کلثوم نواز، جمہوری تحریک کا روشن باب

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 15 ستمبر 2018
tauceeph@gmail.com

[email protected]

کلثوم نواز امر ہوگئیں ۔ میاں نواز شریف اپنی اہلیہ اور مریم اپنی والدہ کو اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں چھوڑ کر عدالت سے دی گئی سزا کاٹنے کے لیے لندن سے پاکستان آئے۔ اس خاندان نے پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب مرتب کردیا۔ بیگم کلثوم نواز ایسے وقت میں کینسر کے مرض کا شکار ہوئیں جب میاں نواز شریف پاناما لیکس کے گرداب میں پھنس گئے تھے۔ اس دوران سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار دیا۔

کلثوم نوازکو علاج کے لیے لندن جانا پڑا ، پھر میاں نواز شریف کی نا اہلی سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پرکلثوم نواز نے انتخاب میں حصہ لیا، کلثوم نواز اپنی بیماری کی بناء پر لاہور نہ آسکیں۔ حمزہ شہباز خاندانی تضادات کی وجہ سے لندن چلے گئے۔ مریم نواز نے اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلائی۔

کلثوم نواز اس انتخاب میں کامیاب ہوئیں مگر طالع آزما قوتوں سے حرارت لینے والوں نے کلثوم نوازکی بیماری کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس ملک کے سیاسی کلچرکی یہ بدقسمتی ہے کہ بعض اینکر پرسن اس مذموم مہم میں شریک ہوئے ۔ بعض صحافیوں نے اسلام آباد اور لاہور کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر لندن کے ایک بڑے اسپتال میں رونما ہونے والے واقعات کا تجزیہ کرنا شروع کردیا۔ عجیب ستم ظریفی ہے کہ اعتزاز احسن جیسا ماہر قانون اور سنجیدہ سیاسی کارکن اس مہم کا حصہ بنا۔ اعتزاز احسن نے بھی ایک بیان میں کلثوم نوازکی بیماری کا مذاق اڑایا۔ بعض اینکر پرسن نے یہ کہنا شروع کیا کہ کلثوم نوازکا انتقال ہوچکا ہے۔

شریف خاندان 25 جولائی کے عام انتخابات کے چند دن قبل ان کی موت کا اعلان کرے گا اور جذباتی فضاء پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کلثوم کے جنازے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی تعداد شریک ہو۔اس طرح کلثوم نوازکی مبینہ موت کو شریف خاندان اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔ ان نام نہاد تجزیہ نگاروں نے اپنے پروگراموں میں بے سروپا سوالات اٹھائے۔ ایک اینکر پرسن جو خود ساختہ طور پر ڈاکٹر کا لاحقہ لگاتے ہیں اپنے ایک ٹاک شو میں یہ سوال اٹھائے کہ بقول مریم کے امی کسی بات کا جواب نہیں دیتیں تو پھر 25,25 افراد کیوں ہارڈلے کلینک میں جاتے ہیں۔

اس طرح کی مہم اس ملک میں پہلی بار نہیں چلائی گئی۔ جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں بیگم نصرت بھٹو شدید بیمار ہوئیں اور ڈاکٹروں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ کینسر  ان کے پھیپھڑوں کو متاثر کرسکتا ہے اور بیگم نصرت بھٹو کو علاج کے لیے برطانیہ بھیجا جائے تو دائیں بازو کے بعض صحافیوں نے اس وقت بھی طالع آزما قوتوں سے حاصل ہونے والی ہدایات کے مطابق اپنی تحریروں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ نصرت بھٹو اتنی بیمار نہیں ہیں مگر اپنے شوہر کی پھانسی، اپنی طویل نظربندی ، لاہور کے فورٹریس اسٹیڈیم کے دروازے پر ان کے سر پر لگنے والی پولیس کی لاٹھی کی ضرب کے بعد وہ اپنی ایسی بیماریوں میں مبتلا تھیں کہ برطانیہ میں علاج اور یورپ کے اچھے ماحول میں ان کی زندگی بچ سکتی تھی ۔

عجیب المیہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے اس دور میں کوئی سیاست دان بیگم نصرت بھٹو کے خلاف مہم میں شریک نہیں ہوا، صرف چند صحافی ہی ان کے خلاف تحریک چلاتے رہے، مگر بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے حوالے سے بعض سیاست دان اور اینکر پرسن اس منفی مہم کا شکار ہوئے۔

کلثوم نوازکی سیاسی زندگی 12 اکتوبر 1999ء کو میاں نواز شریف حکومت کے تختہ الٹنے کے بعد شروع ہوئی۔کلثوم نواز نے اس پرآشوب دور میں میاں خاندان کے ساتھ یکجہتی اور مسلم لیگی کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے جدوجہد کی۔ وہ آمرانہ حکومتوں کے خلاف جدوجہد کا ایک اہم باب ہے۔ بیگم کلثوم نواز ایک قدامت پرست گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ گھرانہ لاہور کے اعلیٰ طبقے میں شامل تھا۔

اس گھرانے میں خواتین کی بنیادی ذمے داری بچوں کی دیکھ بھال اورگھریلو ملازمین کی نگرانی کرنا ہوتی ہے۔ کلثوم نواز 1971 ء میں میاں نواز شریف سے شادی کے بعد یہی فریضہ انجام دیتی رہی تھیں، انھیں اچانک اپنے خاندان پر آنے والے برے وقت میں گھر سے باہر نکنا پڑا ۔کلثوم نواز نے جرات اور بہادری کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک منظم کی ۔ انھوں نے پنجاب کے مختلف شہروں میں جا کر مسلم لیگی کارکنوں کو متحرک کیا ۔ یہ وہ وقت تھا کہ مسلم لیگ کی قیادت کی اکثریت جنرل پرویز مشرف کی ڈاکٹرائن کی اسیر ہوچکی تھی اور جو لوگ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ نہیں گئے تھے احتساب کے خوف سے اپنے گھروں میں مقید ہوگئے تھے۔

مسلم لیگ ن کی اس سے قبل کسی قسم کی ریاستی اہلکاروں کے خلاف مزاحمت کی روایت نہیں تھی مگر کلثوم نے مسلم لیگ ن میں ایک نئے سیاسی کلچر کو رائج کیا۔ ایک سینئر صحافی مظہر عباس جنہوں نے میاں نواز شریف کے خلاف چلنے والے طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں مقدمات کو کور کیا تھا نے اپنے یاد داشتوں پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کلثوم نواز کسی بھی وقت پرویز مشرف کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کے حق میں نہیں تھیں۔

وہ سمجھتی تھیں کہ طویل جدوجہد کے نتیجے میں ہی ملک میں جمہوریت بحال ہوسکتی ہے، مگر جب میاں نواز شریف واپس پاکستان آئے تو انھوں نے قدامت پرستانہ سوچ کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب وہ صرف گھر تک ہی مقیم رہیں گی۔ یوں کلثوم نواز کا کردار محدود ہوگیا۔ میاں نواز شریف نے بیگم کلثوم نواز کوگھر میں مقید کر کے اپنے لیے اچھا نہیں کیا ۔ یہ اچھا ہوا کہ بیرسٹر اعتزاز احسن کو وقت پر غلطی کا احساس ہوا اور انھوں نے کلثوم نواز کے بارے میں بیانات پر معذرت کرلی مگر کلثوم نواز سیاسی محاذ پر متحرک رہتیں تو مسلم لیگ ن ایک سیاسی جماعت کے طور پر زیادہ مضبوط ہوتی۔ فاطمہ جناح، نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے بعد کلثوم نواز کی جدوجہد اس ملک کی جمہوری تحریک کی تاریخ کا روشن باب ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔