معیشت، نئی حکومت، نیا چیلنج

جاوید قاضی  ہفتہ 15 ستمبر 2018
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

جو مجموعی ٹیکسز ہمیں ملتے ہیں وہ ہماری مجموعی پیداوارکا دس فیصد بھی نہیں۔ اس بیان کو معیشت کی زبان میں GDP Rate Tax کہا جاتا ہے اور دوسری طرف ہمارے مجموعی اخراجات ہیں، وہ مجموعی پیداوارکا بیس فیصد ہیں۔ یعنی سو فیصد کا خسارہ ۔ کماتے ہم 2600 ارب ہیں اورکھاتے ہم 5200 ارب روپے ہیں۔

دوسری طرف معاملہ یہ بھی نہیں کہ یہاں سب کچھ روپوں میں ہوتا ہے ۔ ہم باہر سے بھی کچھ منگواتے بھی اور باہرکچھ بھیجتے بھی ہیں۔ ہم ان کو بیس ارب ڈالر کی چیزیں بیچتے ہیں تو ایسے ہی بیس ارب ڈالر ہمیں بھی ملتے ہیں، جو پاکستانی باہر مزدوری کرتے ہیں وہ ہمیں بھیجتے ہیں، جب کہ ہم دنیا سے 57 ارب ڈالر کی چیزیں منگواتے بھی ہیں ۔ یعنی سترہ ارب ڈالرکا ہمیں یہاں بھی خسارہ ہے ، یہ ماجرہ دہائیوں سے جاری ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا سال ہوگا جب ہم نے باہر سے زیادہ اشیاء منگوانے کی بجائے بھیجی ہوں گی یا پھر کم خریدی ہوں گی ۔

اس تمام تر صورتحال سے ہم قرضوں میں ڈوب گئے ۔ سو ارب ڈالر باہرکا قرضہ اور لگ بھگ 26000 ہزار ارب کا کل قرضہ اس وقت ہمارے اوپربنتا ہے، قرضہ جات میں اندرونی قرضے بھی شامل ہیں ۔ ہم روپوں میں قرضہ تو اتار سکتے ہیں کیونکہ ہم نوٹ چھاپ سکتے ہیں ۔ مونو پلی ہے، لیکن ہم ڈالر تو نہیں چھاپ سکتے ۔

باہرکا قرضہ لینا اپنے آپ کوگروی رکھنے کے برابر ہے ۔ کیونکہ وہ قرضے sovereign ہوتے ہیں ۔ وہ آپ کی آزادی اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں ۔ بہت سی وجوہات ہونگی لیکن قرضے دینے والے اس لیے قرضہ دیتے ہیں کہ ان کا اثر و رسوخ اور مداخلت آپ کے داخلی معاملات میں ہو سکے۔ پہلے حملہ آورگھوڑوں پر چڑھ کر آتے تھے یا کشتیوں میں آتے تھے اور آپ کو غلام بناتے تھے اور اب حملہ آور آپ کو ڈالر میں قرضہ دے کر آپ کو غلام بناتے ہیں۔

قرضے لینا بھی کوئی بری بات بھی نہیں، یہ ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن قرضہ لینے کے بعد اگر ان کا صحیح استعمال نہ ہوں یا وہ کرپشن کی نذر ہو جائیں تو پھر صورتحال کچھ ایسی ہی بنتی ہے جو آج ہمارے سامنے ہے۔

بیس کروڑ لوگوں کا ملک صرف بیس ارب ڈالر کی اشیاء باہر ایکسپورٹ کرتا ہے یہ بات ہمارے لیے باعث شرم ہے۔ ہم نے دراصل لوگوں میں انویسمنٹ نہیں کی ، انھیں ہنر مند نہیں بنایا ۔ ہم جو ایکسپورٹ کرتے ہیں، اس کا کثیر حصہ خام مال ہے نہ کہed value add چیزیں۔

ہم جو پیسے ٹیکسوں کی مد میں کماتے ہیں، ان میں اسی فیصد سے بھی زیادہ ٹیکس ان ڈائریکٹ ٹیکس ہیں اور جو ڈائریکٹ ٹیکس ہیں یا انکم ٹیکس ہیں اس کا بھی اکثر حصہ غریب یا متوسط سرکاری ملازم یا پرائیوٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ہیں جن کی تنخواہیں بہت زیادہ یا بڑی ہیں ان کو بہت چھوٹ حاصل ہے۔ اس کو regressive tax کہا جاتا ہے۔ ان ڈائریکٹ ٹیکس کا بھی اسی فیصد حصہ غریبوں یا متوسط طبقے سے چیزیں مہنگی کرنے کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے۔

آج کل افراط زر بھی چھ فیصد کے گرد گھوم رہا ہے اور یہ بھی ٹیکس لینے کا ایک طریقہ ہے کیونکہ جب آپ ڈالر نہیں کما سکتے تو آپ پھر روپیہ سستا کر دیتے ہیں تا کہ آپ کے سستے روپے کوکچھ ڈالر مل جائیں ، لیکن ڈالر کے مہنگے ہونے کے اثرات براہ راست غریب پر ہی پڑتا ہے کہ روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور ہمارا امپورٹ بھی مہنگا پڑنے لگتا ہے۔

ہمارے ملک میں ٹیکس کا نظام دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ملک شرفاؤں کا ہے لیکن شرفاء ٹیکس ادا نہیں کرتے ۔ٹیکسز کا ادا کرنا صرف غریب کے حصے میں آتا ہے اور اس طرح بری حکمرانی کے نظام میں غریبوں کے آگے نکلنے کے سارے راستے چھین لیے ہیں ۔ اسکول وصحت کے ادارے پر سان حال ہیں ۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں ۔ وبائی بیماریوں کے انبار ہیں ۔

ہندوستان جیسے ملک میں tax to GDP Rate 19% ہے ۔ دنیا میں سویڈن اور کینیڈا جیسے ممالک بھی ہیں جہاں یہ شرح ساٹھ فیصد ہے۔ ہماری ریاست کی نفسیات ہمارے ٹیکس نظام سے ظاہر ہوتی ہے اور ہمارے ا شرافیہ کے ڈھکے راز بھی ظاہر ہوتے ہیں ، لیکن پانی سر سے گزر چکا ہے، معیشت turn around مانگتی ہے۔ اخراجات کم کرنا، نئے ٹیکس لگانا اس وقت اسی طرح ہی ہے جیسے ۔

ایسا آسان نہیں لہو رونا

دل میں طاقت جگر میں حال کہاں

(غالب)

لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔ ایسا بحران جب یونان میں آیا تو ان کی مشکلات کچھ اس طرح حل ہوئیں کہ ان کی کرنسی یوروز میں تھی جس کو یورپین سینٹرل بینک لینا چاہتی تھی وہ اس کو depreciate نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ ہم ڈالر کے سامنے اپنے روپے کو devalued کر دیتے ہیں۔

جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو اس وقت خبریں یہی سنی جا رہی ہیں کہ حکومت ملازمین پر نئے ٹیکس عائد کر رہی ہے۔ ترقیاتی کاموں کی مد میں رکھے ہوئے پیسے بجٹ سے کم کر رہی ہیں۔ جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں کم ہو رہی ہیں اور ترقیاتی بجٹ کم کرنے کا نتیجہ کچھ اس طرح بھی نکلے گا کہ روزگار کے مواقعے کم ہوں گے اور مجموعی طور پر کنزمپشن کم ہوگی ،وہ چاہے سیمینٹ کی ہو یا سریے کی ۔ جب ڈیمانڈ کم ہوگی تو سپلائی بھی کم ہوگی اور اس طرح جو مجموعی پیداوار جو پہلی حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ 5.1 فیصد پر رہے وہ اور نیچے جائے گی اور معاشیاتی حال ماہر تو یہ کہہ رہے ہیں کہ رواں مالی سال میں شرح نمو 3.5 رہے گی، لیکن اقدام یہی ہیں جو اٹھانے ہیں۔

ایسالگتا ہے کہ سی پیک کے منصوبے میں سست روی ہوگی اور ہمیں پیسے آئی ایم ایف سے ہی لینے پڑیں گے اور ان پیسوں پر آئی ایم ایف بہت کڑی شرائط لگائے گا۔

دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ ہماری کرپشن کا یہ حال ہے کہ ڈالر اوپن مارکیٹ میں آتے ہی اٹھا لیا جاتا ہے اور یہ پیسہ پراپرٹی کے کاروبار میں لگا دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پراپرٹی تیزی سے مہنگی ہوتی ہے اور غریبوں کی پہنچ سے بہت دور کہ وہ اپنا گھر بھی بناسکیں ۔

ہماری نان ڈاکومینٹیڈ معیشت بھی اتنی ہی بڑی ہے جتنی ڈاکیومینٹیڈ معیشت۔ یہاں ٹیکس چوری کی وجہ ہے انڈر گراؤنڈ معیشت جنم لیتی ہے۔ یہ سب ایک رات میں ٹھیک نہیں ہوگا ، اگر صحیح سمت کا تعین کیا جائے اور دس سال کی مسلسل کوشش کی جائے تو ہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریٹ کو اٹھارہ فیصد تک لے کر آسکتے ہیں۔

یہی ہے بنیادی چیلنج جس کا عمران خان کو سامنا ہے اور یہی سے کام شروع کرنا ہے لیکن اگر یہ کام تیزی سے کیا جائے گا تو معیشت ایک دم سے بیٹھ جائے گی اور بے روزگاری یا افراط زرکے پیدا ہونے کا خطرہ ہوجائے گا اوراگر اس کام کو انجام دینے میں بہت سستی دکھائی گئی تو ملک کے بیٹھنے کا خطرہ ہے۔ اس لیے ہر سال دو فیصد تک یا ایک فیصد تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہو۔

ہم اس حوالے سے دنیا میں بہت بد نام ہیں۔ ہمیں قرضہ دینے والے کہتے ہیں کہ آپ تو ٹیکس چور ہیں اور ہم سے پیسے لے کر کھا جاتے ہیں۔

اب ہمیں اس بات کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹیکس ادا کرنے والا فرد اس ملک میں غریب ہے اور اس غریب کے لیے ویلفیئر کے حوالے سے ہم اپنے بجٹ میں پیسے مختص کرتے ہیں لیکن ہم وہ بھی کھا جاتے ہیں ۔ یہ کام عمران خان اپنی مضبوط حکمت عملی سے کرسکتے ہیں ، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا ٹیکس چوروں کی مافیا عمران خان کی اس حکمت عملی کوکامیاب ہونے دیتی ہے یا نہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔