ہمارے عہد میں ادب کا موضوع

مبین مرزا  اتوار 16 ستمبر 2018
آج اس سوال کی تفتیش کسی فلسفے یا نظریے کی وضاحت، رد یا قبول کے لیے نہیں ہے۔فوٹو : فائل

آج اس سوال کی تفتیش کسی فلسفے یا نظریے کی وضاحت، رد یا قبول کے لیے نہیں ہے۔فوٹو : فائل

ہمارے عہد میں ادب کا موضوع کیا ہوسکتا ہے؟

سادہ سا یہ سوال مختلف ادوار میں دنیا کی کم و بیش ساری ہی بڑی زبانوں اور تہذیبوں میں نہ صرف پوچھا جاتا رہا ہے، بلکہ اس پر خوب گرماگرم بحثیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ خود ہمارے یہاں اس سوال کو پہلے بھی موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہے۔ یہی نہیں، اس کے ذریعے ہمارے بعض نظریاتی دوستوں نے اپنی نظریہ پسندی کا دفاع کرنے کا موقع بھی حاصل کیا ہے۔

کسی بھی نظریے کے دفاع کی صورت ظاہر ہے، اسی وقت پیش آتی ہے جب یا تو وہ نظریہ معاشرے کے اخلاقی، تہذیبی اور سماجی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہوتا یا پھر جب اُس کے رد کا بیانیہ معاشرے میں تشکیل پاتا ہے۔ بھلے دن تھے وہ جب ہمارے یہاں لوگ اپنے نظریات رکھتے، اُن کے ساتھ جیتے اور اُن پر مرنے مارنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ ادب اور زندگی میں ایک تحرک کا احساس مسلسل قائم رہتا تھا۔ ادب ہو یا زندگی دونوں ہی کا ثبوت ہمیں ان کے سکوت سے نہیں، سرگرمی سے ملتا ہے۔

ہمارے یہاں اب سے پہلے یہ سوال جب بھی پوچھا گیا ہے تو اس کے کچھ نہ کچھ فکری اور نظریاتی محرکات تھے، لیکن آج معاملہ مختلف ہے۔ آج اس سوال کی تفتیش کسی فلسفے یا نظریے کی وضاحت، رد یا قبول کے لیے نہیں ہے، بلکہ آج اس کی ضرورت ایک اور احساس نے پیدا کی ہے۔ ان دنوں رہ رہ کر کسی نہ کسی عنوان یہ احساس سامنے آتا رہتا ہے کہ معاشرے میں ادب کی ضرورت یا طلب ختم ہوکر رہ گئی ہے، یا بہت تیزی سے ختم ہورہی ہے۔

اس صورتِ حال میں یہ سوال کچھ ذہنوں میں اس طرح آتا ہے، چوںکہ ادب پڑھا نہیں جارہا، چناںچہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ اس دور میں ادیب کو کن موضوعات، مسائل اور سوالات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ لوگ پھر سے ادب پڑھنے کی طرف مائل ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک سنجیدہ، بلکہ خاصا گمبھیر مسئلہ ہے اور عصری زندگی کے تجربات و مشاہدات اس کے پس منظر میں واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ سو، اس مسئلے پر براہِ راست گفتگو سے پہلے بہتر یہ ہوگا کہ ہم ایک نگاہ ذرا خود ان تجربات و مشاہدات پر ڈالیں تاکہ ان کے ذریعے اس مسئلے کی نوعیت اور حقیقت واضح ہوجائے۔

یہ دور ذرائعِ ابلاغ بالخصوص الیکٹرونک میڈیا کی فراوانی اور اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے غلبے کا ہے۔ چناںچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خبر کی دوڑ اور ریٹنگ کے چکر میں پڑے ہوئے ٹی وی چینلز عالمی حالات، اطلاعات، مقامی سیاست، معیشت، سماج اور اخلاق سے لے کر صحت، حسن، غذا، دہشت اور بربریت تک ہماری زندگی اور اُس کے واقعات کا کوئی ایک پہلو ایسا نہیں ہے۔

جس کی خبر نہ بناتے ہوں۔ مراد یہ ہے کہ آج خبر حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ بنائی جاتی ہے اور اس میں خبریت سے مراد ہوتی ہے وہ شے جو لوگوں میں سنسنی پیدا کرنے اور چینل پر ان کی توجہ مرکوز رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم یہ ایک الگ موضوع ہے، فی الحال ہم اسے رہنے دیتے ہیں۔ اب قصہ یہ ہے کہ جو خبر بنائی جاتی ہے وہ چوںکہ ریٹنگ پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے خبروں کی ہائر آرکی یا اہمیت کا انحصار سب سے زیادہ اب اس بات پر ہوتا ہے کہ کس خبر سے کتنا تہلکہ مچ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں چینل پر نشر ہونے والی خبروں کے سلسلے میں اسی نکتۂ نظر سے یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ کس خبر کو کتنی بار اور کس طرح دہرا کر چلایا جائے۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں، سوشل میڈیا نے نہ صرف خبر کی دوڑ میں الیکٹرونک میڈیا سے آگے نکلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بلکہ اس نے خبر کے انداز، طریقۂ کار اور معیار تک کے بارے میں بنیادی تقاضوں کو بھی یکسر فراموش کردیا ہے۔

اس ذریعے سے تو وہ باتیں بھی خبر کے طور پر پھیل جاتی یا پھیلائی جاتی ہیں جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تو ذمے داری اور سنجیدگی کا معاملہ بھی دگرگوں ہے۔ اس میڈیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں ایک چیز جسے ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آنا چاہیے، وہ سراسر تفریح کے انداز میں آپ تک پہنچتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ یہاں سڑک کا غل غپاڑا ایک نہایت اہم ملکی اور انسانی مسئلے کے طور پیش ہوجاتا ہے۔ ایسے میں یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آپ کو ایک خبر دی گئی ہے یا محظوظ ہونے کا سامان۔

چلیے، خبر کے معاملات تو یہاں تک آہی گئے، لیکن بات یہاں بھی نہیں ختم ہوتی۔ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا دونوں تفریحِ طبع کا بھی وہ مواقع فراہم کررہے ہیں کہ بس نہ پوچھیے۔ پورے پورے چینلز انٹرٹینمنٹ کے لیے وقف ہیں جو اپنے ناظرین کو دن رات اور ہفتے کے ساتوں دن مسلسل وہ مواد پیش کرتے رہتے ہیں جو اُن کی ضیافتِ طبع کے لیے ہوتا ہے۔

ابھی اس سے بحث نہیں کہ یہ مواد کس معیار کا ہے اور آیا واقعی لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بن بھی رہا ہے کہ نہیں۔ ان شعبوں سے وابستہ افراد چاہے وہ انتظامی حیثیت میں ہوں یا صرف ناظر، ان میں سے کوئی یہ سوچتا محسوس نہیں ہوتا کہ عوامی مزاج اور نفسیات پر اس تفریح کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں۔ حالاںکہ کسی بھی سماج کی سائیکی اور اس کے نظامِ اخلاق و اقدار کے لیے یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن چلیے اسے بھی سرِ دست چھوڑ دیجیے۔ اْدھر سوشل میڈیا کو دیکھیے تو وہ عوامی انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں بھی الیکٹرونک میڈیا کو مات دینے پر اُدھار کھائے بیٹھا ہے۔

اس صورتِ حال میں اگر کچھ سنجیدہ ادیب اس مسئلے پر الجھ رہے ہیں کہ آج کے لکھنے والے کو اب کن موضوعات پر توجہ دینی چاہیے کہ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کی گرفت میں آیا ہوا شخص واپس ادب پڑھنے کی طرف مائل ہوسکے تو یہ بہت نیک فال ہے اور ماننا چاہیے کہ یہ الجھن واقعی کوئی سرسری شے نہیں ہے۔ اس پر حقیقتاً سنجیدگی سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔

اب یہاں سب سے پہلے تو ہمیں دو باتیں سمجھ لینی چاہییں۔ پہلی یہ کہ وقت نام ہے تغیر کا۔ لوگ، حالات، دنیا اور اس کے رجحانات سب کچھ وقت کے عمل کے ہاتھوں تبدیلی سے گزرتا رہتا ہے، اور یہ تبدیلی ہی زندگی کی علامت ہے۔ سو، زندگی کی بدلتی ہوئی صورتِ حال، لوگوں کے متغیر ہوتے ہوئے مزاج اور دنیا کے رجحانات میں آنے والی تبدیلی سے ادیب کو پریشان ہوکر نہیں بیٹھ رہنا چاہیے۔

اسے تو جم کر اس کا سامنا کرنا اور اپنے تخلیقی وجود کے اثبات و بقا کے لیے راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ ادب کا کام خبر اور تفریح مہیا کرنا ہے بھی نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس کے قاری کو بعض نئی باتیں بھی ادب کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں اور ادب میں ایسا بھی کچھ سامان ہوتا ہے جو اس کے لیے تسکین اور راحت کا موجب ہوتا ہے، لیکن براہِ راست خبر اور تفریح دونوں ہی چیزیں ادب کا مسئلہ نہیں ہوتیں۔ خبر کے سے انداز میں قاری کو اْس سے جو کچھ ملتا ہے، وہ خبر نہیں، بلکہ نظر ہوتی ہے۔ ادب آگہی عطا کرتا ہے۔

اب رہی تفریح تو وہ بھی اصل میں زندگی کی معنویت اور انسانی تجربے کی جاذبیت ہے جو پڑھنے والے کو منہمک رکھتی ہے، اور وہ دل و جاں سے اس کے اندر اتر جاتا ہے۔ چناںچہ ادب اپنے قاری کے لیے تفریح کا نہیں اصل میں ترفع کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ وہ کام ہے جو ایک مذہب کو چھوڑ کر کوئی دوسری شے ادب کے مقابلے میں آکر نہیں کرسکتی۔

تاہم اسی مرحلے پر ہمیں یہ حقیقت بھی واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ ادب پڑھنے کا نتیجہ سب کے لیے ایک جیسا نہیں نکلتا۔ ادب کی تفہیم اور اثرات دونوں ہی کا بہ قدرِ ہمتِ اوست والا معاملہ ہے۔ ہر پڑھنے والا اُس کے اثرات، اپنی اُپج اور افتادِطبع کے مطابق اور اپنی ذہنی، فکری، علمی اور جمالیاتی صلاحیتوں کے حساب سے قبول کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قارئین پر اثرانداز ہونے کے باوجود انسانی معاشرے کی تبدیلی یا سماجی ذہن سازی کے لیے ادب کو استعمال کرنے کی بات محض خام خیالی ہے۔

سارتر ادب کے سماجی اثر کا نہایت قائل اور اَن تھک مبلغ تھا، لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد اُس نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا تھا، اور کھلے لفظوں میں اس کا اعتراف کرنے لگا تھا کہ ادب معاشرے کو اس طرح نہیں تبدیل کرسکتا جس طرح مذہب اور سیاست کرسکتے ہیں۔1946کے بعد اُس نے ایک انٹرویو میں اس امر کا اعتراف کیا کہ وہ ادب سے جو توقعات رکھتا آیا ہے، وہ حسبِ توقع اور عملاً انسانی زندگی میں رونما نہیں ہوپاتیں۔ ادب آدمی کے احساس کی صورت گری تو کرتا ہے اور یہ اثر کسی نہ کسی صورت میں رویوں کے تغیر کے ساتھ ایک حد تک سامنے بھی آتا ہے، لیکن ایک تو یہ عمل بہت آہستہ رو ہوتا ہے اور دوسرے اس کا تناسب بھی ادب کے سارے قارئین میں یکساں نہیں ہوتا۔

انسان کی زندگی پر اُس کے خارجی حالات کا اثر بڑی اہم چیز ہے۔ حالاںکہ صوفیا ہی نہیں، بعض فلسفی اور دانش ور بھی کہتے ہیں کہ داخلی احساسات کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے انسان کا باطن یا داخل جہانِ اکبر کہلاتا ہے اور خارجی دنیا جہانِ اصغر، لیکن زندگی کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ خارجی حالات کے اثرات آدمی کی کایا پلٹنے میں زیادہ مؤثر اور سریع الاثر ثابت ہوتے ہیں۔ ادب کے اثرات اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب وہ اپنے قاری کی توجہ ظاہر کی اشیا سے ہٹا کر ان سے بڑے حقائق پر مرکوز کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کب اور کس طرح ہوتا ہے؟

اس کے لیے دو شرائط ہیں، پہلی یہ کہ ادب اس درجے کا ہو کہ وہ اپنے معانی کا ابلاغ کرتے ہوئے اشیا، افراد اور حالات کی ظاہری سطح تک نہ رکے، بلکہ اسے توڑ کر اندر اتر جائے اور وہ دیکھنے دکھانے اور سمجھنے سمجھانے کی کوشش کرے جو اس ظاہر کے تماشے کی بنیاد بنا ہے۔ فرانس کے معروف شاعر راں بو نے کہا تھا، شاعر کی اصل اور بڑی کام یابی یہ ہے کہ وہ خارجی ذرائع کے بغیر حقیقت تک رسائی حاصل کرے۔ اسی لیے اُس نے اپنی اعصابی کیفیت بدلنے اور نارمل حواس کو معطل کرنے کے لیے نشے کا سہارا لیا اور یہ سوچا کہ زندگی کی حقیقت کو اس کے ظاہری حوالوں اور رسمی ذرائع کے بغیر جان سکے۔ ظاہر ہے، یہ کوشش بے کار گئی۔ آدمی کے حس و ادراک کا نظام اپنے محدودات رکھتا ہے، اس لیے وہ اصل الاصول اور حقیقتِ حقہ کو پانے کی بھی ایک حد رکھتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ہمارے عہد میں ادب، بلکہ ساری ذہنی اور فکری سرگرمیوں پر پیغمبری وقت پڑا ہوا ہے۔ آج انسانی زندگی کے معمولات اور ترجیحات کو متعین کرنے کے لیے یہ تأثر پھیلایا گیا ہے جو غیرمعمولی طور پر کارگر بھی رہا کہ انسان کو روز مرہ کام کاج کے بعد ایسی کسی شے کی ضرورت نہیں ہوتی جو اُس کے ذہن اور اعصاب کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنے۔ اس کے بجائے اسے اعصابی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ تفریحِ طبع درکار ہوتی ہے۔ ہمیں اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھنا اور اس کا اعادہ کرنا اور بار بار اسے رد کرنا چاہیے کہ انسانی مزاج، طبیعت اور فطرت کے بارے میں یہ سراسر ایک غلط فہمی ہے جسے پھیلایا گیا ہے۔

اس کے پس منظر میں مقتدر اقوام اور ان کے اداروں کا ایک بہت سوچا سمجھا ایجنڈا کام کررہا ہے۔ اس کا ایک خاص ہدف یہ بھی ہے کہ اس عہد میں انسان کو ان سب سرگرمیوں سے دور کردیا جائے جو اُس کے اندر سوالات پیدا کرتی ہیں، اسے سوچنے پر اکساتی ہیں۔ زندگی کی ماہیت اور اس کائنات سے اپنے رشتے اور اس کی معنویت کو سمجھنے کی خواہش پیدا کرتی ہیں۔ اُس کی حسِ جمال کو تہذیب و معاشرت کے اصولوں اور نظامِ اخلاق کے تابع رکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں اور اس کے لیے ضابطۂ حیات ترتیب دیتی ہیں۔ ادب ایسی ہی ایک سرگرمی ہے۔

وہ ایک سطح پر آسودگی سے ہم کنار تو ضرور کرتا ہے، لیکن یہ وہ آسودگی ہرگز نہیں ہوتی جو قاری کے اعصاب کو شل اور ذہن کو سن کرکے اسے بے حس نیند کی وادی میں لے جائے۔ اس کے برعکس وہ اس کے ذہن کو بیدار اور اس کے اعصاب کو نہ صرف متحرک کرتا ہے، بلکہ اُس کے لیے فکر و خیال کی ضرورت اور اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔ اس لیے ادب کا مطالعہ وقت گزاری کے لیے زیادہ کارآمد نہیں ہوسکتا۔

ادب تو اُن لوگوں کے مطلب کی چیز ہے جو زندگی اور اس کے تجربات کو اپنی ذات سے باہر نکل کر اور خود کو اس وسیع و عریض کائنات سے جوڑ کر دیکھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ آج کے ذرائعِ ابلاغ اور سوشل میڈیا دونوں کا ماحول، مسائل اور منہاج سب کچھ اس کے برعکس ہے۔ ہم ذرا سا غور کریں تو بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ آج کے انسانی معاشرے میں ان کا کیا کردار ہے۔ اس کے لیے کسی خاص دقتِ نظر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس دور کے ان دونوں ذرائع کو آپ کام کرتے ہوئے دیکھیے تو صاف معلوم ہوگا کہ ان کا مقصد واضح اور متعین ہے۔ انھیں اسی کے لیے بنیادی طور پر بہ روے کار لایا گیا ہے۔

اب رہی بات آج کے ادب کے موضوع کی تو سچ یہ ہے کہ ہمارے ادیب ذرا تحمل اور توقف سے کام لیں تو انھیں اندازہ ہوگا کہ یہ سوال غیراہم اور غیرضروری ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ انسان کی پوری زندگی، اس کے اعمال کا سارا دائرہ، اس کی جملہ کیفیات، سارے تجربات اور احساسات— یہ سب کچھ ادب کا موضوع ہے۔ آلو اور ٹماٹر سے لے کر، جنسی جذبے اور تجربے کی روشن و تاریک جہتوں تک اور اس کے علاوہ کائنات کی وسعتوں تک سب کچھ ادب کے موضوع کے لیے کارآمد، مفید اور قابلِ قبول ہے۔ ادیب زندگی کے حقائق کو اور اس کائنات میں انسانی تجربات کو، بلکہ پورے انسانی کردار کو ازسرِنو بسر کرتا ہے اور اس طرح زندہ کرتا ہے کہ ہم اُس کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کرلیتے ہیں۔

ادیب کی کارگزاری کا میدان بے حد وسیع ہے۔ اس کے لیے کوئی شے پرانی ہے اور نہ ہی پائمال، اذکاررفتہ ہے اور نہ ہی لایعنی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ادیب جس تجربے، حقیقت یا کردار کو پیش کرنا، معرضِ اظہار میں لانا یا زندہ کرنا چاہتا ہے، وہ اسے اوپری سطح پر تھامنے یا اوڑھنے کی کوشش نہ کرے، بلکہ اُسے فی الاصل زندگی کا لمس دینے میں کامیاب ہوجائے۔ ہمارے دور کے بڑے ادیب میلان کنڈیرا کا کہنا ہے کہ کسی کردار کو زندہ کرنے کا مطلب ہے اُس کے وجودیاتی مسئلے کی تہ تک پہنچنا۔ اب کنڈیرا کی اس بات پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ وجودیاتی مسئلہ دونوں جہات میں ظاہر ہوتا ہے۔ فرد کے باطن میں اُس کی جڑیں ہوتی ہیں اور ظاہر میں اُس کی شاخیں اور پھول پتے۔ جب یہ مسئلہ اندر باہر دونوں سطحوں پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے تو پھر اس کو سہارنے کی سکت ادیب میں پیدا ہوتی ہے۔

آج کے ادیب کے پاس بدلتی ہوئی دنیا، انسانی رویے، حالات، اقدار کا تبدیل ہوتا ہوا منظرنامہ، انسانی احساس کی بنتی بگڑتی صورتیں، گویا تجربات و احساسات کا پورا ایک جہان موجود ہے۔ ادیب کے لیے موضوع کی بھلا کیا کمی ہے۔ وہ دائیں بائیں نگاہ تو ڈالے، بلکہ صرف اپنی طرف نظر بھر کے دیکھ لے تو بھی اسے سوچنے اور لکھنے کے لیے اتنا کچھ مل سکتا ہے کہ پوری زندگی اُس پر کام کرتا رہے۔ ضرورت صرف اس چیز کی ہے کہ آج کا ادیب یہ ہمت اور جرأت پیدا کرے کہ وہ کسی خوف اور مصلحت کے بغیر ظاہر کی سطحوں کو توڑ کر زندگی کے، انسانی تجربات و احساسات کے اندر جھانک سکے اور پھر جو کچھ اس کے احساس و شعور پر گزرتی ہے، اُسے پوری متانت سے اپنے قاری تک پہنچا دے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔