جہاں گشت

عبداللطیف ابو شامل  اتوار 16 ستمبر 2018
ایک شخص سر جھکائے خود پر کالی چادر ڈالے قبرستان جانے والے راستے پر بیٹھا ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

ایک شخص سر جھکائے خود پر کالی چادر ڈالے قبرستان جانے والے راستے پر بیٹھا ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

قسط نمبر 12

اکبر بھائی کے جانے کے بعد زندگی بھر مثلث بن گئی، کام، سینما اور قبرستان۔ کھانے پینے سے مجھے کوئی سروکار تھا ہی نہیں، گھر سے نکلنے کے بعد تو کبھی نہیں رہا، جو ملا کھالیا، نہیں تو نہیں، کھانے کے معاملے میں اب تک ویسا ہی ہوں۔

خوش لباسی تو دُور کی بات، میں تو بس تن ڈھانپنے کا قائل تھا اور اس کے لیے لُنڈا بازار موجود تھا، جو اب بھی ہے اور سفید پوش لوگوں کا بھرم قائم رکھتا ہے۔ مسجد میں تو میں بچپن ہی سے جاتا تھا، وہاں جانا بھی ایک جبر ہی تھا اور وہ اس لیے کہ اسکول والوں نے ایک جیبی ڈائری دی ہوئی تھی جس میں ہر نماز کی تفصیل کے خانے موجود تھے، مثال کے طور پر باجماعت نماز، یا پھر بے جماعت اور اگر بے جماعت پڑھی تو اس کی وجوہات وغیرہ، اور اس ڈائری پر ہر نماز کے بعد امام مسجد کے دست خط لینا ضروری تھے۔

میں نے آپ کو اس سے پہلے بھی بتایا تھا کہ جعلی دست خط کرنا میں نے وہیں سے سیکھے تھے۔ نماز پڑھنا بس عادت تھی، مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میں نماز کیوں پڑھتا ہوں۔ سب کچھ بس خلا میں تھا۔ لیکن اﷲ جی سے میرا ایسا رشتہ تھا جسے بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ محسوسات بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتے، بس انہیں محسوس ہی کیا جاسکتا ہے اور اگر ہمیں محسوسات کے بیان کے لیے الفاظ مل بھی جائیں تو وہ پوری طرح اس کے عکاس اور کفالت نہیں کرتے۔ اﷲ جی ہی میرا سب کچھ تھے۔

جس سے میں ہر بات کرسکتا تھا، ہر ضد کرسکتا تھا، لڑ سکتا تھا، روٹھ سکتا تھا۔ پھر اگر وہ روٹھ جائے تو اسے منا بھی سکتا تھا۔ اﷲ جی سے میں کبھی نہیں ڈرا، بالکل بھی نہیں، ذرا سا بھی نہیں، اسی لیے میں اس سے ہر بات کرسکتا تھا۔ سیدھی سی بات ہے یہ کہ اگر آپ کسی سے ڈرنا شروع کردیں تو اس پر اعتماد نہیں کرسکتے، اس سے دل کی بات نہیں کرسکتے، آپ جسے ڈرنا کہتے ہیں میں اسے مان کہتا ہوں، کہ اگر میں نے کچھ غلط کیا تو وہ جس سے میرا تعلق ہے، کیا سوچے گا، یہ ڈر کہاں سے ہوگیا، یہ اعتماد ہے، یہ مان ہے کہ میری حرکت کی وجہ سے اس سے میرے تعلقات میں رخنہ پیدا ہوجائے گا۔ میں پھر دُور نکلنے لگا ہوں، اسے بس یہیں سمیٹتے ہیں۔ دیکھیے کیا یاد آگیا ہے، شاید اس سے آپ میری بات سمجھ پائیں۔

وہ میرا دوست ہے، سارے جہاں کو ہے معلوم

دغا کرے وہ کسی سے، تو شرم آئے مجھے

رات کی تنہائی میں تو رنگ ہی کچھ اور ہوجاتا۔ کبھی گاتا، روتا، ناچتا اور اسے پیار کرتا، بس وہی تھا جو میرا رازدار تھا۔ غم خوار تھا، پالن ہار اور سدا بہار تھا اور رہے گا، بس وہی تو رہے گا اور کون رہا ہے یہاں، سب تو بس جانے کے لیے ہیں، فنا ہے سب کا مقدر، بس وہی ہے اول و آخر، ظاہر و باطن، اور بقا صرف اسے ہی ہے۔ ہاں میں ابّاجی سے ڈرتا تھا جن کے پاس میرے ہر سوال کا جواب مار تھی، انسان ان کے سامنے کیڑے مکوڑے تھے۔ ابّاجی کو سب بڑے خان کہتے تھے۔ گولیوں سے بھرا ہوا ویبلے پستول ان کی واسکٹ میں ہوتا تھا۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے، ایک مرتبہ ایک خاتون ہمارے مکان آئی تھیں، بڑے خان میرا شوہر دوسری شادی کررہا ہے آپ اسے منع کریں خاتون نے التجا کی۔ کیوں تم نہیں چاہتی کہ وہ دوسری شادی کرے؟ ابا جی نے پوچھا۔ نہیں، آپ اسے سمجھائیں۔ ٹھیک ہے نہیں کرے گا، کہہ کر اباجی چلے گئے۔ وہ بہت کم گو تھے، لیکن یہ سب جانتے تھے کہ اگر انہوں نے ہاں کہہ دیا تو اسے پورا کرنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ دوسرے دن اباجی نے زمینوں پر جانا تھا، میں نے ضد کی کہ مجھے بھی لے جائیں۔ جاؤ جاکر جیپ میں بیٹھو کہہ کر انہوں نے مجھے اجازت دے دی۔

فرید خان ابّاجی کا وفادار ڈرائیور جیپ چلا رہا تھا۔ مجھے فرید خان بالکل سمجھ نہیں آتا تھا جو ابّاجی کہتے وہ بغیر کوئی سوال کیے، بلا چُوں چَرا اس پر عمل کر گزرتا تھا۔ جیپ کے پیچھے ایک گاڑی ہوتی تھی جس میں چھے مسلح افراد ہوتے تھے اور اسے ہمارا کم دار مہر چلاتا تھا۔ ہم شہر سے خاصا باہر نکل آئے تھے کہ ابّاجی کی آواز آئی۔ فرید گاڑی روکو، اور پھر گاڑی رک گئی۔

میں نے سنا، کل جو عورت مجھ سے ملنے آئی تھی یہ اسی کا شوہر ہے؟ فرید نے جی کہا۔ گاڑی کو ریورس کرو اور اسے ذرا مزا چکھاؤ۔ فرید نے سر باہر نکال کر پیچھے والی گاڑی کو ریورس ہونے کا کہا۔ خاصا پیچھے جانے کے بعد اس نے جیپ کو دوڑانا شروع کیا اور پھر ایک شخص جیپ کے بونٹ سے ٹکرایا اور سڑک پر جاگرا۔ دونوں گاڑیاں تیزی سے اپنی منزل کی طرف گام زن ہوگئیں۔ میں نے چیخنا شروع کردیا، کیوں مارا ہے اس آدمی کو؟ میں سب کو بتاؤں گا اور پھر گاڑی ایک سنسان جگہ رکی، مجھے جیپ میں پیٹا گیا اور یہ کہتے ہوئے کہ جسے بتانا ہو، جاؤ ضرور بتاؤ کہہ کر وہیں چھوڑ کر وہ چلے گئے۔ گرتے پڑتے میں شام کو اپنے مکان پہنچا۔

امی مجھے دیکھ کر پریشان ہوئیں میں نے انہیں پورا واقعہ سنایا اور یہ بھی کہ میں سب کو یہ بتاؤں گا۔ امی نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا، اتنے میں وہی خاتون روتی دھوتی ہمارے مکان میں داخل ہوئی کہ اس کے شوہر کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا امی نے قاسم کو آواز دی اور مجھے اس نے اپنے گھر لے جاکر ایک کمرے میں بند کردیا۔ اس رات بھی میں قاسم کے گھر سویا اور صفیہ مجھے بہلاتی رہی، دوسرے دن مجھے اسکول بھی نہیں جانے دیا گیا۔ شام کو ابّاجی واپس آگئے اور آتے ہی انھوں نے مجھے طلب کیا۔ جاؤ کپڑے بدل کے آؤ۔ میں نے حکم کی تعمیل کی اور وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر اسپتال پہنچے، وہ شخص پٹیوں میں جکڑا ہوا بستر پر دراز تھا اور اس کی بیوی اس کے ساتھ بیٹھی رو رہی تھی۔ ابا نے ڈاکٹر کو بلاکر ہدایات دیں۔ پھر فرید خان نے پیسے کاؤنٹر پر جمع کرائے اور بہت سارے نوٹ اس خاتون کے ہاتھ میں دیے۔

فکر مت کرو، ٹھیک ہوجائے گا، سارا خرچ میں برداشت کروں گا، پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیا یہ اب بھی دوسری شادی کرے گا۔۔۔۔؟ ابا جی نے صرف اتنا کہا اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر واپس ہوگئے۔ جیپ میں بیٹھ کر مجھے سننا پڑا ’’ دنیا ہے یہ، یہاں جینے کے لیے سب کچھ کرنا پڑتا ہے، اگر تم نہیں کروگے تو کوئی اور تمہارے ساتھ کر گزرے گا، تمہیں مار کے خود جیے گا، یہاں جو پہل کرے، دنیا اسی کی ہے، دیکھا تم نے ہم نے اسے ایسے ہی لاوارث نہیں چھوڑا، جب تک اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا نہیں ہوجاتا ہم اس کا ساتھ دیں گے، اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرکے بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، لیکن تمہیں یہ سب کچھ سمجھ نہیں آئے گا، شاید کبھی سمجھ میں آجائے‘‘

میں اب بھی سوچتا ہوں کیسے ہیں ہم لوگ، حج کرتے ہیں، زکوٰۃ، خیرات دیتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں لیکن مخلوق کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے۔ کتنا بڑا تضاد ہے یہ۔ کیا کسی کو سمجھانے کا بس ایک ہی طریقہ ہے، کوئی دلیل، کوئی نصیحت کارگر نہیں ہوتی کیا۔ انسان، انسان کے جذبات کو سمجھتا بھی ہے تو پوری طرح نہیں سمجھتا۔ اﷲ جی تو جانتا ہے، اس لیے کہ وہی تو ہے مصوّر حقیقی جس کی ہم بنائی ہوئی تصویریں ہیں۔ مجھے یاد آیا میری ایک دوست جو بہت اچّھی اور باکمال مصوّرہ اور اب کینیڈا میں مقیم ہے، نے اپنی بنائی ہوئی تصویریں مجھے دکھائیں، جو واقعی بہت کمال کی تھیں۔ میں تو انہیں دیکھ کر مبہوت رہ گیا، ایسا لگتا تھا جیسے ان پینٹگز میں یہ سب کچھ کسی آسیب کی وجہ سے ساکت ہے، بس تھوڑی دیر میں وہ آسیب کے اثر سے نکل جائیں گے اور ہماری طرح چلنے پھرنے اور بولنے لگیں گے، میں آج تک اس کی مصوّری کے سحر میں گرفتار ہوں۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اس کی بنائی ہوئی پینٹنگ ایک مقابلے میں اوّل قرار پائی تھی، بہت سے امراء نے اس پینٹنگ کی خاصی قیمت اسے دینے کی کوشش کی، لیکن ان نے انکار کردیا تھا اور جب نمائش ختم ہوئی تو اس نے وہ پینٹنگ مجھے تحفے میں دی تھی۔ خیر اپنی تصویروں کی تعریف سن کر وہ بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی، میں بہت خوش ہوں کہ تم نے میری بنائی ہوئی پینٹگز کی اتنی تعریف کی۔ میں نے کہا یہ واقعی قابل تعریف ہیں۔

پھر تو اس نے کمال ہی کردیا اور گویا ہوئی ’’اگر تم میری تصویروں کی بُرائی کرتے تو مجھے بہت تکلیف ہوتی اور اگر تم برش لے کر اسے ٹھیک کرنے کے نام پر ہی اس میں اضافہ کرتے تو مجھے اور بھی زیادہ تکلیف ہوتی اور اگر تم اسے پھاڑ ہی دیتے تب تو میں تمہیں قتل ہی کردیتی‘‘ میں مُسکراتے ہوئے اس کی باتیں سُن رہا تھا۔ پھر وہ کہنے لگی ’’ہم نے خدا کی بنائی ہوئی تصویروں کی بے حرمتی کی ہے، ہم خدا کی تصویروں کو بُرا کہتے ہیں، اس میں نقص نکالتے ہیں۔ ہم انہیں پھاڑ دیتے ہیں۔ انسان کو قتل کردینا مصوّرِ حقیقی کی بنائی ہوئی تصویر کو نابود کرنا ہی تو ہے، اﷲ تعالی کو کتنا غصہ آتا ہوگا ناں۔‘‘

بھائی جان کا کبھی کبھار فیکٹری میں فون آجاتا اور ہم کچھ دیر باتیں کرلیتے، خط تو میں انہیں لکھتا ہی تھا اور وہ اس کا بَروقت جواب بھی دیا کرتے تھے۔ بارہا انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں بھی ان کے پاس ہی آجاؤں، لیکن میں نہیں مانا۔ ہم زندگی کا پیمانہ صرف روز و شب کو سمجھتے ہیں اور ایسا کسی حد تک صحیح بھی ہے۔ لیکن اصل زندگی کیا ہے، یہ ہم سوچتے بھی نہیں ہیں۔ میں روز قبرستان جاتا، ایک دن میں نے دیکھا ایک شخص سر جھکائے خود پر کالی چادر ڈالے قبرستان جانے والے راستے پر بیٹھا ہوا ہے اور بچے اس کے گرد جمع ہیں۔ میں نے ان بچوں کو وہاں سے بھگایا اور ان سے پوچھا، کیا ہوا آپ کو، کیوں بیٹھے ہیں، کیا مدد کروں میں آپ کی، کہاں جانا ہے آپ نے، میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں۔

انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، بس خاموش رہے، میں تھوڑی دیر تک ان کے پاس بیٹھا رہا پھر قبرستان کی سمت چلنے لگا، پھر ان کی آواز آئی سلطان! تم نے بھی مجھے نہیں پہچانا اور زمین نے میرے پاؤں جکڑ لیے۔ انہیں میرا نام کیسے معلوم ہوگیا۔ میں نے انہیں کہیں نہیں دیکھا پھر پہچان کیسی۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور میرے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولے چل میرے بچے وہیں چل جہاں سب نے جانا ہے۔ میں قبرستان میں اپنے ٹھکانے پر جاکر بیٹھ گیا۔ میں یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ میں نے یہ آواز کہاں اور کب سنی ہے، لیکن بے سُود۔ اچانک ہی انہوں نے خود پر پڑی ہوئی چادر اُتاری اور میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، میرے سامنے بلیّوں والے بابا جی بیٹھے مُسکرا رہے تھے۔

بابا آپ اور یہاں کیسے۔۔۔؟ مسکرائے اور پھر گویا ہوئے پگلے! ہم کہاں نہیں ہوتے۔۔۔؟ وہ بلیّوں والے بابا ہی تھے، لیکن ایک بالکل نئے روپ میں۔ انسان کسی کے لکھے ہوئے واقعے کو جھٹلا سکتا ہے، اسے بے سر و پا کہہ اور سمجھ سکتا ہے اور اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن انسان آنکھوں دیکھی، کانوں سنی اور اپنے سامنے وقوع پزیر واقعے کو، اپنے تجربے کو کیسے جھٹلا سکتا ہے، نہیں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان اپنے تجربے کی تردید کردے۔ وہ جب یہاں آئے تھے تو کوئی منادی نہیں کرائی گئی تھی کہ وہ یہاں ہیں، کوئی اشتہار نہیں چھپوایا گیا تھا کہ لوگ ان سے رابطہ کریں، لیکن تھوڑے دن میں ہی لوگوں کا وہاں پر جم غفیر ہونے لگا۔ کیسے ۔۔۔ ؟

یہ میں نہیں جانتا، میں تو بس اتنا سا جانتا ہوں، بل کہ یہ بھی ایک جاننے کا دعویٰ ہے، میں اس سے فوری طور پر دست بردار ہوتا ہوں، بس مجھے بتایا گیا ہے اور بالکل درست بتایا گیا ہے کہ عشق اور مُشک چُھپائے نہیں چُھپتے، تو پھر وہ کیسے چھپتے، خوش بُو کو تعارف کی، کسی منادی کی، کسی اشتہاربازی کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، جی بالکل بھی نہیں ہے، خوش بُو اپنا تعارف خود ہے، اس کی کوئی سرحد نہیں ہے، اسے کسی بھی جگہ قید نہیں کیا جاسکتا، اسے پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا، بس وہ ایسے ہی تھے۔ وہ رب کے منتخب بندے تھے، اور رب نے انہیں بھی سب سے بے نیاز رکھا تھا، کسی صلے کی تمنا، نہیں، نہیں بالکل بھی نہیں، کسی سے کچھ نہیں لیتے تھے، بالکل بھی نہیں، کوئی کوشش بھی کرتا تو اسے تنبیہ کرتے۔ آخر ان کے پاس ایسا کیا تھا کہ لوگ ان کے پاس آتے اور مطمئن ہوکر جاتے۔ میرے لیے وہ ایک معمّہ تھے۔

آخر ایک رات کو جب بس وہ اور میں تھے اور میں انہیں کھانا کھلا رہا تھا، ان سے پوچھ بیٹھا۔ کیا دیتے ہیں آپ لوگوں کو، جو اتنی دُور دُور سے وہ آپ کے پاس جمع ہوجاتے ہیں۔ مسکراتے ہوئے کہنے لگے تجھے بھی تو کچھ نہیں دیا تھا بس ایک ٹافی تو دی تھی ناں اور مجھے وہ ٹافی یاد آگئی۔ میں لوگوں کو دعا دیتا ہوں بیٹا اور ہے ہی کیا میرے پاس۔ پھر میرے معمولات بدل گئے صبح کام پر جاتا اور باقی وقت ان کی خدمت میں حاضر رہتا، سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ جو بلیّاں اور کالا کتّا میرے سنگ تھے اب وہ ان کی چوکھٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔

اک دن بابا جی سے میں نے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوا میں یہاں ہوں۔ تب بابا جی جو بولے وہ میرے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھا۔ جب تُو یہاں پہنچا تو یہ ان بلیوں اور اس کتّے کو میں نے ہی حکم دیا تھا کہ اس کے سنگ رہنا اور مجھے بتاتے رہنا، میں تیری ہر بات سے با خبر تھا۔ یہ کیسی دنیا ہے جہاں بغیر کسی آلے کے سب کچھ سنائی دیتا، دکھائی دیتا ہے، جانور بھی ان کے تابع ہیں اور ان کے حکم سے سرِمو انحراف نہیں کرتے، ہوائیں ان کے پیغامات کو جہاں وہ چاہیں پہنچا دیتی ہیں اور جو معلوم کرنا چاہیں انہیں با خبر کردیتی ہیں۔

ایک عام سا نظر آنے والا انسان کیا اتنا بااختیار بھی ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ میرے لیے نیا تھا۔ لیکن میں اس نئی دنیا میں داخل کرلیا گیا تھا میرے چاہے بغیر ہی۔ ان کے سامنے کوئی راز راز ہی نہیں تھا کیسے؟ سب سے بڑا سوال میرے سامنے یہ تھا جس کا جواب مجھے بہت عرصے بعد ملا، میں بابا جی کی خدمت کرتا اور وہ لوگوں کی خدمت، کئی مرتبہ مجھے بابا جی نے کسی راستے سے آنے سے منع کیا اور میں نہیں مانا، تب وہ میرے سامنے تھے۔

نہیں مانے گا، تُو کیا سمجھتا ہے مجھے خبر نہیں ہوتی، تُو جس جس راستے سے گزرتا ہے مجھے اطلاع ملتی رہتی ہے۔ ہاں پھر اک دن میں بابا جی کے راز کو پاگیا تھا، دیکھیے میں خطاکار و سیاہ کار پھر بھٹک گیا، پا نہیں گیا تھا، مجھے بتا دیا گیا تھا، اور اس میں میرا کیا کمال تھا۔ میں اس نئی دنیا کا نیا باسی سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اسے ماننے اور تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھا۔ ایک تجسس، ایک بے قراری، بے چینی، ایک اضطراب، اب آپ جو چاہے اسے کہیں، میرے ہم رکاب تھا، ہے۔ جاننے کی جستجو، حقیقت کی کھوج، بس مجھ پر ایک دُھن سوار تھی، مجھ پر تو بہت بعد میں کُھلا کہ جاننا ضروری بھی نہیں تھا، آگہی کا عذاب کوئی معمولی تھوڑی ہوتا ہے، چھوڑیے میں پھر گُم راہ ہو رہا ہوں، راہ راست پر آتے اور آگے چلتے ہیں کہ راہ راست ہی میں سلامتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔