کتاب جو مصنف کی موت کا سبب بن گئی

 ہفتہ 15 ستمبر 2018
جا بجا سطروں کی سطریں حذف کرنا پڑیں اور ان پر نئی عبارتیں چٹوں کی شکل میں چسپاں کروانا پڑیں۔ فوٹو: فائل

جا بجا سطروں کی سطریں حذف کرنا پڑیں اور ان پر نئی عبارتیں چٹوں کی شکل میں چسپاں کروانا پڑیں۔ فوٹو: فائل

نواب ہوش یار جنگ (ہوش بلگرامی) کی خود نوشت ’’مشاہدات‘‘ پر جب میں نے ’’صدق‘‘ میں مولانا عبدالماجد دریا بادی کا طویل ’’تبصرہ پڑھا تو بے تاب ہوگیاکہ اگر یہ کتاب مجھے نہ ملی تو میرا کتب خانہ کبھی مکمل نہ ہوسکے گا۔

میں نے پاکستان اور ہندوستان کے ہر بڑے تاجرِ کتب سے اس موضوع پر خط و کتابت کی، لیکن سوائے ناکامی اور نامرادی کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ ’’صدق‘‘ کے نائب مدیر اور ناظم الحاج حکیم عبدالقوی دریا بادی نے میرے خط کے جواب میں تحریر فرمایا کہ ’’مشاہدات‘‘ نہ صرف ضبط ہوچکی بلکہ مصنف کی موت کا سبب بھی بن چکی ہے۔

جناب ضیاالدین احمد برنی مدیر ’’کتابی دنیا‘‘ کراچی نے جواب دیا کہ ’’مشاہدات‘‘ کراچی میں کہیں دست یاب نہیں ہوتی، البتہ اس کا ایک نسخہ اُن کے ایک دوست کے کتب خانے میں موجود ہے، وہ اسے اپنے سے جدا نہیں کرتے، جب کبھی مانگا یہی جواب دیا کہ میرے ہاں تشریف لائیے، چائے پیجئے، کھانا کھائیے اور ساتھ ہی ’’مشاہدات‘‘ سے بھی دل بہلائیے۔

ان اطلاعات نے میرے آتشِ شوق کو اور بھڑکا دیا اور میری کوششیں اس کے حصول کے لیے تیز سے تیز تر ہوگئیں۔ آخر عرصۂ دراز بعد مکتبۂ نشاۃ ثانیہ حیدرآباد دکن کے تعاون سے میرا یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا۔ گو قیمت اس کی ان کو بھی دگنی یعنی بیس روپے دینا پڑی تھی۔ نواب ہوش یار جنگ کی زندگی کی یہ داستان خود ان کے قلم سے خوب تر ہے۔ انھوں نے رام پور کے نواب سر حامد علی خاں اور حیدر آباد دکن کے نواب میر عثمان علی خاں کے عشرت کدوں، عیش گاہوں اور درباروں کے متعلق جو کچھ تحریر فرمایا، کاش یہی رنگ تمام کتاب پر غالب ہوتا۔

انھوں نے شمس العلما ڈاکٹر مولوی سید علی بلگرامی مترجم ’’تمدنِ عرب‘‘ اور ’’تمدنِ ہند‘‘ بیگم بلگرامی، بابائے اردو مولوی عبدالحق، علامہ تاجور نجیب آبادی، مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا عبدالماجد دریا بادی کے متعلق اپنے تعلقات کی روشنی میں جو کچھ لکھا بہت ہی اچھا لکھا، لیکن مہاراجہ سرکشن پرشاد شادؔ اور نواب عماد الملک بلگرامی پر تو وہ پورا ایک باب ہی لکھ گئے۔ اس باب میں انھوں نے دونوں باکمال شخصیتوں کے رنگا رنگ مرقعے بہت ہی خوب صورتی اور کمال چابک دستی سے کھینچے ہیں۔

افسوس کہ ’’مشاہدات‘‘ کا ایک بڑا حصہ انھوں نے حیدر آباد دکن کی سیاسیات کی نذر کردیا۔ یہاں وہ اس بری طرح بہکے کہ انھوں نے ’’مجلس اتحاد المسلمین‘‘ اس کے قائدین اور رضاکاروں کی مذمت اور نام نہاد ہندوستانی پولیس ایکشن کی تعریف کی۔ اس کی وجہ ان کے حیدر آباد میں اس زمانے کے ہندوستانی ایجنٹ جنرل مسٹر کے ایم منشی سے دوستانہ تعلقات تھے۔ منشی نے اپنی کتاب End of an era میں بڑی صاف گوئی سے لکھا تھا کہ پولیس ایکشن کے دنوں میں نواب صاحب بھیس بدل کر رات کے دو دو بجے ان کے پاس آتے تھے اور انھیں حالات سے ’’با خبر‘‘ رکھتے تھے۔

ان باتوں کے علاوہ نواب ہوش یار جنگ ’’مشاہدات‘‘ کے صفحات میں اپنے مربی نظام دکن اور حیدرآباد کے بعض عمائدین کے خلاف اندرون خانہ اور خالص ذاتی قسم کی چیزیں لے آئے۔ چنانچہ جب یہ کتاب منظر عام پر آئی تو اس کی اس قدر مخالفت ہوئی کہ مصنف کو بعد میں متعدد اصل اوراق نکلوانے اور اس کی جگہ نئے اوراق چھپوا کر لگوانے پڑے۔

جا بجا سطروں کی سطریں حذف کرنا پڑیں اور ان پر نئی عبارتیں چٹوں کی شکل میں چسپاں کروانا پڑیں۔ اس رد و بدل سے یہ کتاب غالباً اپنی نوعیت کی واحد کتاب بن گئی لیکن اس تمام اہتمام کے باوجود مخالفت کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی اور آخر کار اس کتاب کو حیدرآباد میں ضبط کرلیا گیا۔ کتاب کی ضبطی سے مصنف کو دلی صدمہ پہنچا اور چند دنوں میں ان کا انتقال ہوگیا۔

(عبدالمجید قریشی کی تصنیف’’کتابیں ہیں چمن اپنا‘‘ سے)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔