ چند سال پہلے مَیں ٹورانٹو(کینیڈا) سے بذریعہ ٹرین نیویارک آ رہا تھا۔ باہر برفباری کے جھکڑ چل رہے تھے لیکن ریل کے اندر آرام دِہ گرمی تھی۔بارہ تیرہ گھنٹے کا یہ ایک رومانوی سفر تھا۔ اِس کا لطف ابھی تک ذہن میں تازہ ہے۔ ہمارے کمپارٹمنٹ میں دو سیٹوں کی نشست پر کوٹ پینٹ میں ملبوس ایک خوبرو سکھ نوجوان بیٹھا تھا۔ اُس نے کینیڈین لہجے میں مجھے شائستگی سے مخاطب کیا اور درخواست کی: ’’میرے پاس ’’دی گلوب اینڈ میل‘‘ ہے۔

کیا مَیں آپ کا اخبار ایک نظر دیکھ سکتا ہُوں۔‘‘ اُس نے اپنا اخبار میری طرف بڑھایا تو مَیں نے اپنا اخبار اُس کے ہاتھ میں دے دیا۔ فارغ ہُوا تو وہ دوبارہ بولا: ’’آپ انڈیا سے ہیں؟‘‘ مَیں نے کہا: ’’نہیں، پاکستان سے، لاہور سے۔‘‘ سُن کربڑی زور سے مسکرایا ، اپنی نشست سے اُٹھا اور مصافحے کے لیے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہُوئے پنجابی میں کہنے لگا: ’’لَو جی، گل ای مُک گئی۔‘‘چند ہی لمحوں میں پنجابی زبان کے صدقے اجنبیت کی سبھی دیواریں مسمار ہو چکی تھیں۔ اُس نے بتایا: ’’پہلے میرا دادا وینکووَر(کینیڈا کا مشہور صوبہ) آیا تھا۔ پھر میرا ڈیڈی۔ مَیں وینکووَر میں ہی پیدا ہُوا تھا۔ ہمارے گھر میں سبھی افراد پنجابی بولتے ہیں۔

مَیں پُوا (پھوپھی) سے ملنے نیویارک جارہا ہُوں۔‘‘جب ہماری گفتگو ہورہی تھی، اُس وقت امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر بھارتی حکومت کے خونی حملے کو کئی سال گزر چکے تھے ۔ اس حملے نے دُنیا بھر کے سکھوں کے دلوں پر گہرے زخم لگائے تھے ۔ یہ زخم کبھی نہیں بھر سکیں گے کہ بھارتی فوج نے گولڈن ٹیمپل کی مسلّمہ مذہبی حرمت پامال کی تھی ۔ اُس سکھ نوجوان نے مجھے مخاطب کرتے ہُوئے بڑے رسان سے کہا تھا: ’’کاش، ہمارا بھی الگ وطن ہوتا۔ (سنت جرنیل سنگھ) بھنڈرانوالہ زندہ رہتا تو خالصتان بن ہی جانا تھا۔‘‘ یہ الفاظ مَیں کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا۔ اِن الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ’’خالصتان‘‘ کی شمع اب بھی سکھوں کے دلوں میں روشن ہے۔لندن کا تازہ سکھ اجتماع اِسی شمع کی لَو مزید اونچی کرنے کے لیے منعقد ہُوا ہے۔

کوئی ایک ماہ قبل،اگست2018ء کے دوسرے ہفتے لندن میں برطانیہ کے علاوہ دُنیا بھر کے ہزاروں سِکھ اکٹھے ہُوئے۔ امریکہ ، کینیڈا، ملائشیااور نیوزی لینڈ سے آنے والے سِکھوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ اکٹھے ہونے والے اِن سکھوں کا مرکز لندن کا ایک مصروف چوک تھا جو ’’ٹریفالگر اسکوائر‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔اِس اکٹھ میں برطانوی سکھ تو متحرک تھے ہی لیکن اِس کا اہتمام امریکہ میں بروئے کار ایک مشہور سکھ تنظیم ایس ایف جے (Sikhs For Justice) نے کیا تھا۔ 12 اگست کو خالصوں کے اس اجتماع سے دو دن پہلے ’’ایس ایف جے‘‘ کے ذمے داران اور عہدے داران نے لندن کے ایک مشہور علاقے ’’ساؤتھ آل‘‘ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی۔’’ساؤتھ آل‘‘ میں کثیر تعداد میں پاکستانی و بھارتی و بنگلہ دیشی نژاد مسلمان ، ہند اور سکھ آباد ہیں۔

برطانوی میڈیا کو پریس کانفرنس کرنے والوں نے بتایا تھا کہ اِس اکٹھ کا مقصد فقط یہ ہے کہ ساری دُنیا میں بکھرے سکھ یکمشت ہو کر اپنے علیحدہ وطن ’’خالصتان‘‘ کے قیام کے لیے ریفرنڈم اور استصوابِ رائے کامطالبہ کرنے والے ہیں، اِسی لیے سکھ کمیونٹی کو متحرک اور با مقصد کرنے کے لیے بارہ اگست کو یہ اجتماع کیا جانے والا ہے۔ سکھ لیڈروں نے برطانوی حکومت اور لندن کے لارڈ میئر کو یقین دلایا کہ ہمارا یہ اجتماع پُر امن ہوگا۔

پریس کانفرنس اور سکھوں کی مشہور ہٹ دھرمی کے پیشِ نظر برطانیہ میں بھارتی ہائی کمیشن اور دُور بھارتی حکومت کی دوڑیں لگ گئی تھیں۔ پہلے تو لندن میں بروئے کاربھارتی ہائی کمشنر اور اُن کے عملے نے کوشش کی کہ برطانوی حکومت سے مل کر سکھوں کا اجتماع روکا جائے لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ پھر خود بھارتی حکومت آگے بڑھی اور برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ سکھوں کا اکٹھ نہ ہونے دیا جائے ۔ برطانوی حکومت نے مگر بھارتی حکمرانوں اور بھارتی وزارتِ خارجہ کی یہ درخواست سفارتی انداز میں مسترد کر دی، یہ کہہ کر کہ برطانیہ میں مروج آزادیِ اظہار کے قوانین ایسے کسی بھی پُرامن اجتماعات کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔

بھارتی حکومت نے ایک کوشش اور کرتے ہُوئے FCO (فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس) کو احتجاجی خط لکھا کہ سکھوں کو اِس اجتماع سے باز رکھا جائے ،ایک علیحدہ وطن (خالصتان) کا مطالبہ کر کے بھارتی قومی یکجہتی کو زک پہنچانا چاہتے ہیں۔ برطانیہ نے مگر یہ احتجاجی مراسلہ بھی مسترد کر دیا۔ اِس اجتماع کے لیے برمنگھم میں مقیم سکھ لیڈر ، پرمجیت سنگھ پمّا، اور لندن کے مشہور سکھ قانون دان اور وکیل ، گور پٹونت سنگھ پنن، نے مرکزی کردار ادا کیا۔ پنن صاحب Sikhs For Justiceتحریک کے قانونی مشیر بھی ہیں۔ انھوں نے برطانوی اخبار ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہُوئے کہا تھا:’’ سکھ اجتماع میں دس ہزار سے زیادہ ہمارے ہم خیال و ہم سفر شریک ہوں گے۔

سب مل کر خالصتان کا مطالبہ کریں گے۔‘‘ امریکہ ، برطانیہ اور کینیڈا میں متحرک ’’سکھ فیڈریشن‘‘ نامی تنظیم بھی سکھوں کو اس اجتماع میں جوق در جوق شریک ہونے کے لیے میڈیا میں کمپین کر رہی تھی۔بھارتی حکومت کی سر توڑ اور مخالفانہ کوششوں کے باوجود لندن کے ٹریفالگر اسکوائر میں اگست کے دوسرے ہفتے سکھوں کا زبردست اجتماع ہُوا۔ بیک وقت ہزاروں سکھوں کا لندن میں ایک جگہ ، ایک مقصد اور ایک پرچم تلے اکٹھا ہونا برطانیہ کے ساتھ ساتھ بھارت، یورپی یونین اور امریکہ کو بھی حیران کر گیا۔ اِس اجتماع کو ’’خالصتان ریفرنڈم 2020ء‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ریلی میں موجود ہر سکھ مرد ، عورت ، جوان ، بچے نے اِسی عنوان کے تحت پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے ۔

اِن پلے کارڈز میں ایک اور نعرے کے حامل پلے کارڈبھی بہت نمایاں تھے جن پرWe Want Khalistanلکھاگیا تھا۔ میڈیا کے جتنے بھی لوگ کوریج کے لیے شریک تھے، سب سے گفتگو کرتے ہُوئے سب شرکت کنندگان ایک ہی بات بیک زبان کہہ رہے تھے: ’’ہم 2020ء تک خالصتان کی بنیادیں رکھ دیں گے۔ ہم سکھوں کو بھی الگ وطن رکھنے کا پورا حق ہے۔ ہم بھارتی ہندوؤں سے الگ تھلگ ایک قوم ہیں۔ہماری زبان، ہمارا کلچر، ہمارامذہب، ہماری کتابیں ہندوؤں سے الگ تھلگ ہیں۔‘‘ موقف اتنا غلط تو نہیں ہے۔چونتیس برس قبل بھارتی وزیر اعظم مسز اندراگاندھی کے حکم سے امرتسر میں سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل پر فوجی یلغار کی گئی تھی۔ اور ’’خالصتان‘‘ کی سب سے طاقتور آواز، سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ، اور اُن کے سیکڑوں ساتھیوں کا قتل کر کے یہ سمجھا تھا کہ ’’خالصتان‘‘ کا تصور اور مطالبہ مٹ گیا ہے۔

بھارتی حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں کی یہ غلط فہمی تھی۔ ’’خالصتانیوں‘‘ نے اپنا احتجاج اُس وقت ریکارڈ کروا دیا تھا جب اندرا گاندھی کے ذاتی سکھ محافظوں نے اپنی وزیر اعظم کو تہ تیغ کر دیا تھا۔ اگرچہ وہ بعد ازاں پھانسی پر چڑھا دیے گئے لیکن ہر سکھ گھرانے کے وہ ہیرو ہیں۔ اُن پر (مشرقی) پنجاب میں یادگار فلمیں بنائی گئیںجن میں اندرا کے سکھ قاتلوں کو سُورمے، بہادر اور ہیرو کے رُوپ میں پیش کیا گیا ہے۔

یہ فلمیں بھارتی پنجابی سکھوں میں آج بھی بہت مقبول ہیں۔ مقبولیت کا مطلب یہ ہے کہ ’’خالصتان‘‘کے حامی ختم نہیں کیے جا سکے ہیں کہ بھنڈرانوالہ بھی خالصتانی تھا اور اندرا کے قاتل بھی۔ خالصتانیوں کے خلاف بھارتی حکومت نے تشدد اور زیادتیوں کی انتہا کر دی تھی۔ اِس کی  ایک جھلک ایک بھارتی فلم’’ماچس‘‘ میں بھی نظر آتی ہے۔

بہیمانہ تشدد سے بھارتی حکمرانوں نے بھارت کے اندر تو شائد خالصتانیوں کی آواز قدرے دبا دی تھی لیکن یہ آواز نئے انداز میں کینیڈا، برطانیہ، امریکہ میں آباد موجود سکھوں کی متفقہ آواز بن گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اِس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی سکھ تنظیموں کو یقینِ کامل ہے کہ 2020ء تک وہ ’’خالصتان‘‘ کے حق میں ریفرنڈم کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں (مقبوضہ)کشمیر کے باسیوں کی طرح ہمیں بھی حقِ خود ارادیت ملنا چاہیے۔ لندن کے ٹریفالگر اسکوائر کا سکھ اجتماع اِسی خواہش کی باز گشت ہے۔مشہور برطانوی کشمیری سیاستدان، لارڈ نذیر احمد، نے بھی خالصوں کے اس اجتماع کی حمائت کی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔