ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی، مالی مشکلات کے سبب پاکستان کی شرکت مشکوک

محمد یوسف انجم  ہفتہ 15 ستمبر 2018
غیرملکی کوچز نے کیمپ میں شرکت کو تنخواہ کی ایڈوانس ادائیگی سے مشروط کر دیا،کھلاڑیوں کے بقایاجات بھی باقی۔ فوٹو: فائل

غیرملکی کوچز نے کیمپ میں شرکت کو تنخواہ کی ایڈوانس ادائیگی سے مشروط کر دیا،کھلاڑیوں کے بقایاجات بھی باقی۔ فوٹو: فائل

 لاہور:  مالی مشکلات کے سبب پاکستانی ہاکی ٹیم کی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں شرکت مشکوک ہو گئی جب کہ غیر ملکی کوچز نے کیمپ میں شرکت کو اپنی تنخواہ کی ادائیگی سے مشروط کردیا۔

وزیر اعظم کی طرف سے کامن ویلتھ گیمز کے لیے اعلان کردہ انعامی رقم کی مد میں 2، 2 لاکھ اور پرانے ڈیلی الاونس کے ڈیرھ ڈیڑھ لاکھ ہر کھلاڑی کی بھی ادائیگی ابھی کرنی ہے۔ ڈھائی کروڑ کی مقروض فیڈریشن گرانٹ نہ ملنے پر مسقط میں ٹیم ہوٹل تک بک نہیں کرواسکی، ڈیڈ لائن ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ گیا۔

ایکسپریس نیوز کو موصولہ اطلاعات کے  مطابق حکومتی گرانٹ جاری نہ ہونے پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خزانہ خالی ہے اور اس کے لیے معاملات چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ ایشین گیمز کے لیے پی ایچ ایف صدر خالد سجاد کھوکھر نے ڈھائی کروڑ ادھار لیکرکھلاڑیوں کے ڈیلی الاونسز ، چیف کوچ رولینٹ اولٹمنز اور دوسرے کوچنگ اسٹاف کے بقایا جات کلیئر کیے تھے۔اب قومی ٹیم کو اگلے ماہ ایشین چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینا ہے جس کا کیمپ 22 ستمبر سے لگانے کا اعلان کیاگیا ہے لیکن مالی مسائل کی وجہ سے گرین شرٹس کی ایونٹ مشکوک ہوگئی ہے۔

دوسری جانب غیرملکی چیف کوچ رولینٹ اولٹمنز اور آسٹریلوی ٹرینرنے پی ایچ ایف پر واضح کردیاہے کہ اگست کی تنخواہ کی ادائیگی کے ساتھ ستمبر اور اکتوبر کی تنخواہ ایڈوانس میں ملنے کی صورت میں ہی لاہور آکر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

پی ایچ ایف حکام کو ایشین چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ہوٹل بکنگ، سفری اخراجات، کوچز کی تنخواہوں اور کھلاڑیوں کے ڈیلی الاونسز کے لیے فوری گرانٹ کی اشد ضرورت ہے۔ پی ایچ ایف کے مالی مسائل کی وجہ سے کئی سینئر کھلاڑیوں نے بھی کیمپ میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دیاہے۔

واضح رہے کہ ایشین چیمپئنز ٹرافی کے بعد قومی ٹیم کو چند ہفتوں بعد بھارت میں ورلڈکپ میں شرکت کرناہے، جس کے لیے اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ہوٹل بکنگ کروانا لازمی ہے، بصورت دیگر قومی ٹیم کی ورلڈکپ میں شمولیت ممکن نہیں ہوپائے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔