نعتیہ کلام اور اہم جرائد

نسیم انجم  اتوار 16 ستمبر 2018
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

محرم الحرام کے حوالے سے مدیر عکاس انٹرنیشنل (اسلام آباد) کئی سال سے پرچہ شایع کر رہے ہیں، اسی حوالے سے مجھے ’’عکاس انٹر نیشنل‘‘ موصول ہوا ہے عکاس کے دو شمارے میرے سامنے موجود ہیں ایک میں حیدر قریشی کا گوشہ ’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘ چھپا ہے اور دو سرا عباس خان نمبر ہے جو 232 صفحات کا احاطہ کرتا ہے 221 اوراق ان کے فکر و فن اور شعر و سخن سے آراستہ ہیں.

عباس خان نمبر اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر بھرپور مضمون لکھا جائے تو انشا اللہ آیندہ اس پر تفصیلی بات کریں گے، سرگودھا سے ’’اسالیب‘‘ کی پانچ کاپیاں بذریعہ ڈاک ملیں جس کے لیے میں ’’اسالیب‘‘ کے مدیر جناب ذوالفقار احسن کی بے حد شکر گزار ہوں اور جناب ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش کے لیے ممنونیت کے جذبات میرے دل کے نہاں خانے میں موجود ہیں کہ انھوں نے ہی کئی پرچوں سے متعارف کروایا اور میرے ناول ’’نرک‘‘ کو ماسٹر پیس قرار دیتے ہوئے انعامی مقابلے میں شامل کرنے کا مشورہ بھی دیا، آج کل وہ شدید علیل ہیں، میں قارئین اور ان کے مداحوں سے درخواست گزار ہوں کہ ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش کے لیے دعا فرمائیں اللہ انھیں صحت اور درازی عمر عطا فرمائے آمین۔ حمد و نعت کے خالق جناب نسیم سحر ہیں اسی متبرک کلام سے پرچے کی ابتدا ہوئی ہے۔ حمد کا ایک خوبصورت شعر:

نظر مری پس افلاک ہو تو حمد کہوں

کچھ اس کی ذات کا ادراک ہو تو حمد کہوں

مجید امجد کی غزل، سیاسی زاویہ ڈاکٹر عابد سیال کی تحریر ہے۔ ڈاکٹر عابد سیال نے بڑی توجہ اور تحقیق کے بعد مضمون لکھا ہے اسی طرح سرگودھا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر جناب طارق حبیب کا مضمون بھی مشتاق احمد یوسفی کی زندگی کے اہم گوشوں کو اجاگر کرتا ہے۔ عنوان ہے ’’مشتاق احمد یوسفی کے سوانحی حالات‘‘ طارق حبیب کی جستجو اور محنت رنگ لائی ہے، مکمل معلومات فراہم کرنے کی کوشش نظر آتی ہے، اتنا اچھا مضمون لکھنے پر یقینا وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

راقم السطور اور ڈاکٹر محمود اسیر کے گوشے بھی شامل ہیں جناب ذوالفقار احسن، انتظار حسین کی افسانہ نگاری کو احاطہ تحریر میں لائے ہیں۔ جناب ذوالفقار کی مدیرانہ صلاحیتوں نے ’’اسالیب‘‘ کو ایک نئے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ نگاہ مصطفیٰ ﷺ محترمہ شاہدہ لطیف کا نعتیہ مجموعہ ہے۔ بہت ہی پرتاثیر نظمیں لکھنے کا انھیں شرف حاصل ہوا ہے ندرت بیان اور سطوتِ خیال نے شاہدہ لطیف کی شاعری کو پَر لگا دیے ہیں اور یہ شاعری اونچی اڑان اڑ رہی ہے۔ آقائے دو جہاں، آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی محبت میں ’’ثنائے سید الکونینؐ‘‘ کے عنوان سے، اس کے تخلیق کار جناب یوسف راہی چاٹگامی ہیں، پچھلے دنوں ان کی شاعری کی کتاب جوکہ تعارف کی شکل میں ہے ’’چوکھمبی‘‘ کے نام سے شایع ہوچکی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ اردو ادب کی ایک نئی صنف سخن ہے اور اس نئی صنف سخن میں چار مصرعے رکھے گئے ہیں اور چاروں مصرعے ایک وزن میں ہیں۔ چوکھمبی بحر، موضوع اور ہیئت کے لحاظ سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔

کراچی سے ہی حالات حاضرہ پر ایک پرچے ماہنامہ ’’زاویہ نگاہ‘‘ کے مدیر بھی ہیں اس جریدے میں سیاسی بصیرتوں اور سائنسی و فکری معلومات سے مزین تحریریں شایع ہوتی ہیں یہ مضامین چشم کشا حقائق پر مبنی ہوتے ہیں پرچے کے چیف ایڈیٹر نصرت مرزا ہیں رسالے کے آخری صفحات ادب اور ادیبوں کی نمایندگی کرتے ہیں۔

’’شاہدہ لطیف کا رنگ نعت عام شاعرات سے کچھ مختلف ہے، آپ ﷺ سے محبت و عقیدت نعت کی صنف کا مرکزی موضوع ہے، شاہدہ لطیف کی نعتوں میں جذبات کی بڑی سچائی اور گہرائی ظاہر ہوئی ہے، شاہدہ لطیف کی وابستگی کا اظہار پرتاثیر اور دلآویز ہے‘‘ یہ رائے تھی ریاض مجید صاحب کی انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار پیش لفظ کی شکل میں کیا ہے۔ جناب افتخار عارف اور قمر وارثی صاحب نے بھی شاہدہ لطیف کی شاعری کو خراج تحسین پیش کیا ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ شاہدہ لطیف کی شاعری داد و توصیف کی مستحق ہے۔ حمد کے دو شعر ملاحظہ فرمائیے:

میرے لباس کے ہر تار کا محافظ ہے

جو کائنات کے اسرار کا محافظ ہے

وہی خدائے بزرگ و جلیل ہے میرا

محافظوں کی جو دستار کا محافظ ہے

شاہدہ لطیف کی تخلیق کردہ نعتیں قاری پر سحر طاری کردیتی ہیں اور وہ عشق رسولؐ میں جھومنے لگتا ہے۔

بادشاہوں نے بھی دنیا میں نہ پایا سب کچھ

آپؐ کے دامن رحمت کا سایہ سب کچھ

مقصد اللہ کا تھا بخشے ابوبکرؓ و عمرؓ

ورنہ آغاز میں سہتے رہے تنہا سب کچھ

محترمہ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل یو۔کے میں رہائش پذیر ہیں اور عکاس کے مرتبین میں ان کا نام بھی شامل ہے۔

عکاس 28 انٹرنیشنل چند ہی دن گزرے ہیں جب میری لکھنے کی میز کی زینت بنا ہے، جناب ارشد خالد نے اس بار معتبر قلم کار جناب حیدر قریشی کی ادبی خدمات پر گوشہ نکالا ہے، جناب حیدر قریشی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ پاکستان سے جرمنی میں جابسے ہیں اور اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں انھیں ادب کی تقریباً تمام جہتوں پر عبور حاصل ہے اور ان کا شمار بقول شخصے سکہ بند ادیبوں میں ہوتا ہے وہ شاعر ہیں، نقاد ہیں، افسانہ نگار ہیں اور بے شمار تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ وہ سچے اور کھرے انسان ہیں اور یہی وصف ان کی تحریروں میں موجود ہے گوشے کی ابتدا ’’حیدر قریشی بنام ارشد خالد‘‘ سے ہوتی ہے، حیدر قریشی صاحب نے خط لکھا ہے اور اہل ادب کے لیے دعوت عام ہے کہ وہ ان کی تحریروں اور ذات کے حوالے سے جو بھی سوال کرنا چاہیں، وہ حاضر ہیں۔

تنقید نگاروں میں محمد عمر میمن، شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، جناب عبداللہ جاوید اور ایوب خاور کی آرا شامل ہیں ۔ سب نے ہی ان کی جرأت تحریر کی داد دی ہے جناب شمس الرحمن فاروقی کا یہ جملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ’’گوپی چند نارنگ کے سَرقات کو آپ نے طشت ازبام کرکے اردو ادب کی بڑی خدمت انجام دی ہے‘‘ عبداللہ جاوید نے اس ادبی بددیانتی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی بارہ سالہ خاموشی اور جناب عمران شاہد بھنڈر کی محققانہ مساعی سے اب یہ ثابت ہوگیا کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی کتاب ساختیات پس ساختیات اور مشرقی شعریات تصنیف نہیں بلکہ ترجمہ و تالیف بلا حوالہ و تصریح ہے اور یہ کتاب ادب کی تاریخ میں اس طرح درج ہوگی (بنام مطیع الرحمن عزیر) ایسے ہی افکار جناب شاہد الاسلام اور وسیم راشد کے ہیں، اسسٹنٹ پروفیسر ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ڈاکٹر الطاف یوسف زئی نے ’’ہمارا ادبی منظر نامے کا مطالعہ‘‘ کے عنوان سے جو تحریر قلم بند کی ہے وہ دلچسپ بھی ہے فکر انگیز بھی، وہ لکھتے ہیں کہ استاد محترم ڈاکٹر ظہور احمد اعوان سے ایم اے کی کلاس میں ایک کہانی سنی تھی کہ جب سندباد کا جہاز رخ کے پنجوں میں بندھ کر ایسے جزیرے میں پہنچا جس کی زمین کا چپہ چپہ لعل و یاقوت، نیلم و پکھراج سے پٹا پڑا دیکھا تو لالچ کی تیز آنچ اس کے سینے میں بھڑک اٹھی اور اس نے دوڑ کر اپنی جیبیں بھرنی شروع کردیں سند باد آگے بڑھا تو اور بہتر ہیرے جواہرات دکھائی دیے اس نے فوراً اپنی جیبیں خالی کیں اور ان کو اپنی دانست میں بعد کے بہتر جواہرات سے بھر لیں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ حیدر قریشی کی چھ کتب کا ایک جلدی مجموعہ ہمارا دبی منظر نامہ جو بڑی حد تک ان کا ازم نامہ ہے، ہمارا ’’ادبی منظر نامہ‘‘ کا آخری پڑاؤ ڈاکٹر وزیر آغا عہد ساز شخصیت کا ہے ڈاکٹر وزیر آغا کے پائے کا مفکر و دانشور اب دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ عکاس 28 میں راقم کے بھی دو مضامین شامل ہیں جوکہ جناب حیدر قریشی کی علمی و ادبی کاوشوں پر لکھے گئے ہیں، شاعری، افسانوں اور مضامین نے مذکورہ پرچے کو زینت بخش دی ہے۔ اور یہ کارنامہ جناب ارشد خالد صاحب کا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔