بس، تھوڑا سا صبر!

راؤ منظر حیات  ہفتہ 15 ستمبر 2018
raomanzar@hotmail.com

[email protected]

عمران خان سے منسوب بڑامسئلہ یہ ہے کہ لوگ اس سے دیومالائی اُمیدیں وابستہ کرلیتے ہیں۔اس رجحان کی تاریخ،کافی حدتک حقیقت پرمبنی ہے۔کرکٹ کی دنیامیں اپنے زمانے کا بہترین کھلاڑی تھا۔کھیل کی دنیامیں افسانوی حدتک حکومت کرتارہاہے۔آگے چلیے۔توسماجی شعبے میں کینسراسپتال اورمیانوالی سے متصل یونیورسٹی،بہت بڑے کارنامے ہیں،کام ہیں اورکامیابی کی دلیل ہیں۔مگریہ پہلی مرتبہ ہواہے کہ عمران خان کووزیراعظم کے طورپر کام کرنا پڑ رہا ہے،جس میں اسکاذاتی عملی تجربہ نہ ہونے کے برابرہے۔

کھیل اورسماجی شعبوں کے کاموں کی اس شدت سے مخالفت نہیں کی جاتی،جتنی کے سیاست کے میدان میں موجودہے۔بہترین ٹیم،خاص وقت میں اچھاکھیل کھیلتی ہے۔سامنے والی ٹیم بھی اس کی تعریف کرتی ہے۔ہارجیت کے بعدمعاملہ ختم ہوجاتاہے۔اسپتال اوریونیورسٹی بنانے والے نیک کاموں کی سامنے آکرمخالفت کرناناممکن کام ہے۔قطعاًیہ عرض نہیں کررہاکہ یہ سب کچھ عام سے کام ہیں۔

یہ غیرمعمولی کارنامے ہیں جن کی بدولت عمران خان کی شخصیت کی بین الاقوامی سطح پرقدرکی جاتی ہے۔مگراب وہ وزیراعظم ہیں۔انھیں ایک ٹیم، گروہ،ایک انسان یاایک ادارے سے واسطہ نہیں پڑتا۔ لاتعدادعناصرہیں،جن سے مختلف بلکہ متضادطریقے سے معاملات طے کرنے ہیں۔اس کام کاکسی قسم کاکوئی مخصوص فارمولابھی نہیں ہے۔

ایک تکلیف دہ سچ اوربھی ہے کہ تیسری دنیاکے ممالک میں سیاست کے میدان میں کسی قسم کاکوئی اخلاقی اُصول نہیں ہے۔اس خوفناک کھیل کاکوئی گراؤنڈبھی نہیں ہے۔اس میں بھیانک طرح کی منصوبہ بندی ہے،محیرالعقول حدتک پیسے کاعمل دخل ہے اور پھراکثر نتائج بھی سمجھ سے باہرہیں۔کہنے کویہاں،ہرفریق علانیہ فرماتاہے کہ ملک کی بے مثال خدمت کررہا ہے۔ مگر اس نعرے کے پیچھے ذاتی ایجنڈاہوتاہے۔وہی ایجنڈااصل مقصدہوتاہے۔نکتہ ہے،اقتدارمیں آکرپیسے کمانا۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ جسے کوئی تسلیم نہیں کرتا۔اس کے ثبوت ہرشہر، ہرقصبہ،ہرگاؤں اورہرگلی میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

چندکائیاں سیاسی آدمیوں نے توملک کی اتنی خدمت کی ہے کہ ملک کے اقتصادی،سماجی،نفسیاتی اوراخلاقی فریم ورک کوہی تباہ کر دیا ہے۔اگریقین نہ آئے توذرا،چالیس پچاس برس پہلے کی سیاست کے طرزِعمل کودیکھیے۔کرپشن نہ ہونے کے برابر تھی۔گزشتہ پینتیس برس میں لوٹ مارکی جدیدیت کے سامنے ہرذی شعورحیران ہوجاتاہے۔پچھلے دس برسوں میں پیسہ کمانے کاجوکھیل رچایاگیاہے،اس سے ملک ہرطریقے سے گروی رکھاجاچکاہے۔گزارش ہے کہ عمران خان،اب جس میدان میں کھیل رہاہے،اسکابھرپورعملی ادراک نہیں رکھتا۔مگراُمیدہے کہ کام کریگا۔غلطیاں بھی کریگا اور پھران سے سیکھنے کی مکمل کوشش بھی کریگا۔

توجہ کاطالب ہوں۔اس وقت عجیب واقعات یہ ہو رہے ہیں کہ نان ایشوزکوبھرپورایشوزبنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مثال کے طورپر۔کیایہ پہلی بارہواہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے کسی ڈی پی اوکواپنے دفتربلاکرکوئی حکم دیا ہو یا اسے تبدیل کردیاہو۔یہ وزیراعلیٰ کاقانونی حق ہے کہ کسی بھی افسرکوکہیں بھی تعینات کرسکتاہے۔ماضی میں وزیراعلیٰ تو دور کی بات۔انکاسرکاری اورنجی عملہ تک آئی جیزاورچیف سیکریٹری کوطلب کرکے،ہرطریقے کے کام کرواتے رہے ہیں۔ مگر تعجب اس بات کاہے کہ پاک پتن کے ایک بالکل معمولی نوعیت کے انتظامی معاملہ کوقومی معاملے میں تبدیل کردیا گیا۔ایک ڈی پی او،جومسائل پیداکرنے کی شہرت رکھتا ہے۔جس کے قصے ہرطرف مشہورہیں۔اس کے بیانیے پرایک طوفان کھڑاکردیاگیا۔

اس واقعہ کے غبارے میں اتنی پھونک بھرناانتہائی تعجب کی بات بھی ہے اورفکرکی بھی۔فکراس وجہ سے کہ میڈیاپرسابقہ حکومت سے منسلک شہرت یافتہ مخصوص لوگوںنے اس واقعہ میں اتنارنگ بھرڈالا،کہ لگتاہے کہ سارے ملکی معاملات ایک طرف اوریہ معاملہ ان سب سے بڑھ کر،دوسری طرف۔خیراب یہ واقعہ ملک کی سپریم کورٹ میں ہے،لہذااس پرزیادہ بات کرنامناسب نہیں۔

دودن پہلے کی گزارش کرناچاہتاہوں۔ایک انتہائی سنجیدہ ریٹائرڈافسرنے سوشل میڈیاپراعلان فرمایاکہ عمران خان ایک اُمید بن کرآیاتھا۔عاطف میاں جیسے اقتصادی ماہرکواپنی ٹیم سے باہرنکالناایک زیادتی ہے۔عمران خان سے،اب کسی اُصولی اُمیدکی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ذاتی طورپرسمجھتاہوں کہ ہمارے ملک کی خدمت کرنے کاحق مسلمانوں اوراقلیتوں کومکمل طورپرمساوی ہے۔پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت آئین دیتاہے۔آپ کسی مسیحی یاپارسی بھائی کواقتصادی ٹیم کاممبربنادیں،توکوئی اعتراض نہیں کریگا۔مگرقادیانیت کامسئلہ اَزحدمختلف ہے۔

ان کے پیروکاروں کے متعلق،عوامی جذبات بے حدپُرجوش اورسیلانی ہیں۔سوشل میڈیاپرکبھی کسی جملے کاجواب نہیں دیتا۔اسلیے کہ یہ ایک لایعنی بحث بن جاتی ہے۔مگربدقسمتی سے میں نے یہ لکھ ڈالا۔کہ اگرایک فردواحدکی وجہ سے پورے ملک کاعمومی جذبہ حکومت کے خلاف ہوجاتا ہے۔ پُرتشددواقعات ظہورپذیرہونے لگتے ہیں۔اس کی آڑمیں، عمران خان کے سیاسی دشمن،اوچھے وارکرنے شروع کر دیتے ہیں۔جوکاری بھی بن سکتے ہیں۔توپھر کیا کیا جائے۔

عملیت پسندی یہ ہے کہ اس قابل شخص سے شرافت سے معذرت کرلی جائے۔حکومت نے بالکل یہی کیاہے۔ عاطف میاں کواس ٹیم سے علیحدہ کرڈالاہے۔ اس جواب کے جواب میں کوئی تین چارسولفظوں کاایک اتناطویل جواب آیاکہ پڑھنامشکل ہوگیا۔باربارقائداعظم کاحوالہ موجودتھا۔

اکثر سنجیدہ لوگ فراموش کردیتے ہیں کہ1947میں لوگوں کے مذہبی رویے،آج کے رجحانات سے بالکل مختلف تھے۔پہلی بات تویہ کہ مذہبی جذباتیت اس درجہ کی نہیں تھی جو آج وقوع پذیرہے۔اس کے علاوہ ریاست ابھی نوزائیدہ تھی۔ قائدکی بھرپورشخصیت کی بدولت اکثرزبانیں احتراماًخاموش رہتی تھیں۔سب سے بڑھ کر1947میں مذہبی جماعتیں اور گروہ آج جتنے طاقتوربھی ہرگزہرگزنہیں تھے۔اس زمانے کے حالات اورآج کے معاملات حددرجہ مختلف ہیں۔

سوشل میڈیاکی بحث کاحصہ بنے بغیرعرض ہے کہ کیاعمران خان، ایک شخص کی وجہ سے اپنی حکومت ہی ڈانواں ڈول کردیتا۔ عمران نے جوکچھ کیا،وہ عملیت پسندی کے مطابق بالکل درست ہے۔بہرحال تنقیدکرنا،ہمارے مکمل طورپر سیکولر طبقے کاحق ہے،جس کااظہارسوشل میڈیاپراکثردیکھنے کوملتا ہے۔

بامقصدتنقیدحکومتی فیصلوں پرہونی چاہیے۔مگرلگتاہے کہ تنقیدکااصل مقصدمکمل طورپرکچھ اورہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی تعیناتی کووزیراعظم کی اہلیہ سے رشتہ داری کے حوالے سے جوڑدیاگیا۔سب لوگ یہ بھول گئے کہ تونسہ شریف سے بھی آگے،کوہ سفیدکے سلسلوں سے آج تک کوئی شخص اس بلندمنصب پرفائزنہیں ہوسکا۔کیااس میں کوئی شک ہے کہ بزدارصاحب،پسماندہ ترین علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بڑے شہروں میں لوگوں کواندازہ ہی نہیں کہ لاہور، کراچی، پشاور،فیصل آباد،پنڈی،ساہیوال،ملتان کتنے بہترشہرہیں۔ ڈی جی خان دوبارتعینات رہاہوں۔ڈی جی خان سے گزر کر جب آپ بلوچستان کی طرف جاتے ہو،تواس قدرویرانگی ہے کہ انسان کادل ڈوبنے لگتاہے۔

پسماندگی کوئی لفظ نہیں ہے۔اگرآپ وسطی پنجاب کے کسی بڑے شہرکے رہنے والے ہیں،تویوں سمجھ لیجیے،کہ کم ازکم چارسوسال پرانے زمانے میں آگئے ہیں۔وہاں کی غربت،سہولتوں کامکمل فقدان اور بدترین تعلیمی معیار،آپکوپریشان کردیگا۔اگروزارتِ اعلیٰ لاہورشہرسے نکل کر،ایک غیرترقی یافتہ علاقے میں چلی گئی ہے تویہ توقابل تحسین کام ہے۔چنداستثنات کے علاوہ،پہلی بارہواہے،کہ پنجاب کی قیادت کاجھومرمتمول لوگوں سے نکل کردرمیانی طبقے کے شخص کومنتقل ہوئی ہے۔اس تعیناتی پربھی ہردرجہ تنقیدکی گئی۔قتل کے جھوٹے الزامات تک لگانے سے پہلے بھرپورتحقیق نہیں کی گئی۔

اصل معاملہ یہ ہے،کہ تخت لاہور کو گمان ہے کہ حکومت صرف اورصرف ہماراحق ہے۔یہ تونسہ شریف سے کون ظالم،ہماری کرسی پربیٹھ گیا۔ حضور، حکومت کرناہرایک کاحق ہے۔درمیانے درجہ سے تعلق رکھنے والاوزیراعلیٰ،اتنے بھیانک اقتصادی جرائم نہیں سوچ پائے گاجوتخت لاہورکاخاصہ رہاہے۔عام انسانوں کی طرح، عام لوگوں کے درمیان میں رہنے والاخاکی ہے۔ انسانی سطح پرکام کرنے کی کوشش کریگا۔ابھی تو سیاسی بساط کی شروعات ہیں۔آگے دیکھیے۔معاملات کیسے چلتے ہیں اور کس ڈگر پر چلتے ہیں۔

ہاں ایک اوربات۔بھاشاڈیم بنانے کے فنڈکے متعلق انتہائی منفی پروپیگنڈاجاری ہے۔بدقسمتی سے وہ سیاسی رہنمااس کی مخالفت کررہے ہیں جوایک دہائی اس ملک کے سیاہ و سفیدکے مالک رہے ہیں۔مگرآبی ذخائرپرمجرمانہ غفلت برتتے رہے ہیں۔کوئلے اورتیل پرچلنے والے مہنگے ترین کارخانے لگانے میں صرف اسلیے مصروف رہے کہ ان میں “کمیشن” وصول کرسکیں۔سی پیک کوبھی ذاتی تشہیراورمال کمانے کا ذریعہ بنادیاگیا۔لازم ہے کہ اگرچیف جسٹس،وزیراعظم، عسکری ادارے اورعوام اس فنڈمیں پیسہ جمع کروارہے ہیں تو پرانے دوستوں کوبے حدتکلیف ہورہی ہے۔

پہلی بات تویہ اگرموجودہ وزیراعظم اورریاستی ادارے ڈیم بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تواپوزیشن کے تلوں میں تیل نہیں رہتا۔وہ اپنی نااہلی کومنفی پروپیگنڈے سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔یقین کامل ہے کہ ایک نہیں،کئی نئے آبی ذخائر بن کر رہیں گے۔چندے کی تحریک زورپکڑے گی۔کئی بین الاقوامی ادارے اورملک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ جتنی مرضی مخالفت کرلیجیے۔یہ ملک ترقی کی طرف گامزن ہوگا۔آگے نکلے گا۔دنیاکے لیے مثال بنے گا۔بس تھوڑا سا صبر۔ طویل رات کے بعد،صبح کی روشنی میں ہرچہرہ اپنے اصل میں نظرآجائے گا۔بس تھوڑاساصبر!



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔