پنجاب میں انتقال اقتدار مکمل ہو رہا ہے؟

مزمل سہروردی  ہفتہ 15 ستمبر 2018
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

پنجاب میں انتقال اقتدار اب آخری مراحل میں ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھا لیا ہوا ہے۔ پنجاب کابینہ کی ایک فوج ظفر موج نے بھی حلف اٹھا لیا ہے۔اتنے وزیر تو کبھی بھی نہ تھے۔ چوہدری سرور نے گورنر پنجاب کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدہ پر براجمان ہیں۔ علیم خان سینئر وزیر بن کر 90 شاہراہ پر بیٹھ چکے ہیں۔وہاں پہلے حمزہ بیٹھتے تھے اور باپ کی جگہ اختیارات استعمال کرتے تھے۔

لیکن میرے خیال میں پھر بھی اس سب کے باوجود پنجاب کا انتقال اقتدار مکمل نہیں ہوا تھا۔ آپ بے شک کہہ سکتے ہیں سیاسی انتقال اقتدار مکمل ہو گیا ہے۔ لیکن پھر بھی تحریک انصاف کی اس نئی نویلی حکومت کی رٹ قائم نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ عجیب حکومت بن گئی تھی جو موجود تھی بھی اور نہیں بھی۔ویسے تو وزیر اعظم گڈ گورننس کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے سرکاری افسران سے خطاب میں ماضی کی برائیوں کا خوب ذکر کیا ہے۔

میرے خیال میں سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ تو بنا دیا گیا تھا لیکن ان کے پر کاٹے ہوئے تھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے پاس ان کی مرضی کا سیکریٹری ہی نہیں تھا۔ سیکریٹری ٹو وزیر اعلیٰ کا مسئلہ ہی اتنی اہمیت کا حامل ہو گیا تھا کہ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی۔ خرم آغا نگران دور میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکریٹری پنجاب مقرر ہوئے تھے۔

اب نگران دور ایک غیر سیاسی دور تھا۔ گو کہ اس بار نگران دور ایک غیر سیاسی دور نہیں تھا۔ اس بار نگران دور بھی تحریک انصاف کی بی ٹیم ہی تھا۔ لیکن تحریک انصاف اپنی اس بی ٹیم کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آرہی۔ اس لیے صورتحال کچھ ایسی بن گئی تھی کہ تحریک انصاف نگران دور کی بیوروکریسی ٹیم سے جان چھڑانا چاہتی ہے لیکن یہ نگران ٹیم تحریک انصاف کی جان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ ہم تو لائے ہیں اب ہمیں ہی نکالا جا رہا ہے۔ لیکن تحریک انصاف اب ایک سیاسی حکومت بن چکی ہے۔ وہ ان کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔

اس لیے وزیر اعلیٰ نے آتے ہی ڈاکٹر راحیل صدیقی کو سیکریٹری ٹو سی ایم لانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ بڑی عید کی چھٹیوں میں ہی ہوگیا تھا۔ اس ضمن میں خرم آغا کو تبدیل کرنے اور ڈاکٹر راحیل صدیقی کو وزیر اعلیٰ کا سیکریٹری لگانے کی سمری چل پڑی تھی ۔ اطلاعات تو یہی تھیں کہ   وزیر ا علیٰ نے اس سمری کی منظوری بھی دے دی تھی۔ خرم آغا نگران دور میں وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری  تھے۔ وہ ایوان وزیر اعلیٰ میں خاصے طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ اس لیے انھیں تبدیل کرنے کی سمری رک گئی۔ ویسے تو میں سمجھتا ہوں کہ خرم آغا کو اپنا تبادلہ رکوانے کی کوشش ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جو سمری چل پڑی تھی انھیں اسے رکوانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے تھے۔ انھیں یہ سمجھ جانا چاہیے تھا کہ وزیر اعلیٰ کی مرضی کے بغیر کوئی وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری کے طور پر کیسے کام کر سکتے ہیں۔ یہ تو رشتہ ہی اعتماد کا ہے۔

یہ تبادلہ رک جانے سے پوری بیوروکریسی کو ایک عجیب پیغام چلا گیا۔ بیوروکریسی سردار عثمان بزدار کی طاقت کے بارے میں ابہام کا شکار ہو گئی۔ سوال اٹھنے لگے کہ اگر وہ اپنی مرضی سے اپنا  سیکریٹری نہیں لگا سکتے تو صوبہ کیا چلائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسی وجہ سے پنجاب میں بیوروکریسی میں مسائل بھی پیدا ہوئے۔ دو ڈی سی اوز نے اپنی ہی حکومت کے خلاف خط لکھ دئے۔ یہ خط تحریک انصاف کی حکومت کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں تھے۔ چند آزاد ووٹوں سے بننے والی یہ ایک کمزور سیاسی حکومت کیسے بیوروکریسی کے اس رویہ کے متحمل ہو سکتی ہے۔

چیف سیکریٹری پنجاب  بھی ہے کہ وہ نگران دور میں آئے تھے۔ ان کا بھی پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ وہ پنجاب میں نئے ہیں۔ نگران دور میں تو یہ بات کریڈٹ تھی کہ ایک ایسا چیف سیکریٹری لگا دیا گیا ہے جس کا پنجاب کے سیاسی نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اب سیاسی دور میں یہی کریڈٹ ڈس کریڈٹ بن گیا ہے۔ وہ پنجاب کے سیاسی تقاضوں سے ناواقف ہیں۔ اس لیے سردار عثمان بزدار کے لیے مسائل بن رہے تھے۔

لیکن اب انتقال اقتدار کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ سردار عثمان بزدار نے بالآخر خرم آغا کو تبدیل کروا لیا ہے۔ بلکہ اب انھیں پنجاب بدر کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ ڈاکٹر راحیل صدیقی سیکریٹری ٹو سی ایم بن گئے ہیں۔ شائد اگر خرم آ غا پہلے اپنا تبادلہ نہیں رکواتے تو پنجاب میں کسی اہم جگہ رہ جاتے۔ لیکن اب انھیں پنجاب سے ہی جانا پڑ گیا۔

جہاں تک دو ڈی سی اوز کے خط کا تعلق ہے۔ آئیڈیل بات تو یہی تھی کہ ان ڈی سی اوز کو شاباش دی جاتی۔ پنجاب میں پٹواری کلچر ختم کرنے کا یہ سنہری موقع تھا۔ اگر پنجاب کی سیاست سے تھانہ اور پٹواری کلچر ختم ہوجائے تو پنجاب کی سیاست میں انقلابی تبدیلیاں آجائیں گی۔ شائد تحریک انصاف کو جس تبدیلی کی خواہش ہے وہ ممکن ہو سکتی۔ لیکن ایسا کرنے سے پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ آزاد ارکان کسی انقلاب یا کسی نظریہ کے تحت تحریک انصاف میں شامل نہیں ہوئے۔ یہ وزارتوں کے چکر میں آئے ہیں۔

اسی لیے وزارتوں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر نصر اللہ دریشک کے کہنے پر اگر پٹواریوں کے تبادلے بھی نہیں ہونگے۔ تو وہ تحریک انصاف میں کیا کرنے آئے ہیں۔ وہ جیتنے والے گھوڑے ہیں ۔ وہ ہر حکومت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہی صورتحال چکوال کی بھی ہے۔ وہاں بھی پٹواریوں کے تبادلوں کا تنازعہ سامنا آیا ہے۔پاکپتن کے ڈی پی او کا تنازعہ بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

میں دونوں ڈی سی اوز کو شک کا فائدہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ دونوں نگران دور میں تعینات ہوئے ہیں۔ بلکہ پنجاب میں ابھی تک نگران دور کی ہی بیوروکریسی تعینات ہے۔ بیوروکریسی بھی عجیب غلط فہمی کا شکار ہو گئی کہ شائد واقعی کوئی تبدیلی آگئی ہے۔ شائد اب سیاسی مداخلت نہیں ہو گی۔ انھیں مرضی کرنے کا بھر پور موقع مل جائے گا۔ لیکن یہ سیاسی دور ہے۔ اس میں سیاسی کام نہیں ہونگے تو کیا ہوگا۔ اس لیے انھوں نے نگران دور کے تناظر میں ہی خطوط لکھ دئے۔ اب ان دونوں کو شوکاز جاری کر دئے گئے ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ تحریک انصاف کی سیاسی حکومت نے پنجاب میں اپنی رٹ قائم کر لی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب میں انتقال اقتدار اب مکمل ہو رہا ہے۔ جب تک سردار عثمان بزدار کی بیوروکریسی پر رٹ نہیں ہو گی وہ صوبے پر کیسے حکومت کر سکتے ہیں۔ انھوں نے دفاتر میں چھاپے مارنے شروع کر دئے ہیں۔ افسران کی سرزنش شروع کر دی ہے۔ وہ اب اپنی مرضی کی ٹیم لانے کے موڈ میں لگ رہے ہیں۔ یہ نگران دور میں جو آگئے تھے۔ اب ان کے جانے کا وقت آگیا ہے۔ رہے گا وہی جو تحریک انصاف کی سیاسی حکومت کی سیاسی ضروریات کو سمجھے گا۔

میرے خیال میں پنجاب میں بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آنیوالی ہیں۔ سب ڈی سی اوز کی چھٹی ہوگی۔ نئے افسران آئیں گے۔ سب اپنی اپنی مرضی کے نام دے رہے ہیں۔ اس پر کام ہو رہا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ماضی کی حکومتوں میں ہوتا تھا۔نا پسندیدہ افسران کی پنجاب بدری بھی جاری ہے۔ ڈی پی او پاکپتن کو بھی پنجاب بدرکر دیا گیا ہے۔ پرانے سب جا رہے ہیں تا کہ نئی حکومت کی رٹ قائم ہو سکے۔ مقتدر حلقوں میں بھی ایسی تبدیلیاں آرہی ہیں جس سے پنجاب میں انتقال اقتدار ممکن ہو رہا ہے۔ وہ جو نگران دور میں اہم تھے۔ اب اہم نہیں رہے۔ وہاں بھی نئے چہرے آرہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔