اسٹریٹ کرائم کا بے قابو جن

عبدالرحمان منگریو  اتوار 16 ستمبر 2018

کسی بھی ملک کی ترقی اس ملک کے امن و امان کی صورتحال پر منحصر ہوتی ہے ۔ یہ صرف کہاوت نہیں ، ہمارے پیارے پاکستان کو اس بات کا 70سالہ تجربہ حاصل ہے ۔ ملک کے قیام کے ساتھ ہی صنعتی و تجارتی اہمیت کی بناء پر سندھ بالخصوص کراچی و حیدرآباد کے امن و امان کی صورتحال کو مذہب کے نام پر خراب کرکے یہاں کے مقامی امن پسند صنعتکاروں اور تاجروں کی اکثریت کو یہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا ۔ جس کا اثر کراچی پر ایسا ہوا کہ ترقی یافتہ کراچی ترقی پذیر شہروں کی فہرست میں سب سے نچلی سطحوں میں شمار ہونے لگا ۔

پھر بھٹو کے دور میں امن و امان کی بہتر ہونے والی صورتحال کے پیش نظر اسٹیل ملز اور پورٹ قاسم سمیت بڑے پیمانے پر صنعت و تجارت کو فروغ دینے کے اقدامات سے کراچی کی ترقی نے تھوڑے ہی عرصے میں ایسی رفتار پکڑی کہ کورنگی ، سائٹ اور لانڈھی سے دھابے جی (ٹھٹہ ) تک صنعتوں کا جال بچھ گیا اور یہاں ریئل اسٹیٹ و اسٹاک ایکسچینج کے کاروباری پوائنٹس کی شرح انتہائی بلند سطح پر رہنے لگی ۔ جس سے پاکستان بھر بلکہ دیگر ملکوں سے بھی لوگ یہاں روزگار کے لیے آنے لگے اور کراچی ایک مرتبہ پھر پاکستان کی معیشت کا محور بن گیا ۔

لیکن کچھ قوتوں کو پھر سندھ خصوصاً  کراچی کی یہ ترقی ہضم نہ ہوئی اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے کہ مارشل لا  ہونے کے باوجود یہاں کے امن و امان کی صورتحال پر قابو نہ پایا جاسکا ۔ یہاں ایک طرف قبائلی تکرار اور ڈاکو راج کو منظم منصوبے کے تحت شہہ دی گئی اور پھر ہتھیاروں کے آکسیجن پر اسے زندہ رکھا گیا تو دوسری جانب شہروں بالخصوص کراچی میں دہشت ، ٹارگٹ کلنگ  اور اسٹریٹ کرائم کرنے والے عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ ان محرکات کی بناء پر صوبہ کے تقریباً نصف حصے کو نوگوایریا بناکر رکھ دیا گیا اور قبائلی تکرار ، ڈاکو راج اور دہشت کے ساتھ ساتھ نسلی منافرت و فسادات کو پروان چڑھایا گیا ۔

یوں یہاں کے سیاسی و جمہوری شعور پر مبنی طاقت ناانصافی اور جبر کے خلاف مزاحمت کے بجائے قبائلی تکرار اور نسلی رسہ کشی میں ضایع ہونے لگی ۔ جب کہ ان حالات سے یہاں غربت میں اضافہ بھی ہوتا چلا گیا جس سے بھی اسٹریٹ کرائم بڑھتے گئے ۔ صورتحال یہ بنی کہ نہ یہاں کسی فورس کا نام چلتا تھا اور نہ ہی انتظامی احکامات کام کرتے تھے ،ایسے میں جونیجو کے جمہوری و آمرانہ مخلوط دور میں فوج و پولیس کی مشترکہ کوششیں بھی کارگر نہ ہوسکیں ۔ یہاں تک کہ جمہوری دور آنے کے باوجود 1990میں  رینجرز کی ایک ونگ قائم کرکے اُسے سندھ خصوصاً کراچی میں امن و امان کے قیام کے لیے مقرر کیا گیا لیکن بدامنی اور اسٹریٹ کرائم کا جن قابو میں ہی نہ آتا تھا ۔ اس کے چاہے سیاسی اسباب رہے ہوں یا انتظامی لیکن اس کے اثرات معاشی تباہی کی صورت میں سامنے آئے ۔

اس پس منظر کے تحت کئی دہائیوں سے سندھ کا امن امان تباہ ہوکر رہ گیا ہے اور یہاں کے حالات بھی سندھ حکومت کی مکمل گرفت میں نہیں رہے ۔ دو ادوار پورے کرنیوالی پی پی پی کی حکومت مسلسل تیسری بار اپنی حکومت قائم کرچکی ہے لیکن امن و امان کی صورتحال وہیں کھڑی ہے جیسی انتخابات سے قبل انھوں نے چھوڑی تھی۔ دوسری بارمنتخب ہونے والے سندھ کے نئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ نگران حکومت  کے دوران کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے جب کہ یہ صرف سیاسی بیان اور حقائق سے چشم پوشی کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ ان ہی کے سابقہ دور میں یعنی ایک سال قبل 24 جولائی 2017کوایک مقامی اردواخبار میں شائع ہونے والی کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی رپورٹ برائے 2017میں اغوا برائے تاوان ڈکیتی ، چھینا جھپٹی بالخصوص گاڑیاںاور موبائیل چھیننے کے واقعات میں نمایاں اضافہ  نظر آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2017کے دوران کراچی کے مختلف اضلاع سے 1314گاڑیاں ، 21004موٹر سائیکل اور 16729موبائیل فون چھینے گئے ۔ ان میں سے اکثر واقعات ٹریفک کے جام ہونے کے دوران ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ جب کہ اے ٹی ایم مراکز ، گھروں اور دفاتر و دکانوں سمیت پارکوں اور بازاروں میں رش کے اوقات میں ہونے والے واقعات اس کے علاوہ ہیں ۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی یہ گمبھیر صورتحال دنیا کے بڑے شہروں میں ہونے والی شرح سے کہیں زیادہ ہے ۔

موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ کراچی بھر میں موبائل ، موٹر سائیکل چھیننے اور سگنلز پر یا دکانوں و گھروں میں ڈاکہ زنی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ سیکیورٹی میں رہنے والے شہر کے میئر وسیم اختر سے سرکاری گاڑی چھیننے اور ایک صوبائی وزیر کے سیکریٹری کے گھر پر ڈاکہ کی وارداتیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ یہاں تک کہ واردات کے دوران مزاحمت پر لوگوں کو قتل کرنے جیسے بہت سے واقعات بھی سامنے آئے ہیں ۔ شہر کے کچھ علاقے اور کئی روڈ تو ایسے ہیں جہاں سورج ڈھلنے کے بعد لوگ آنے جانے سے بھی کتراتے ہیں ۔ اگر مجبوری میں کہیں کسی کا وہاں سے گذر ہو جائے تو وہ یا تو اپنا مال گنوا بیٹھتا ہے یا پھر اپنی جان ۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں انفرادی کرمنلز کے علاوہ ڈرگ مافیا اور لینڈ مافیا بھی ملوث نظر آتی ہے ۔ جب کہ صوبہ بھر میں چوری و ڈاکہ زنی کے علاوہ بدامنی کے حالیہ واقعات میں شدت کی وجہ صوبہ بھر میں موجود غیر قانونی و لائسنس یافتہ بے تحاشہ اسلحہ ہے ۔ جس کی روک تھام کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کوئی ٹھوس حکمت عملی ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے ۔ حالانکہ گاہے بہ گاہے ٹارگٹ آپریشن کے دوران ہتھیاروں کی کئی کھیپیں پکڑی گئی ہیں لیکن شہر میں اب بھی بڑے پیمانے پر اسلحہ موجود ہے جس کا ثبوت ہمیںنئے سال کے جشن یا پھر جشن ِ آزادی کے موقع پرصوبہ کے دارالحکومتی شہرکراچی بھر میں دیدہ دلیری سے دھڑا دھڑ فائرنگ کرکے دیا جاتا ہے ۔جب کہ حکومت کی جانب سے لائسنس والے اسلحہ کی تجدید کا عمل گذشتہ 4برس سے جاری رہنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتائج بر آمد نہیں ہوسکے ہیں ۔

سندھ پولیس کی کارکردگی کی خرابی کی وجہ اس ادارے کو حکومت ، سیاسی بااثر افراد و قوتوں کی جانب سے اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا ہے ۔ انتظامیہ کی جانب سے پولیس کو ذاتی طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے اس ادارے میں بھی ذاتی پسند ناپسند کی بناء پر کام چلتا رہا ہے ،جس کی بناء پر رشوت ستانی ، اقربا پروری اور جرائم پیشہ افراد سے روابط جیسے کام عموماً ہوتے ہیں ۔ حالانکہ سندھ پولیس کا چوکی سطح کا نیٹ ورک انتہائی مضبوط ہے لیکن اس نیٹ ورک کو جرائم کی سرکوبی میں کم اور پولیس افسران کے بھیس میں چھپی کالی بھیڑوں کے ذاتی مشاغل میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔

پولیس میں چھپی ایسی کالی بھیڑوں کا اعتراف خود محکمہ کے موجودہ ایڈیشنل آئی جی امیر شیخ نے گذشتہ ہفتے محکماتی اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران کیا ۔یوں تو کہا جاتا ہے کہ پولیس صوبائی حکومت کے ماتحت ہے لیکن موجودہ نئے آئی جی سندھ کلیم خان کی وفاق کی جانب سے تعیناتی ثابت کرتی ہے کہ امن و امان اورپولیس پر کنٹرول کے اختیارات پر فقط صوبائی حکومت نہیں بلکہ وفاق بھی اتنا ہی بااختیار اور ذمے دار ہے ۔

ایسا بھی نہیں کہ پولیس یا رینجرز اور دیگر حکام ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں ۔ روزانہ بروقت اور ٹارگٹ آپریشن کی جاری کارروائیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں ۔ کئی کئی ملزمان کے زیر حراست لینے اور بھاری مقدار میں ہتھیار برآمدگی کی خبریں بھی اخبارات کی سرخیاں بنتی نظر آتی ہیں ۔ لیکن حال ہی میں ایک منفرد کارروائی کرتے ہوئے کلفٹن پولیس کی جانب سے تین تلوار کے قریب سے 5خواجہ سراؤںاور مالش کرنیوالوں سمیت 12افراد کو شک کی بنا ء پر زیر حراست لیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اطلاعات ہیں کہ سگنلز پر بھیک مانگنے کے بہانے لوٹ مار کی جاتی ہے۔

ایسے غیر سنجیدہ اقدامات اور لین دین کرکے ملزمان کو چھوڑنے جیسے واقعات کی بناء پر پولیس عوام میں اپنی ساکھ اس قدر کھوچکی ہے کہ جب کوئی فرض شناس افسر کوئی کارروائی کرکے حقیقی ملزمان کو پکڑتا ہے تو اس کو بھی عوام قبول کرتے نظر نہیں آتے۔ عوام کی اس رائے بننے میں ماضی کے کچھ واقعات کی چہ میگوئیاں بھی گردش میں ہیں ۔ماضی پر نظر ڈالیں تو چھوٹے موٹے جرائم تو اپنی جگہ مگر کراچی بلکہ ملکی تاریخ کے بڑے بڑے کیسز جیسے 12مئی کا واقعہ جب ملک کے چیف جسٹس کو کراچی آنے سے روکنے کے لیے شہر بھر کی سڑکوں پر خون کا ننگا کھیل کھیلا گیا ، اس کیس میں پولیس کا کردار وقت کی انتظامیہ کے کسی ذاتی ملازم کا نظر آتا ہے، آج تک وہ کیس حل نہیں ہوسکا ہے ۔

ایسا ہی ایک کیس بلدیا فیکٹری سانحے کا ہے جس میں 250سے زیادہ لوگوں کو زندہ جلا یا گیا لیکن پولیس کی فائلوں پر روایتی سستی کی وجہ سے  صرف شکوک کی مٹی کی دھول بڑھتی جارہی ہے ۔ اسی وجہ سے اب پولیس کے ہر کام کو عوام شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر پولیس و انتظامیہ چاہتی ہے کہ لوگ ان پر بھروسہ کریں تو انھیں چاہیے کہ عملی طور پر اقدامات ایسے کریں کہ عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو۔ کیونکہ کوئی بھی حکومت یا فورس تب تک اپنی رٹ قائم نہیں کرسکتی جب تک عوام میں اپنی ساکھ نہ بنا سکے ۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ پولیس کو نہ انتظامیہ کی طرف سے نہ ہی خود پولیس محکمہ کی اختیاریوں کی جانب سے آج تک جدید کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں ۔ لگتا ہے ایسا کرنے کی ان کی شاید نیت نہیں ہے ، ورنہ ان کے پاس کمپیوٹرز ، سی سی ٹی وی کیمرے اور انٹر نیٹ، سیٹ لائٹ و وائرلیس سسٹم کی تو فراوانی ہے لیکن اس کو جدیدمینجمنٹ میکنزم کے تحت جرائم پیشہ افراد کی شناخت ، جرائم کو روکنے اور مجرمانہ سرگرمیوں کے واقعات کے دوران بروقت کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا ۔ اگر ایسا ہوتا تو نہ لوگ اپنے مال سے محروم ہوتے اور نہ ڈاکوؤں سے مزاحمت کرنے پر اپنی جانیں گنواتے۔

رواں ماہ محرم الحرام کے مہینے کے پیش نظر حکومت اور پولیس حکام کو چاہیے کہ سخت سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ کرائم و دیگر جرائم کے خاتمے کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں جب کہ صوبہ بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے دیرپا نتائج پر مبنی حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ آنے والے دنوں میں ایسے مذہبی تہوار بلا کسی خوف و خطر منائے جاسکیں ۔ورنہ اسی طرح ہر بڑے موقع پر صوبہ بھر کی نفری کو مستعد کرکے تہوار گزارنے کے بعد لمبی تان کے سونے سے نہ دیرپا امن قائم ہوگا ، نہ ہی یہ اسٹریٹ کرائم و دیگر جرائم ختم ہونگے اور نہ ہی عوام میں پولیس و انتظامیہ سے متعلق اعتماد کی فضا قائم ہوگی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔