ازاخیل پورٹ بننے سے اے ٹی ٹی کی کراچی منتقلی کا امکان

احتشام مفتی  ہفتہ 15 ستمبر 2018
ایف بی آرکے نئے احکامات سے پورٹ2تا3ماہ میں آپریشنل ہونے کی توقع ہے،ضیاسرحدی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ایف بی آرکے نئے احکامات سے پورٹ2تا3ماہ میں آپریشنل ہونے کی توقع ہے،ضیاسرحدی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

 کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ازاخیل کو کسٹمز اسٹیشن ڈیکلیئر کرنے کے احکامات کے نتیجے میں پاکستانی بندرگاہوں سے منتقل ہونیوالی70 فیصد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی دوبارہ کراچی کی بندرگاہوں کو منتقلی، 370 کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹوں کی کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے اورٹرانزٹ کے کاروبار سے منسلک 10 ہزار سے زائدافرادکا روزگار بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

سرحد چیمبر آف کامرس کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ڈرائی پورٹ وریلوے ضیا الحق سرحدی نے ایکسپریس کو بتایا کہ پشاور میں سال 1986 کے دوران عارضی بنیادوں پر ڈرائی پورٹ قائم کیا گیا تھا لیکن مطلوبہ گنجائش ودیگر سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے نوازشریف کے پہلے دور حکومت میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پشاورکے اس عارضی ڈرائی پورٹ کو ازاخیل ریلوے اسٹیشن سے متصل علاقے میں منتقل کردیا جائے گا جس کیلیے ازاخیل میں مجوزہ ڈرائی پورٹ کیلیے64 ایکڑ اراضی بھی مختص کی گئی تھی اور سابق وزیراعلیٰ نے پشاور ڈرائی پورٹ کے نام پر 2 کروڑ روپے کا فنڈ بھی مختص کیا تھا لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں نے تاجر برادری کی بارہا توجہ دلانے کے باوجود مجوزہ ازاخیل ڈرائی پورٹ کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔

یہی وجہ ہے کہ پشاور کے عارضی ڈرائی پورٹ پر مطلوبہ سہولتوں کی عدم دستیابی اورریلوے لوکوموٹیو نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانزٹ ٹریڈ کا کاروبار کرنے والوں کو ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کرنا پڑا اور افغان تاجروں کی اکثریت نے اپنے ٹرانزٹ کنسائمنٹس کراچی کی بندرگاہوں کے بجائے چاہ بہار اور بندرعباس کی بندرگاہوں پر لانے کو ترجیح دینا شروع کی جس کے نتیجے میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا70 فیصد حصہ کراچی کی بندرگاہوں سے منتقل ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کے نئے احکامات کے بعد توقع ہے کہ ازاخیل ڈرائی پورٹ کی تعمیراتی سرگرمیاں تیز رفتاری سے شروع ہوجائیں گی اور یہ ڈرائی پورٹ آئندہ دو سے تین ماہ میں آپریشنل ہوجائیگا چونکہ ریلوے اسٹیشن اس ڈرائی پورٹ سے متصل ہے اس لیے دونوں ممالک کے تاجرپاکستان ریلوے کی خدمات سے بھرپورانداز میں استفادہ کرسکیں گے۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں وسعت اور افغانستان کی مارکیٹوں میں بھارت کی اجارہ داری ختم کرنے کیلیے سال2010 کے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں ان سخت شرائط پر باہمی اتفاق سے نظرثانی کریں کہ جن سے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم گھٹ گیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔