سوشل میڈیا ، بندر کے ہاتھ استرا

سعد اللہ جان برق  اتوار 16 ستمبر 2018
barq@email.com

[email protected]

غصہ تو ہمیں بہت ساری باتوں، چیزوں اور لوگوں پر آتارہتا ہے لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں ’’بے بسی‘‘ کی دولت بھی نہایت وافر عطا کی ہوئی ہے ورنہ ہم نہ جانے روزانہ کتنے کشتوں کے پشتے لگاتے اور کتنے اونچے اونچے ’’مینار‘‘ کتنے ملکوں اور شہروں میں تعمیر کرتے۔

پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ اے میرے خالی ہاتھ تو ہی میرا دشمن ہے لیکن ہمارا معاملہ اس سے قطعی الٹ ہے اور خالی ہاتھ کو اپنا بہترین دوست مانتے ہیں کہ ہمارے خطرناک ارادوں کو مہار ڈالے رہتا ہے ورنہ۔ ورنہ ہم کیا کرتے؟ یہ خود ہمیں بھی معلوم نہیں۔ مثال کے طور پر آج کل یہ جو سوشل میڈیا کہلاتا ہے اس کے تو پرخچے اڑا دیتے۔ بانسری تو بانسری ہم اس کے ساتھ بانس تک کو فنا کر چکے ہوتے۔ کتنا بڑا ظلم ہے، کتنا بڑا قہر ہے بلکہ غضب ہے کہ وہی شیخ سعدی والی بات ہو گئی ہے جسے فیض احمد فیضؔ نے یوں منظوم کیا ہوا ہے کہ

ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست وکشاد

کہ سنگ وخشت مقید ہیں اور ’’سگ آزاد‘‘

اور ’’سگ‘‘ بھی کچھ ایسا ویسا نہیں کہ صرف اپنی گلی میں بھونکے بلکہ لوگوں کے گھروں میں جا جا کر گھستا ہے، بھونکتا ہے اور شلوار یں اتار کر تار تار کرتا رہتا ہے اور پتھروں کو مقید کیا ہوا ہے، دوسرے پتھروں کو چھوڑیے اگر اس واحد پتھر یعنی ہمارے ہاتھ کو تھوڑا سا آزاد کر دیا جائے تو؟ لیکن بھلا قانون بنانے اور نافذ کرنے والوں کے ہاتھ سے بھی کبھی کوئی نیک کام ہوا ہے جو یہ ہو جائے۔ ویسے کچھ زیادہ ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہمارا مطلب ہے کہ ہم اپنے ملکی یعنی پاکستانی سوشل میڈیا کی بات نہیں کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان کی تو ہر چیز پاک و پاکیزہ ہوتی ہے، اس لیے سوشل میڈیا بھی وہ کرائے کا میڈیا یا جو نہایت ہی پاک و صاف اور نیک چال چلن والا ہے، کم از کم ہمیں آج تک کوئی اطلاع ایسی نہیں ملی ہے کہ پاکستانی میڈیا پر کوئی غیر پاکستانی یا ’’غیر پاک‘‘ بات آئی ہو۔ بلکہ ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ اکثر لوگ سوشل میڈیا کو ہاتھ لگانے سے باقاعدہ با وضو ہو جاتے ہیں بلکہ اکثر تو باقاعدہ غسل بھی فرما لیتے ہیں اور پھر اپنی پاکی کو سامنے رکھ کر ایسی گل افشانی گفتار کرتے ہیں کہ داستان کھل جاتی ہے، سوشل میڈیا کے لفظ سے ہمارا خیال ایک اور طرف چلا گیا ہے۔ جسے اردو میں شاید ’’استرا‘‘ کہتے ہیں۔ خیر ’’اس طرح‘‘ ہو یا ’’اس طرح‘‘ لیکن بندر کے ہاتھ جو پڑا تھا وہ یہی استرا تھا ۔لیکن ہمارا اشارہ اس جانب بالکل نہیں کہ ہم کسی کو ’’بندر‘‘ کہنا چاہتے ہیں لیکن استرا تو استرا بلکہ ’’ہر طرح‘‘ ہوتا ہے، چاہے بندر کے ہاتھ لگے یا اس کی اولادوں کے۔

اس لیے ہم بھی اپنے مقامی بندر۔ سوری، سوشل میڈیا سے کوئی پرخاش نہیں، اس بچارے سے کیا پرخاش اور کیا دشمنی۔ بلکہ اس کے ساتھ ہمدردی، لگے رہو منا بھائی۔ البتہ یہ جو ہمارے پڑوس میں ایک نا بنجار ملک ہے اس کا ہر قسم کا میڈیا ہمیں بہت کچھ کرنے پر اکسا رہا ہے لیکن بات وہیں آکر رک جاتی ہے کہ اے میرے خالی ہاتھ اور بس۔

تازہ ترین غصے کی لہر جو ہمیں پڑوس کے سوشل میڈیا پر ہے، اس کی بات تو تھوڑی بعد میں کریں گے پہلے اپنے دل کے کچھ پرانے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔ ہم جب صوفی کانفرنس میں شرکت کے لیے بھوپال گئے تو وہاں ایک بنگالی مورتی سے واسطہ پڑا۔پاربتی اس کا نام تھا۔ ٹیگور کے شانتی نکتین کی گریجویٹ تھی۔

بعد میں اس سے بیٹھک ہوئی تو اوربھی مہذب نکلی تب ہم نے ان تمام ملکوں، ان کے سربراہوں اور ویزے پاسپورٹ بنانے والوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بدبخت ’’لوبریکر‘‘ لوگ نہ ہوتے تو آج ہم تمہارا ’’اپہرن‘‘ (اغوا) کر لیتے۔ جواب میں اس نیک بخت نے آگ پر مزید پیٹرول چھڑکتے ہوئے، اپنی جادوئی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ اور میں بھی کڈ نیپ ہو جاتی۔ لیکن آج ہم اس کے بالکل الٹ سوچ رہے ہیں اور ان لوگوں کو دعائیں دے رہے ہیں جو ملکوں کے درمیان دیواریں اور پاسپورٹ ویزے حائل کیے ہوئے ہیں۔ یہ نہ ہوتے تو آج ہم پڑوسی ملک کی کسی جیل میں ہوتے اور ہم پر ایک شخص کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا الزام ہوتا۔

بلکہ بعید نہیں کہ ہم پر آتنک وادی کا ٹھپہ لگا کر ٹاڈا اور پیوٹا میں بھی ملوث کیا جا چکا ہوتا کیونکہ سنا ہے کہ وہاں تو کبوتروں تک پر جاسوسی کے الزام لگ جاتے ہیں، حالانکہ اصل معاملہ ہمارا قطعی ذاتی ہوتا اور ہم اس شخص کو ٹکڑے ٹکڑے بلکہ قیمہ قیمہ کرنا چاہتے ہیں جس نے سوشل میڈیا پر ’’تاپسی پنو‘‘ نامی اداکا رہ کو ’’بدصورت‘‘ کہنے کی جسارت کی ہے ۔’’تاپسی پنو‘‘ کو آپ اگر نہیں جانتے تو بہت اچھا ورنہ آپ کے جذبات بھی ہم سے مختلف نہ ہوتے۔ کبھی کبھی تو جی میں آتا ہے کہ واہگہ بارڈر پر جاکر یونہی دوچار پتھر اس طرف اچھال دیں جس طرف وہ بدبخت کم بخت سیاہ بخت، بد ذوق، اندھا، احمق، بے وقوف سوشل میڈیا رہتا ہے جس نے ’’تاپسی پنو‘‘ کو بدصورت کہا ہے۔ ہمیں معلوم ہے وہ ایسا ’’ انگور کھٹے ہیں کے جذبے سے کہہ رہا ہے ورنہ تاپسی پنو اور بدصورت، دس کھرب دس ارب (بلکہ عرب بھی) دس کروڑ دس لاکھ دس سو دس ڈالر کی تو اس کی صرف مسکراہٹ ہے۔

ویسے تو پڑوسی ملک کی بالی ووڈ نامی آرمز فیکٹری سے جو بھی گن یا گولی نکلتی ہے، ہزار ہزار ’’گن‘‘ رکھتی ہے ۔ لیکن ’’تاپسی پنو‘‘ تو چیز ہی دیگر ہے حالانکہ اس کا منہ تھوڑا سا ٹیڑھا ہے لیکن اس ٹیڑھے پن ہی نے تو قیامت مچا رکھی ہے، اگر اس کا منہ سیدھا ہوتا تو شاید محلے میں بھی کوئی نظر اٹھا کر نہ دیکھتا۔ لیکن یہ ٹیڑھا پن جس پر ہزاروں لاکھوں سیدھے پن وارے جاسکتے ہیں۔

اگلے زمانوں میں ایک مدہو بالا بھی تھی جس کے ہونٹوں میں ایسا ہی کچھ ٹیڑھا پن تھا۔ آپ یقین نہیں کریں گے لیکن ہر فلم میں اس کے ساتھ رومانس اور شادی پر ہم نے دلیپ کمار کو درجنوں بار قتل کیا تھا۔ اب اگر وہ مرا نہیں تو اس میں ہمارا کیا دوش، جسے رب رکھے اسے کون چکھے۔ ہم تو اپنی طرف سے کوشش خوب کر چکے ہیں بلکہ اسی وجہ سے ہم کشور کمار کے گانے بڑی عقیدت سے سنتے ہیں جس نے اس بچاری، اپنے باپ عطاء اللہ، دلیپ کمار وغیرہ کی ماری مدھو بالا کو آخری وقت میں سہارا دیا تھا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔