ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں

یونس ہمدم  ہفتہ 15 ستمبر 2018
hamdam.younus@gmail.com

[email protected]

اپنے دورکے عظیم شاعر منیرؔ نیازی کے بارے میں ایک بات بڑی مشہور تھی کہ وہ اپنے ہرکام میں اکثر دیرکر دیا کرتے تھے۔ کہیں جانا ہو، کسی کو کچھ بتانا ہو، کسی سے کچھ لینا ہو، کچھ دینا ہو وہ ہمیشہ کچھ دیر کردیا کرتے تھے، اپنی اسی عادت کو اور اس کیفیت کو انھوں نے ایک نظم میں بھی سمو دیا تھا اور پھر اس نظم کو بھی بڑی شہرت ملی تھی وہ جس مشاعرے میں جاتے ان سے ان کی مخصوص نظم سننے کی ضرور فرمائش کی جاتی تھی ۔اس کالم میں پہلے میں ان کی وہی نظم نذر قارئین کررہاہوں:

ہمیشہ دیرکر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں

ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو

اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

شاعر منیرؔ نیازی کی یہ بے چینی ان کی زندگی پر ہمیشہ حاوی رہی تھی ،اب میں آتا ہوں منیرؔ نیازی کی اس غزل کی طرف جو پہلی بار فلم شہید میں شامل کی گئی۔ مصنف ریاض شاہد نے جب پہلی بار منیرؔ نیازی سے فلم میں لکھنے کے لیے کہا تو وہ یہ کہہ کر ٹال گئے سوچوںگا اس بارے میں، مگر ریاض شاہد بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے انھوں نے منیرؔ نیازی کی ایک غزل فلم شہید کے لیے منتخب کر لی۔ پھر مذکورہ غزل کو نسیم بیگم کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا اور موسیقار تھے رشید عطرے ، فلم کے ہدایت کار تھے خلیل قیصر۔ انھوں نے بھی اس غزل کی بہت دلکش دھن بنائی تھی ، ایک ایک لفظ کو سروں سے سجایا تھا اور جب یہ غزل فلم کی ہیروئن مسرت نذیر پر فلمائی گئی تو مسرت نذیر نے بھی اپنے اداکاری سے اس غزل کے تاثر کو اور اجاگر کر دیا تھا۔ فلم شہید نے باکس آفس پر بڑی کامیابی حاصل کی تھی ان دنوں منیرؔ نیازی کی یہ غزل پاکستان کے ہر ریڈیو اسٹیشن سے کئی بار میں نشر ہوتی تھی اور یہ غزل پسندیدگی کی سند بن گئی تھی۔

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

فلم شہید میں آنے کے بعد یہ غزل لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گئی تھی اور گلوکارہ نسیم بیگم بھی اس غزل کے بعد صف اول کی گلوکاراؤں میں شامل ہو گئی تھی۔ اس غزل کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ منیرؔ نیازی اس غزل کی شہرت کو مزید کیش کراتے اور فلمسازوں کی طرف سے فلموں میں گیت لکھنے کی آفرز قبول کر لیتے مگر منیرؔ نیازی فلموں کے لیے لکھنے کا کوئی فیصلہ نہ کر سکے اور اپنی بات پر ہی اڑے رہے کہ بھئی ! فلمی دنیا سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں مجھے اپنی فلموں سے دور ہی رکھو مگر مصنف ریاض شاہد ہار ماننے والے آدمی نہیں تھے۔ وہ منیرؔ نیازی کے موقف کو درست تسلیم نہیں کرتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ اچھا ادب فلم کی زینت ہونا چاہیے پھر ریاض شاہد نے منیرؔ نیازی کو کسی طرح راضی کر ہی لیا ان سے اپنی فلم کی لیے دو گیت لیے ، ایک مہدی حسن کی آواز میں اور دوسرا میڈم نور جہاں سے گوایا گیا تھا۔

وہ فلم تھی ’’سُسرال‘‘ اور گلوکار مہدی حسن کے گائے گیت کے بول تھے:

جس نے میرے دل کو درد دیا

اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں

اور میڈم نور جہاں کے گائے ہوئے گیت کے بول بھی دل کو چھولیتے تھے ۔ اس گیت کے بول تھے:

جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جا

کہیں سن نہ لے زمانہ اے دل خاموش ہو جا

ان گیتوں کی دھن مشہور موسیقار حسن لطیف للک نے بڑی دلکش بنائی تھیں۔ فلم سسرال کو بھی کہانی اور گیتوں کی وجہ سے بڑا پسند کیا گیا تھا۔ اب منیرؔ نیازی کی شاعری تسلسل کے ساتھ فلموں کی زینت بنتی جا رہی تھی، اس زمانے میں ریاض شاہد کے بے باک قلم سے لکھی ہوئی ایک اور فلم بنی تھی جس کا نام تھا ’’لہو پکارے گا‘‘ وطن کی آزادی کے موضوع پر یہ ایک بہت ہی خوبصورت شاندار بلکہ جاندار فلم تھی ۔کہانی انگریز سامراج کے خلاف تھی، وطن کی آزادی کی جد وجہد کا موضوع بڑی کامیابی سے پیش کیا گیا تھا۔

اس فلم میں سنتوش کمار نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور منیرؔ نیازی کا لکھا ہوا ایک بہت ہی پر اثرگیت جس کی موسیقی ایم الیاس نے دی تھی اور سنتوش کمار پر فلمایا یہ گیت گلوکار سلیم رضا نے گایا تھا۔ گیت کے بول تھے۔

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی

بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

کھل گئے شہرِ غم کے دروازے

اِک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی

ریاض شاہد کی یہ فلم بھی عام ڈگر سے ذرا ہٹ کر فلم تھی اس فلم کو تجارتی طور پر زیادہ کامیابی حاصل تو نہ ہو سکی تھی مگر خواص میں پسند کی گئی تھی اور فلم کے ناقدین نے اس فلم کو بڑا سراہا تھا۔ اس دور کی ایک فلم تھی، تیرے شہر سے ، جس کے موسیقار حسن لطیف تھے، اس میں بھی منیرؔ نیازی کی ایک درد میں ڈوبی ہوئی غزل کو شہنشاہ غزل مہدی حسن نے بھی بہت ڈوب کر گائی تھی جس کا مطلع تھا:

کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیں

اپنے اپنے غم کے فسانے ہمیں سنانے آ جاتے ہیں

منیرؔ نیازی فلمی دنیا سے جتنا دامن بچانا چاہتے تھے۔ فلمساز اتنا ہی ان کے دامن کو سختی سے تھامے رہنا چاہتے تھے اور یہ کشمکش خوب رنگ دکھا رہی تھی اور منیرؔ نیازی کی شاعری کی چھاپ بھی فلمی دنیا میں گہری ہوتی جا رہی تھی، اس زمانے میں 1976ء کی ایک فلم ’’خریدار‘‘ تھی ۔ اس فلم میں ملتان سے نئی نئی آئی ہوئی گلوکارہ ناہید اختر سے موسیقار ایم اشرف نے منیرؔ نیازی کی لکھی ہوئی ایک غزل گوائی تھی۔ جو فلم خریدار کی ہائی لائٹ بنی اور ناہید اختر اس غزل کے بعد شہرت کے راستے کی ہم سفر بن گئی تھی۔ناہید اختر کی آواز میں وہ غزل تھی:

زندہ رہیں توکیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

کاش ! منیرؔ نیازی فلمی دنیا میں آنے میں اتنی دیر نہ کرتے تو نہ جانے اور بھی کتنے خوبصورت گیت اور دلکش غزلیں فلموں کا حصہ بنتیں ، مگر فلم انڈسٹری سے دل لگانے میں بھی انھوں نے بہت دیر کر دی تھی۔ میں نے انھیں پہلی بار لاہور کی مشہور ادبی بیٹھک ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ میں دیکھا تھا۔ پھر چند مختصر سی ملاقاتیں بھی رہی تھیں مگر اب وہ فلمی دنیاسے کنارہ کش ہو جاتے جا رہے تھے وہ فلمی لوگوں کے میل ملاپ سے بھی گھبراتے تھے۔ ان کی اپنی الگ ہی ایک دنیا تھی اور وہ دنیا تھی شاعری کی دنیا جس میں وہ مست مگن رہتے تھے اور اگر مشاعروں میں بھی موڈ کرتا تو جاتے ورنہ معذرت کر لیا کرتے تھے ۔ منیرؔ نیازی جتنے اچھے اردو کے شاعر تھے اتنے ہی اچھے پنجابی زبان کے شاعر بھی تھے ۔ انھوں نے ابتدا میں پنجابی شاعری بھی بڑی با کمال کی تھی آج وہ دنیا میں نہیں مگر ان کی شاعری برسوں ذہنوں کو مہکاتی رہے گی، آخر میں ان کے چند اشعار پر کالم کا اختتام کرتا ہوں:

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

اُس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے

پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنا ڈالی تم نے تو منیرؔ اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اُکتائے ہوئے رہنا



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔