بھارتی وزیر کرتار پور کوریڈور کھولے جانے سے متعلق سچ جاننے کو بے چین

آصف محمود  ہفتہ 15 ستمبر 2018
جنرل قمر باجوہ نے سدھو سے کرتار پور کوریڈور کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، بھارتی وزیر ہرسمرت کور کے تحفظات فوٹو: فائل

جنرل قمر باجوہ نے سدھو سے کرتار پور کوریڈور کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، بھارتی وزیر ہرسمرت کور کے تحفظات فوٹو: فائل

پاکستان کی طرف سے کرتارپور کوریڈور کھولنے کی پیش کش پر بھارتی سیاستدانوں کو ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے ، بھارت کی ایک سینئر وزیر نے پاکستان کے آرمی چیف کی طرف سے کرتار پور کوریڈور کھولنے جانے کے وعدے کی تصدیق کے لئے بھارتی وزیر خارجہ کو باقاعدہ خط لکھ دیا ہے۔ 

بھارت کی یونین منسٹر برائے فوڈ ٹیکنالوجی ہرسمرت کور بادل نے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کو خط میں ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ شاید پاکستان کے آرمی چیف نے بھارتی سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو سے کرتار پور کوریڈور کھولنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے اور نوجوت سنگھ سدھو اس حوالے سے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔

ہرسمرت کور نے خط میں لکھا ہے کہ شرومنی اکالی دل اورسردارپرکاش سنگھ بادل کئی برسوں سے ڈیرہ بابا نانک سے گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور کا کوریڈور کھولے جانے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں تاکہ بھارت میں بسنے والے لاکھوں سکھ یہاں سے دربار صاحب کے درشن کرسکیں ، تاہم کئی برسوں سے اس مطالبے کو سرد خانے میں رکھا گیا ہے، سکھوں کی کئی تنظیمیں اور وفود بھی یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

بھارتی وزیر کا کہنا ہے کہ شرومنی اکالی دل نے 2010 میں اسمبلی میں یہ قرارداد بھی پاس کروائی تھی کہ یہ راستہ کھولاجائے اس حوالے سے پاکستان سے مذاکرات کئے جائیں تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی تھی۔ تاہم اب جب پنجاب کے سینئر وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے پاکستان کا دورہ کیا اور وہ واپس آئے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ گورونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر یہ کوریڈور کھولنے کو تیار ہے۔

ہرسمرت کور نے خط میں  وزیرخارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی سرکاری طور پر تصدیق کریں کہ کیا پاک فوج کے سربراہ اور پاکستان کی حکومت نے ایسی کوئی یقین دہانی کروائی ہے اور یہ بھی بتایا جائے کہ اگرپاکستان کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی ہے توبھارتی حکومت کا اس حوالے سے کیا موقف ہے انہوں نے وزرات خارجہ سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ پاکستان سے اس معاملے پر مذاکرات کئے جائیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔