بُری حکومت کیسے وجود میں آتی ہے؟

ایس نئیر  جمعـء 31 مئ 2013
s_nayyar55@yahoo.com

[email protected]oo.com

ممتاز مسلم اسکالر البیرونی جب طالب علم تھے،تو اُن کے ٹیچر نے درس گاہ میں پڑھاتے ہوئے طلبأ سے سوال کیا ’’بُرائی کیا ہے؟‘‘ البیرونی اپنی جماعت کے واحد طالب علم تھے جو اِس سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، اُنہوں نے اپنے ٹیچر سے کہا ’’ جناب میں بتاتا ہوں کہ بُرائی کیا ہے ؟ لیکن پہلے میرے دو سوالوں کا جواب دیجیے ۔ پہلا سوال’’کیا سردی اپنا کوئی وجود رکھتی ہے ؟‘‘ ٹیچر نے جواب دیا ’’ بالکل رکھتی ہے اور ہمیں محسوس بھی ہوتی ہے ۔‘‘ البیرونی نے کہا ’’ بالکل غلط، حرارت کی غیر موجودگی کو ہی سردی کہتے ہیں ورنہ سردی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘

البیرونی نے دوسرا سوال پوچھا ’’اندھیرے کا کوئی وجود ہے ؟‘‘ ٹیچر نے جواب دیا ’’ ہاں‘‘ ۔ ’’ اُستاد محترم آپ کا جواب پھر غلط ہے ۔‘‘ البیرونی نے ادب سے جواب دیا ’’ روشنی کی غیر موجودگی اندھیرے کو جنم دیتی ہے ورنہ اندھیرا بھی بذاتِ خود کوئی چیز نہیں ہے ہمیں طبیعات میں حرارت اور روشنی کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے ۔ سردی اور اندھیرے کے بارے میں نہیں،کیونکہ اِن دونوں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ اِسی طرح جب نیکی، پیار، محبّت،خلوص ،ایمان ،اعتماد ،دیانت اور صداقت ختم ہوجائیں تو بُرائی جنم لیتی ہے ،ورنہ بُرائی کا بھی کوئی وجود نہیں ہے ۔‘‘

بالکل اِسی طرح کسی بھی ریاست کے حکمران اور عوام کے درمیان بھی ایک ایسا ہی تعلق موجود ہوتا ہے۔ جسے ہم گڈگورننس اور بیڈگورننس کے نام سے جانتے ہیں۔ بیڈگورننس یعنی بُری حکومت اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی۔ گڈگورننس کی غیر موجودگی ہی دراصل بیڈگورننس کے وجود میں آنے کا سبب بنتی ہے۔ جیسے پچھلے پانچ برسوں میں عوام کو گڈ گورننس کہیں نظر نہیں آئی ۔گڈ گورننس کی اِسی عدمِ موجودگی کے باعث ہر طرف بیڈگورننس کا راج قائم ہوگیا، جس نے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی۔ حکمرانوں اور عوام کے درمیان ایمان ،پیار،صداقت اور دیانت کا رشتہ جب سرے سے استوار ہی نہ ہوا تو بیڈ گورننس ہوتی ہے جس نے مہنگائی، بد امنی ، بیروزگاری،نا انصافی،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اندھیروں کو جنم دیا۔

عوام مسائل کے گرداب میں ایسے پھنسے کہ ابھی تک اُنہیں باہر آنے کا راستہ نہیں مل سکا ہے ۔حالیہ انتخابات نے اُمید کی ایک کرِن ضرور روشن کردی ہے کہ نئی حکومت پچھلے حکمرانوں کے انجام سے سبق سیکھتے ہوئے گڈگورننس قائم کرے گی اور عوام جو لوڈشیڈنگ کے خوبصورت نام پر اندھیرے میں ٹامک ٹائیاں مار رہے ہیں اُنہیں اِن اندھیروں سے نکال کر وہی روشنی واپس لوٹائے گی جو پچھلے حکمرانوں کی بیڈگورننس کے باعث رفتہ رفتہ وجود سے عدم کی جانب بڑھتے بڑھتے بالکل معدوم ہوچکی ہے ۔ میاں نواز شریف کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اِن کی حکومت اگر چلے گی تو صرف ’’ بجلی ‘‘ سے ہی چلے گی۔

بڑکیں مارنے سے نہیں۔ بجلی کی فراہمی اِن کی حکومت کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اوّلین ترجیح ایک نہیں بلکہ درجنوں ہوا کرتی تھیں۔ اوّلین ترجیح صرف ایک ہی ہوسکتی ہے ، وہ جو سب سے اوّل ہو اور سب سے پہلی ہو۔ میاں صاحب کی حکومت اگر عوام کے ساتھ خلوص و دیانت کا رشتہ قائم کرے گی تو اندھیرے رفتہ رفتہ کم ہوتے جائیں گے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ اگر کم ہونا شروع ہوگیا تو روشنی خود بہ خود نظر آنے لگے گی اور عوام مطمین ہوجائیں گے کہ اندھیرے کم ہونا شروع ہوگئے ہیں تو ایک دِن یہ اندھیرے ختم بھی ہوجائیں گے ۔ بقول البیرونی اندھیرا بذاتِ خود اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا ، روشنی کی غیر موجودگی اندھیرے کو جنم دیتی ہے ۔ میاں صاحب روشنی بڑھائیں گے تو یہ سب کو نظر آئے گی اور اِس کے لیے اِنہیں اشتہار دینے کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ روشنی اپنا اشتہار خود ہوتی ہے ۔

عوام کو اب لوڈشیڈنگ ختم ہونے کی تاریخیں مطمین نہیں کرسکتیں نہ ہی اِس قسم کے اعلانات سے اِنہیں مطمین کیا جاسکتا ہے کہ گنّے اور تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے ۔ بجلی کی غیر موجودگی نے عوام کی تابِ انتظار ختم کردی ہے ۔ اِنہیں ایک ایک پل ، ایک ایک سانس بھاری ہے ۔ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ راتوں رات حل نہیں ہوسکتا ۔ لیکن لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تو فوری طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔ پرویز مشرف کی حکومت دو سو ارب کا سرکلر ڈیٹ اور تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ چھوڑ کر گئی تھی ۔ پی پی پی حکومت نے اِسے 20 گھنٹوں تک اور سرکلر ڈیٹ چھ سو ارب تک پہنچا دیا۔ نئی حکومت فوری طور پر اِس سرکلر ڈیٹ کو ادائیگی کر کے کم کرے تو لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہونا شروع ہوجائے گا۔

اِس دوران بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر تیز رفتاری سے عمل کیا جائے۔ اُتنی ہی تیز رفتاری سے جتنی میٹرو بس پروجیکٹ میں دکھائی گئی تھی ۔ سوال یہ ہے کہ سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے لیے رقم کہاں سے آئے گی ؟ تو اِس سلسلے میں ایک انتہائی با خبر صحافی کے حوالے سے ایک خبر گردش کر رہی ہے ۔ خبر کے ذریعے کو یوں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ موصوف کا نشیمن پہاڑوں کی چٹانوں کی بجائے قصرِ سلطانی کی راہداریوں میں ہے۔ اِن کے مطابق برادر ملک سعودی عرب میاں صاحب کی حکومت کو 15 ارب ڈالر بطور امداد نذر کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اگر یہ خبر دُرست ہے تو 15 ارب ڈالر کا مطلب ہے 1500 ارب روپے ۔ اِس رقم میں سے 300 ارب اگر سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی پر خرچ کردیے جائیں تو صنعت کا پہیّہ چل پڑے گا اور حکومت کو ریونیو کی مد میں کروڑوں کی آمدنی ہونا شروع ہوجائے گی ۔ جس سے سرکلر ڈیٹ کی بقیہ رقم بھی ادا کی جاسکتی ہے ۔

حکومت اور عوام دونوں سُکھ کا سانس لیں گے۔ حکومت یکسوئی کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اپنی توجہ مرکوز کرسکے گی ۔ روشنی اندھیروں کو کھانا شروع کردے گی تو یہ گڈ گورنس کی نشانی ہوگی اور اگر اندھیروں کا حجم بڑھتا رہا اور روشنی غائب ہوتی رہی تو یہ بیڈ گورنس کی علامت ہوگی ۔ اندھیرے مزید بڑھے تو اِس مرتبہ عوام وقت سے پہلے ہی حکومت کو کھا جائیں گے ۔ 5 برس انتظار نہیں کریں گے۔ لہذا نئی حکومت کو چاہیے کہ وہ روشنی بڑھائے کیونکہ اندھیرا اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا ۔ روشنی کی غیر موجودگی ہی اندھیرے کی پیدائش کا سبب بنتی ہے ۔مسلم لیگ کے رہنمائوں کو چاہیے کہ وہ گڈ گورننس کر کے دکھائیں ، کیونکہ بیڈ گورننس ، گڈ گورنس کی غیر موجودگی کے باعث ہی وجود میں آتی ہے۔ ورنہ بیڈ گورننس اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔