رومی کا قونیہ…

شیریں حیدر  اتوار 16 ستمبر 2018
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

’’ قونیہ کون سیاح جاتا ہے میڈم؟‘‘ اس نے سوال کیا۔’’ میں جانا چاہتی ہوں !! ‘‘ میں نے اصرار کیا۔

’’ اس میں خواہ مخواہ کا خرچہ ہے اور یہ شہر ہماری سیر و تفریح کی غرض سے آنے والے لوگوں کے لیے کشش کی فہرست میں کہیں بھی نہیں ہے! ‘‘ ٹور آپریٹر نے مجھے سمجھانے کی ایک ناکام سعی کی۔…’’ آپ پلیز میرے ٹرپ میں اسے شامل کر دیں ! ‘‘ خرچہ میرا تھا لیکن د کھ اسے ہورہا تھا۔

’’ ٹھیک ہے میڈم‘‘ اس نے ہمارے پروگرام میںترمیم کر کے مجھے ای میل بھیج دی۔ بندہ ترکی جائے، اور خلوص نیت سے کوشش نہ کرے کہ وہ ایک بار قونیہ جائے… رومی کا قونیہ۔

ہم میں سے غالبا ہر لکھا پڑھا شخص رومی کو جانتا ہو گا، مثنویء روم کے حوالے سے، نئی نسل Forty rules of Love کے حوالے سے اور رومی کے ان اقوال کے حوالے سے جو آج بھی حال کی مطابقت سے معلوم ہوتے ہیں۔

ٹورنٹوسے استنبول… شام کو پہنچ کررات استنبول میں قیام کیا اور سویرے پانچ بجے ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے، جہاں دو دن کے انقرہ کے قیام کے بعد ہمیں شام کو برق رفتار ٹرین سے قونیہ جانا تھا۔ اس ٹرین میں بیٹھے جو 262کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی اور دل کی دھڑکنیں بھی شاید اسی رفتار سے… انقرہ کے شہر نما ٹرین اسٹیشن کے مقابلے میں قونیہ کا ٹرین اسٹیشن ہمارے ہاں کے کھاریاں کے ٹرین اسٹیشن جیسا تھا، چھوٹا، سادہ سا اور یہاں سے نظر آنے والا شہر بھی چھوٹا سا تھا ۔

رومی کے مقبرے کی عمارت نظر کے سامنے تھی۔ وہی مقام جہاں کبھی دل میں جستجو اور تڑپ لیے ہوئے شمس تبریز آئے تھے… اس وقت مزار کے اندر جانا تو ممکن نہ تھا مگر تا دیر اس کے قرب میں بیٹھ کر اس وقت کو اپنے اندر محسوس کیا جب اس شہر کی فضاؤں میں محبت اور علم کے پیاسے اپنے اذہان کو سیراب کرنے کے لیے یہاں آتے تھے جہاں علم اور حکمت کے خزانے تھے۔ رومی اور شمس تبریزی نے مل کر عشق حقیقی کی اس انتہا کو پایا جہاں کوئی کوئی ہی پہنچ پاتا ہے۔

یہاں داخلے کیئے کوئی ٹکٹ نہ تھی۔ ترکی… جہاں چند جگہوں پر ٹائیلٹ استعمال کرنے کے لیے بھی دو لیرا دینے پڑتے ہیں ۔ مکتب اور مزار کی جدید عمارت کے باہر ایک عمارت کا ڈھانچہ نظر آیا جس کے پاس بورڈ پر لکھا تھا کہ وہ رومی کا اصل مدفن تھا، 17 دسمبر  1273 کو رومی کا وصال ہوا، ایک برس کے بعد سلجوق کے امیر نے تبریزکے بدر الدین کو حکم جاری کیا کہ وہ رومی کے مزار کی تعمیر کرے۔ ہاتھی کے چار پاؤں کی شکل کے ستونوں پر کھڑی لال اینٹوں کی اس عمارت کی اندرونی دیواروں پر کیا گیا نیلے رنگ کا مخصوص آرٹ ورک بھی اب قریب ختم ہونے کو ہے۔ ہر وقت کے حاکم نے اس مقبرے اور مکتب میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور کی ہے۔

انیس کمروں پر مشتمل اس مکتب کو اب میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فضا میں مسلسل گونجتی ہوئی ’نے‘ کی آواز دل پر عجیب سا وجد طاری کر رہی تھی، ہم بڑھتے جا رہے تھے۔ مکتب کے باہر مختلف سائزکی قبریں تھیں، سفید مرمر کے پانچ فٹ تک بلند کتبے اور مرمر ہی کی قبریں… ان پر ترکی زبان میں کتبے تھے۔ مکتب کے ہر کمرے کی چھت گنبد نما تھی، پانچ فٹ اونچائی کا دروازہ ( اس وقت لوگوں کے قد چھوٹے تھے یا یہ مقصد تھا کہ کمرے میں داخل ہونے والا سر جھکا کر داخل ہو) اور دروازے کے ایک طرف ایک کھڑکی، دو طاق جہاں چراغ رکھے جاتے ہوں گے۔ ہر کمرے میں جہاں کبھی طالب علم رہا کرتے تھے، اب ان میں ان کی یادداشتیں تھیں۔ قرآن کے قدیم نسخے، ہاتھ سے لکھی ہوئی مثنویٔ روم، رومی کے استعمال کی اشیا، ان کے لباس، ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط، جوتے، دستار اور ہتھیار اور ہر وہ چیز جو کبھی ان کے تصرف میں رہی ہو گی۔ اس کے علاوہ مختلف ساز جو اس وقت بجانے کے لیے استعمال ہوتے تھے جب اس مکتب کے درویش وجد میں آکرعشق الہی میں جھومنے لگتے تھے۔

صحن کے عین بیچ میں وہ فوارہ اب بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہو کر بھی موجود ہے جہاںکبھی… شمس تبریزی نے رومی کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ان کی ساری کتابیں پانی میں پھینک دی ہوں گی اور اس پر رومی ششدر رہ گئے ہوں گے ، کہا ہو گا، یہ کیا کیا، تم نے میرا سارا علم پانی میں بہا دیا۔ اس پر شمس نے مسکرا کر پانی سے نکال کروہ ساری کتابیں رومی کے سامنے رکھ دی ہوں گی اور کہا ہو گا… یہ کیا علم ہوا جو پانی میں بہا دینے سے ضائع ہو گیا۔ اس پر رومی نے اپنی غرق ہوجانے والی ان کتابوں کو کھولا ہو گا تو حیرت کے سمندر میں خود غرق ہو گئے ہوں گے جب انھوں نے پانی میں ڈوبنے کے بعد نکالی جانے والی کتابوں کو دیکھا ہو گا۔ پانی سے ان کا ایک حرف بھی نہ مٹا تھا اور ان کا ایک ایک صفحہ سوکھا تھا۔ یہ بحث برسوں سے جاری ہے کہ رومی اور شمس میں سے بڑا کون تھا، کون پیاسا تھا اور کون سمندر مگر یہ حقیقت اٹل ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے اور ایک کے بغیر دوسرا نا مکمل نظر آتا ہے۔

مکتب کے ان انیس کمروں کے آخر میں ایک نسبتا بڑا کمرہ ہے، جو اس وقت کا باورچی خانہ تھا جہاں مکتب میں آنے والے طالب علموں کو اپنا اولین وقت گزارنا ہوتا تھا، ان کی ذمے داری باورچی خانے کی صفائی سے شروع ہوتی تھی اور ان کا قیام بھی باورچی خانے کے اندر بنے ہوئے ان چھوٹے چھوٹے cellsمیں ہوتا تھا جن میں بمشکل ایک شخص کے لیٹنے کی جگہ ہوتی تھی۔ اس کچن میں اس وقت کے مستعمل بڑے بڑے دیگچوں اور چمچوں سے لے کر چھوٹے سے چھوٹا سامان موجود تھا۔ ایک طرف بنے ہوئے بڑے بڑے چولہے تھے۔ نصف باورچی خانہ جو باقی حصے سے چار پانچ فٹ کی بلندی پر تھا اس حصے کو غالبا بیٹھ کر کھانا کھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ میوزیم اوراس کے تمام حصے میں مجسموں کے استعمال سے اس وقت کے حالات کو سمجھنا بالکل آسان تھا۔

اس کے بعد اس بلند دروازے کے طرف چلے جس کے عین اوپر لکھا تھا ’’ یا حضرت مولانا‘‘ ، لکڑی کی منقش چوڑی سی محراب میں سنگ مر مر کا فریم تھا اور اس میں لکڑی کا بنا ہوا مضبوط دروازہ۔ باہر لکھا تھا کہ اپنے جوتوں کو ان لفافوں سے ڈھانپ لیں۔ کثیر تعداد میں موجود لفافوں میںسے دو لفافے لے کر اپنے جوتوں کو ڈھانپ لیا، یہ رواج اچھا لگا بہ نسبت جوتے اتار کر کسی مزار میں جانے کے کہ جہاں سے واپسی تک یہی فکر رہتی ہے کہ جانے واپسی پر اپنے جوتے ملیں گے یا نہیں۔ اندر بڑے سے ہال میں ہر طرف مزید کمرے تھے جو مدفن تھے ان لوگوں کے جو کبھی نہ کبھی اس مکتب میں کسی حیثیت سے رہے تھے۔ ترکی کے رواج کے مطابق، بڑی بڑی قبریں سر کی طرف سے قدرے بلند، سبز رنگ کے کپڑے ان پر منڈھے ہوئے تھے اور سر کی طرف ایک دستار نصب ہے۔ ان قبروں کے سرہانے کوئی کتبہ نہیں ہے ، اس کے بجائے دیواروں پر فریم کی گئی مختلف تختیاں تھیں جن پر عربی اور ترکی میں آیات اوراشعار وغیرہ لکھے ہوئے تھے۔

رومی کے مزار کو مکمل طور پر ڈھانپا گیا ہے، وہ مکمل پردے میں ہیں، جنھیں دیکھنے کا اشتیاق یہاں تک کشاںکشاں لے کر آیا تھا ان کا مزار بند تھا، البتہ اس کی بیرونی دیواروں پر بڑی تصاویر کی مدد سے اندر کا مکمل نقشہ بنایا گیا تھا کہ اندر سے مزار کیسا نظر آتا ہے۔ مزار کے احاطے میں ہی جگہ مختص کی گئی ہے جہاں پر نماز یانوافل وغیرہ پڑھے جا سکتے ہیں ، وہاں پر نفل پڑھنے کے بعد دیر تک بیٹھی ان مزارات اندر کیے گئے آرٹ کے ان نمونوں کو دیکھتی رہی جہاں تک ہر کسی کی نظر کی رسائی نہیں ہے ۔ یونہی بیٹھے بیٹھے میں ان عورتوں کو دیکھے بنا بھی نہ رہ سکی جو ہاتھ اٹھا کر گڑگڑا کر ’’ یا مولانا ‘‘ کہہ کر اپنی درخواستیں اللہ کے حضو ر پیش کر رہی تھیں ۔ یہ منظر مجھے اپنے ہاں جیسا لگا۔ تین گھنٹے کا وقت اس چھوٹے سے مکتب کو دیکھنے کے لیے کم نہ تھا مگر یوں چٹکیوں میں وقت گزرا کہ علم بھی نہ ہوا۔ دل میں ایک خواہش کے پورے ہونے کا سکون تھا، نئی منزل کی طرف رواںہوئے تو دل کی دھڑکنیں ’نے‘ کی تال پر دھڑک رہی تھیں، جس میں جذب ہے، سکون ہے اور عشق حقیقی کا سرور!!



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔