اسلام آباد کی فیکٹریوں میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر رپورٹ طلب

ویب ڈیسک  جمعـء 14 ستمبر 2018
فیکٹریوں کی جانچ پڑتال کے لیے ڈائریکٹر ایچ آر سپریم کورٹ معائنہ آفیسر مقرر فوٹو: فائل

فیکٹریوں کی جانچ پڑتال کے لیے ڈائریکٹر ایچ آر سپریم کورٹ معائنہ آفیسر مقرر فوٹو: فائل

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر آئی نائن میں قائم فیکٹریوں میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات سے متعلق 5 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد میں صنعتی اور ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے لیے لفظ واچ ڈاگ استعمال کیا جاتا ہے لیکن آئی نائن کے فیکٹری مالکان نے ہمیں صرف ڈاگ بنا دیا ہے، فیکٹری مالکان انسپیکشن کے لیے ہمیں رسائی نہیں دیتے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماحول کا ایشو لوگوں کی زندگیوں سے براہ راست منسلک ہے، لوگوں کی زندگیوں سے فیکٹری مالکان کو کھیلنے نہیں دوں گا، فیکٹری مالکان کو عدالت کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے، یہ فیکٹری مالکان مغرور لوگ ہیں، ہمارے ڈائریکٹر ایچ آر خود ڈی جی کے ساتھ معائنہ کر لیتے ہیں، انسپکشن نہیں کروائیں گے تو ضمانت کی رقم 50 لاکھ روپے ضبط کر لیں گے اور جن فیکٹری مالکان نے ضمانت کی رقم جمع نہیں کرائی ان سے 8 فیصد سود کے ساتھ رقم وصول کریں گے۔

سپریم کورٹ نے سیکٹر آئی نائن میں قائم فیکٹریوں کی جانچ پڑتال کے لیے ڈائریکٹر ایچ آر سپریم کورٹ کو معائنہ آفیسر مقرر کردیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ صنعتی زون کا معائنہ کر کے بتایا جائے کتنے صنعتی یونٹس فعال ہیں اور کتنے صنعتی یونٹس نے ابھی تک آلودگی روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔