شارع فیصل کراچی پر تجاوزات؛ ڈائریکٹر ملٹری لینڈ سے جواب طلب

ویب ڈیسک  ہفتہ 15 ستمبر 2018
سندھ واٹر کمیشن نے شارع فیصل اور اطراف میں تجارتی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی فوٹو:فائل

سندھ واٹر کمیشن نے شارع فیصل اور اطراف میں تجارتی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی فوٹو:فائل

 کراچی: پانی و نکاسی آب کے سندھ واٹر کمیشن نے شارع فیصل میں تجاوزات کے مسئلے پر ڈائریکٹر ملٹری لینڈ سے جواب طلب کرلیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)امیر ہانی مسلم نے شارع فیصل پر تجاوزات اور دکانیں بنانے کے معاملے کی سماعت کی۔ واٹر کمیشن کے فوکل پرسن آصف حیدر شاہ نے بتایا کہ کارساز اور دیگر مقامات پر فلائی اوورز کے نیچے دکانیں اور تجاوزات قائم ہیں۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت یہ تعمیرات ہو رہی ہیں؟۔

کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے سی ای او نے بتایا کہ ایف ٹی سی فلائی اوور کے نیچے تعمیرات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، شارع فیصل پر دیواریں اور دکانیں آرمی اپنی مرضی سے تعمیر کررہی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ایف ٹی سی فلائی اوور کے نیچے قائم دکانوں کا سیوریج کہاں جائے گا۔ سی ای او کراچی کنٹونمنٹ بورڈ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان دیواروں پر کمرشل سرگرمیاں کرنے سے روک دیا تھا اور پرائیوٹ دیواروں کو مسمار کرنے کا حکم تھا۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے آرمی کو بھی ہدایت کی تھی کہ دیوار کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال نہ کریں، میں یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھی بھیج سکتا ہوں۔

کمیشن نے ڈائریکٹر ملٹری لینڈ، سی ای او کراچی کنٹونمنٹ اور دیگر کو تحریری جواب جمع کرانے کیلئے 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے شارع فیصل اور اطراف میں تجارتی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ واٹر کمیشن نے کمشنر کراچی اور ڈائریکٹر ملٹری لینڈ کو مشترکہ رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔