سیاہ روٹیاں

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 15 ستمبر 2018
aftabkhanzada2@yahoo.com

[email protected]

دعائیں، بد دعائیں،آہیں، صدائیں مرنے کے بعد بھی پیچھا کرتی ہیں ’’تم نے اپنی حماقت کے لیے متاع دنیا کے انبار جمع کر رکھے ہیں اور ضرورت مندوںکو روٹی کا ایک ٹکڑا دینے میں تمہیں عار ہے مگر وہ دن قریب ہے، جب تمہیں درد ناک شعلوں میں جلایا جائے گا اور تم ایک قطرہ آب کے لیے التجائیں کروگے ؟”Ship of Fools: sebastian Brant”آئیں! پہلے عظیم فرانسیسی اناطول فرانس کی نوبل انعام یافتہ کہانی ’’سیاہ روٹیاں‘‘ سے چند اقتباس پڑھتے ہیں ’’ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب نکولس یزلی نامی ایک شخص فلورنس کے عالی شان شہر میں بینکار تھا، صبح ہوتے ہی وہ اپنی میزکے سامنے جا بیٹھتا۔

سہ پہر کا گھڑیال بج اٹھتا مگر نکولس وہیں مورچہ لگائے پستکون میں درج اعداد وشمار سے الجھتا رہتا۔ شہنشاہ سے لے پوپ تک سب ہی اس کے مقروض تھے اسے رقم ڈوبنے کا خدشہ نہ ہوتا تو وہ شیطان کو بھی قرض دیتا۔ دوسروں کی جمع جتھا پر ہاتھ صاف کرکے اس نے بے انداز ہ دولت سمیٹ لی تھی اس کا گھر ایک بڑے محل کی صورت میں وسیع وعریض قطعہ اراضی پر پھیلا ہوا تھا، جہاں دن کے وقت بھی سورج کی روشنی صرف تنگ کھڑکیوں کے ذریعے ہی پہنچ پاتی تھی۔

یہ بھی اس کی عقل مندی کی دلیل تھی کیونکہ امیر آدمی کا گھر ایک قلعہ ہونا چاہیے، تاکہ مکاری سے ہتھیائی ہوئی دولت کی حفاظت طاقت سے کی جا سکے۔ سردیوں کی ایک شام وہ گھر کو لوٹ رہا تھا، اسے معمول سے کچھ دیر ہو چکی تھی، گھر کی دہلیز پر نیم عریاں درویشوں کے ایک ہجوم نے اسے گھیر لیا اور ہاتھ پھیلائے، بھیک مانگنے لگے اس نے سخت سست کہہ کر اپنی جان چھڑانا چاہی مگر وہ مارے بھوک کے بھیڑیوں کی طرح نڈر ہو رہے تھے انھوں نے اس کے گرد دائرہ بنا لیا اور اپنی پھٹی ہوئی قابل رحم آوازوں میں روٹی کا مطالبہ کرنے لگے وہ جھک کر انھیں مارنے کے لیے پتھر اٹھانا چاہتا تھا۔ اچانک اس کی نظر اپنے ملازم پر پڑی جو روٹیوں کی ٹوکری سر پر اٹھائے گھر سے نکل رہا تھا یہ روٹیاں اصطبل کے سائسوں ، خانساموں اور مالیوں کے لیے جا رہی تھی۔

اس نے ہاتھ کے اشارے سے ملازم کو بلایا اور دونوں ہاتھ ٹوکری میں ڈال کرکچھ روٹیاں نکالیں اور بھوکوں کی طرف اچھال دیں گھر میں داخل ہوکر وہ بستر کی طرف گیا رات کے وقت اس پر مرگی کا حملہ ہوا اس کی موت اس سرعت سے حملہ آور ہوئی کہ وہ اپنے خیال میں ابھی بستر پر ہی تھا کہ اس نے خود کوکال کوٹھری جیسی جگہ پر پایا جہاں فرشتہ مائیکل اپنے وجود سے نکلتی روشنی میں نہایا بڑے انہماک سے ترازو ہاتھ میں تھامے پلڑوں میں کچھ رکھ رہا تھا۔

نکولس نے دیکھا کہ نیچے جھکے پلڑے میں کچھ جواہرات تھے جو بیوہ عورتوں نے اس کے پاس رہن رکھوائے تھے سونے کے وہ ٹکڑے تھے جو وہ گاہکوں کے زیورات سے چھیل لیا کرتا تھا ، سونے کے سکے تھے جو اس نے سود یا دھوکا دہی سے کمائے تھے۔ نکولس کو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ خود اس کی زندگی کا مال تھا ، جس کی منصفی اس کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی تھی ۔

جناب عالیٰ اس نے کہا کہ اگر آپ پلڑے میں میرے افعال بد رکھ رہے ہیں تو دوسرے پلڑے میں میری وہ نیکیاں نہ بھولیں جن کا ایک عالم میں شہرہ تھا سانٹا میریا کے گرجا گھر کو مت بھولیے جس کی تعمیر کے ایک تہائی اخراجات میں نے برداشت کیے تھے اور پھر شہر پناہ سے باہر وہ سرائے جسے میں نے اپنی جیب سے تعمیر کروایا ’’فکر مت کرو نکولس‘‘ مجھے بھولنے کی عادت نہیں ۔ یہ کہتے ہوئے فرشتے نے یہ چیزیں دوسرے پلڑے میں ڈال دی مگر پلڑے میں کوئی جھکاؤ پیدا نہ ہوا ۔

نکولس پریشان ہو گیا ’’محترم دوبارہ توجہ فرمائیے آپ نے پلڑے میں مقدس پانی کا فوارہ جو میں نے گرجا گھر میں بنوایا تھا اور سینٹ اینڈریا کا وہ منبر بھی مجھے نظر نہیں آ رہا جس پر یسو ع مسیح کے بپتسمہ کی قد آدم عکاسی تھی۔ فرشتے نے منبر اور فواراہ اٹھا کر سرائے کے اوپر رکھ دیے مگر میزان میں کوئی جنبش نہ ہوئی ۔ نکولس نے کہا محترم کیا آپ کویقین ہے کہ میزان میں کوئی خرابی نہیں ہے ؟

فرشتے نے کہا اس کے درست ہونے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ’’گویا گر جا، فواراہ منبر اور سرائے کا وزن کسی پرندے کے پرکے برابر بھی نہیں ہے تم خود دیکھ لو‘‘ ’’پھر تو مجھے جہنم میں جانا ہو گا ‘‘نکولس تقریبا رودیا دہشت کے مارے اس کے دانت بجنا شروع ہو گئے‘‘ صبر نکولس صبر ابھی ہمار اکام ختم نہیں ہوا‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے وہ سیاہ روٹیاں اٹھائیں جو نکولس نے درویشوں میں بانٹی تھیں اور نیکیوں والے پلڑے میں ڈال دیں یکایک میزان میں حرکت پیدا ہوئی اور دونوں پلڑے متوازن ہو گئے مہربان فرشتہ بولا ’’سنو نکولس تمہار ے اعمال ظاہر کرتے ہیں کہ تم ابھی جنت اور جہنم میں کسی کے بھی حقدار نہیں ہو، فلورنس واپس چلے جاؤ اور شہر والوں میں وہی روٹیاں بانٹو جو تم نے پچھلی رات گداگروں کو دی تھیں جب تمہیں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا تمہاری نجات ہو جائے گی۔ ‘‘

میرے ملک کے امیروں، بااختیارو تم نے چند یا ہزار، یا لاکھ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو بھوکا مار ڈالا ہے، اپنے محلوں سے باہر نکل کر دیکھو، کروڑوں انسان ایک ایک روٹی کے لیے ترس رہے ہیں، ہاتھ اٹھائے تم سے بھیک مانگ رہے ہیں جلد یا بدیر تم نے بھی وہیں چلے جانا ہے جہاں تمہاری ہر ہر حرکت کا حساب ہونا ہے ۔ بس یہ بات یاد رکھنا کہ بددعائیں، صدائیں اور آہیں تمہارا مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑیں گی ۔ یہ محلات ، ہیرے جواہرات کا ڈھیر، روپوں پیسوں کے خزانے تمہارے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ ابھی تمہارے پاس وقت ہے اس لیے جتنی نیکیاں کما سکتے ہو کمالو، ورنہ تمہارے پاس حساب کے وقت رونے اورکانپنے کے علاوہ اورکچھ نہ ہوگا ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔