امریکا میں نماز کی وجہ سے برطرف 138 ملازمین کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ

اے پی پی  اتوار 16 ستمبر 2018
’کارگیل میٹ سولوشنز‘ نامی کمپنی نے کچھ عرصہ پیشتر مسلمان ملازمین کو نماز کے لیے رخصت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

’کارگیل میٹ سولوشنز‘ نامی کمپنی نے کچھ عرصہ پیشتر مسلمان ملازمین کو نماز کے لیے رخصت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

واشنگٹن: امریکا میں گوشت کی پیکنگ اور سپلائی کرنے والی مقامی کمپنی نے نماز کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کیے گئے صومالیہ کے 138 ملازمین کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

العربیہ نیوز کے مطابق امریکی ریاست کولو راڈو میں قائم ’کارگیل میٹ سولوشنز‘ نامی کمپنی نے کچھ عرصہ پیشتر مسلمان ملازمین کو نماز کے لیے کام کے اوقات سے رخصت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی اور دوران ڈیوٹی نماز ادا کرنے والے 138 صومالی ملازمین کو نکال دیا تھا۔

امریکا میں ملازمین کے حقوق کی یونین جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کارگیل میٹ سولوشنز‘ جس کا صدر دفتر کنساس کے علاقے ویٹیچیسا میں ہے، نے نہ صرف نکالے گئے ملازمین کو ہرجانے کے طور پر ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی رقم ادا کرے گی بلکہ وہ مسلمان ملازمین کے لیے نماز کے اوقات میں انھیں وقفہ مہیا کرے گی۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔