آزاد ملکوں کے خلاف بلیک میلنگ

ظہیر اختر بیدری  جمعـء 14 ستمبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھارت کا بھرپور دورہ کرنے کے درمیان پاکستان میں چند گھنٹے رکھنے زحمت کی اور اس سرسری دورے کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ’’سرسری سی ملاقات‘‘ کی۔ موصوف کے دورے کا اصلی موضوع افغانستان تھا ۔

افغانستان کا مسئلہ نہ صرف ایک برننگ ایشو ہے بلکہ یہ پورا خطہ اس ایشو سے بری طرح متاثر ہے ، اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر ضرورت تو اس بات کی تھی کہ دورے کی مدت بڑھا کر پاکستان کی نئی حکومت سے اس مسئلے پر بھرپور بات کی جاتی لیکن اپنی روایت کے مطابق امریکی حکمران نے اس مسئلے کو اضافی مسئلہ بناکر نہ صرف اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی بلکہ پاکستان کی نئی حکومت کے نظریات اور مقاصد کو بھی تفصیل سے سننے سے گریزاں رہے۔

بھارت کی اہمیت چین کے حوالے سے ہے اور چینی حکومت بھارت سے اپنے تنازعات پرامن طریقے سے حل کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے، لہٰذا بھارت سے تعلقات میں نہ ایمرجنسی ہے نہ وہ اہمیت ہے جو پاک افغان مسئلے کے حوالے سے دیکھی جاسکتی ہے لیکن بھارت ایک بہت بڑا ملک ہے لہٰذا امریکی حکمران ہمیشہ بھارت کو اپنے اقتصادی مفادات کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس کی وجہ بھارت امریکا کی نظر میں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ یہ ترجیحات درست لیکن 71 سال گزرنے کے باوجود بھارت کے عوام کی معاشی حالت پاکستان کے عوام سے مختلف نہیں لہٰذا جمہوریت کے حوالے سے پاکستان پر بھارت کی برتری مسلمہ ہے لیکن سرمایہ دارانہ جمہوریت جہاں جہاں نافذ ہے وہاں کے عوام کی معاشی حالت دگرگوں ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں بھی 50 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور بھارت کے 50 فیصد عوام بھی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے مقابلے میں ایک بہت بڑی منڈی ہے جس میں دوسرے ملکوں خصوصاً امریکا جیسے بڑے ملکوں کے لیے بڑی کشش ہوتی ہے۔

اس خطے میں افغانستان سب سے بڑا دہشت گردی کا مرکز ہے جس سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہے۔ امریکا دنیا سے دہشت گردی ختم کرنا چاہتا ہے تو لازمی اور فطری بات یہ ہے کہ وہ دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں پر زیادہ توجہ دے۔ جب کہ دہشت گردی کے حوالے سے بھارت بہت کم متاثر ملک ہے لیکن امریکا اس خطے میں بھارت کو جتنی اہمیت دیتا ہے اتنی پاکستان کو نہیں دیتا جب کہ پاکستان بھارت سے بہت زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، اس تفریق سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی بڑا مسئلہ نہیں ہے معاشی مفادات بڑا مسئلہ ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کو جبراً دہشت گردی کے خلاف امریکی مہم میں شامل کیا گیا جس کے نتیجے میں دہشت گردوں نے پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز بنا لیا اور 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشت گردی کی نظر ہو گئے اور پاکستان کے اربوں ڈالر دہشت گردی کی جنگ کی نذر ہو گئے کیا اس پس منظر میں پاکستان زیادہ توجہ کا حق دار نہیں تھا؟ لیکن چونکہ امریکا کے پاکستان سے اقتصادی مفادات وابستہ نہیں ہیں لہٰذا پاکستان راستے میں پڑنے والا ملک بن کر رہ گیا ہے۔

پاکستان کو ڈنڈے کے زور پر امریکا نے اپنی دہشت گردی کے خلاف مہم کا حصہ بنایا، اس سے پہلے پاکستان دہشت گردی کا شکار ایسا ملک نہیں تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ماضی کے علاوہ اربوں کا مالی نقصان بھی اٹھا چکا ہے امریکا بہادر نے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ قائم کیا گیا ، لیکن امریکا نے افغان دہشت گردوں کی سپورٹ کرنے کے بہانے اس فنڈ کے 30 کروڑ ڈالر بھی روک لیا، جب کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان سب سے آگے رہا شمالی وزیرستان سے دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان نے ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کیں۔

بھارت دہشت گردی سے براہ راست متاثرہ ملک نہیں ہے ممبئی حملوں کو استعمال کرتے ہوئے بھارت مستقل پروپیگنڈا کر رہا ہے جس میں چند سو افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ پاکستان کے 70 ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ یہ ایسے حقائق ہیں جو پاکستان اور بھارت کے دہشت گردی سے نقصان کا منہ بولا ثبوت ہیں لیکن امریکا بھارت کو افغانستان میں اقتصادی مراعات دے رہا ہے اور پاکستان کو دائرے سے باہر رکھا ہوا ہے۔

اصل مسئلہ بے شک دہشت گردی کا ہے جس کا مرکز افغانستان مانا جاتا ہے، اس حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان پاکستان پر دہشت گردوں کی اعانت کا الزام لگا رہا ہے ، جب تک یہ صورتحال رہے گی اس خطے میں دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بیرونی طاقتوں کو بھی اس مسئلے پر مفاداتی سیاست سے روکنا ہوگا۔ پاکستان میں 71 سال کے بعد روایتی اشرافیائی حکومتوں کے بعد  ایک مڈل کلاس کی حکومت آئی ہے جس کا وژن ماضی کی اشرافیائی حکومتوں سے مختلف ہے۔ پاکستان کی اس مسئلے سے دلچسپی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے پاکستان کے وزیر خارجہ سب سے پہلے افغانستان جا رہے ہیں۔ اگر دونوں طرف یہی جذبات ہوں تو مسئلہ حل کرنے کی امید کی جا سکتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔