ہمارا مقصد ہے کہ انصاف کا نظام بہتر اور تیز ہوجائے، چیف جسٹس

ویب ڈیسک  جمعـء 14 ستمبر 2018
نظام انصاف میں بہتری کے لیے سب اپنی تجاویز دیں، چیف جسٹس پاکستان۔ فوٹو : فائل

نظام انصاف میں بہتری کے لیے سب اپنی تجاویز دیں، چیف جسٹس پاکستان۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمات میں 26 سال بعد ریلیف ملنا کوئی ریلیف نہیں لہذا ہمارا مقصد ہے کہ انصاف کا نظام بہتر اور تیز ہوجائے۔

سپریم کورٹ میں نظام انصاف میں بہتری کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ انصاف کا نظام بہتر اور تیز ہوجائے، مقدمات میں 26 سال بعد ریلیف ملنا کوئی ریلیف نہیں، ایک نجی ادارے کا وراثتی سرٹیفکیٹ 16 سال سے عدالت میں زیرالتوا ہے، بتادیں کہ نظام انصاف میں بہتری کے لیےعدالت کیا حکم جاری کرے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : کچھ زیادتیاں عدلیہ سے بھی ہوئی ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ میرے پاس ٹائم کم ہونا شروع ہوگیا ہے، چیف جسٹس کو باقی کام بھی کرنا ہوتے ہیں، نظام انصاف میں بہتری کے لیے سب اپنی تجاویز دیں اور آئندہ سماعت پر وفاقی اور صوبائی وزراء قانون عدالت تشریف لائیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔