’ایشیا کپ‘ چیمپئنز ٹرافی کے بعد پہلا بڑا امتحان

حسنین انور  اتوار 16 ستمبر 2018
سرفراز احمد ٹرافی اُٹھانے کو بے تاب۔ فوٹو: سوشل میڈیا

سرفراز احمد ٹرافی اُٹھانے کو بے تاب۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ایشیا کپ کا دنگل یو اے ای میں شروع ہوچکا، ایشین سپرپاورز کے ساتھ نئی ٹیمیں بھی اپنا جلوہ دکھانے کو تیار ہیں، کسی کو اپنی بیٹنگ قوت پر ناز ہے تو کوئی فاسٹ بولنگ پر اِترا رہا ہے، کسی کو اپنے اسپن اٹیک پر ناز ہے تو کوئی اپنے ماضی کے عمدہ ریکارڈ پر فخر کررہا ہے۔ تمام ٹیموں نے اپنی آنکھوں میں بس ایک ہی خواب سجا رکھا ہے جوکہ ٹائٹل کا حصول ہے۔

ایشیا کپ اس بار اپنے روایتی ون ڈے فارمیٹ پر ہی کھیلا جائے گا۔ گزشتہ ایونٹ 2016 میں یہ ٹی ٹوئنٹی طرز پر کھیلا گیا تھا جس کا مقصد ٹیموں کو اس فارمیٹ کے ورلڈکپ کیلئے تیاری کا موقع دینا تھا، اس بار بھی ٹورنامنٹ میں ٹیموں کو آئندہ برس انگلینڈ میں شیڈول ورلڈ کپ کیلئے اپنے ہتھیاروں کی مکمل جانچ کا موقع ملے گا۔ گزشتہ ٹورنامنٹ بھارت نے بنگلہ دیش کو فائنل میں اسی کے ملک میں زیر کرکے جیتا تھا جبکہ اس سے قبل 2014 میں ایشیا کپ ایک روزہ فارمیٹ پر کھیلا گیا تھا اور اس کے فائنل میں سری لنکا نے پاکستان ٹیم کو زیر کرکے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

ایشاکپ اس بار متحدہ عرب امارات میں شیڈول کیا گیا لیکن اصل میزبان بھارتی کرکٹ بورڈ ہی ہے جس نے پاکستان کی وجہ سے اپنے ملک میں ایونٹ کے انعقاد سے معذرت کرتے ہوئے اس کو یو اے ای منتقل کردیا۔ ٹورنامنٹ میں 6 ٹیمیں شریک ہیں جنھیں 3،3 کے دوگروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔گروپ اے میں پاکستان، بھارت اور ایشین کوالیفائر ہانگ کانگ شامل ہے۔ گروپ بی سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان پر مشتمل ہے۔

پاکستان ٹیم نے آخری بار ایشیائی ایونٹ مصباح الحق کی قیادت میں بنگلہ دیش کو صرف 2 رنز سے زیر کرتے ہوئے جیتا تھا، اس مرتبہ ٹیم کی قیادت سرفراز احمد کے مضبوط ہاتھوں میں ہے جو گذشتہ برس پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی میں بھی فتح یاب کراچکے ہیں مگر اب وہ اس کامیابی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھنے اور اپنے اعزازات کی فہرست میں ایشیائی ٹائٹل کا بھی اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ سرفراز احمد واضح کرچکے ہیں کہ اس ٹورنامنٹ کی بدولت انہیں یہ بات جانچنے کا موقع ملے گا کہ وہ ورلڈ کپ سے قبل کہاں کھڑے ہیں اور انہیں مزید کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انگلینڈ میں شیڈول ورلڈ کپ میں شریک تقریباً آدھی ٹیمیں ایشیا کپ کھیل رہی ہیں اس لئے انہیں اپنی پوزیشن کا اچھی طرح جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔

پاکستان ٹیم کا زیادہ انحصار اپنی ینگ بریگیڈ پر ہی ہے جوکہ پرجوش اور کامیابی کیلئے جان ہارنے کے لیے تیار ہیں۔ سفید بال کی کرکٹ میں اب تک جو کایاپلٹ ہوئی ہے اس کا سہرا بھی اسی ینگ بریگیڈ کے سر جاتا ہے جوکہ ذاتی اہداف اور مفادات کو یکسر پس پشت ڈالتے ہوئے صرف اور صرف ٹیم کی کامیابی کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے اور اس میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ٹیم پر چھائی اس بوریت کا بھی خاتمہ ہوچکا جس کو گذشتہ کچھ برسوں میں شدت سے محسوس کیا گیا تھا۔

ٹاپ آرڈر پر فخرزمان موجود ہیں جنہیں اپنی ہارڈ ہٹنگ اور ٹیم کو کامیابی دلانے کی بدولت ’فخر پاکستان‘ بھی قرار دیا جارہا ہے۔ ان کا دوسرے اینڈ پر ساتھ دینے کے لئے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق موجود ہوں گے جن کو یو اے ای میں ہی سری لنکا کے خلاف ڈیبیو پر سنچری اسکور کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ قومی ون ڈے کپ میں شاندار پرفارمنس کی وجہ سے شان مسعود کو بھی تیسرے اوپنر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ ون ڈائون پوزیشن پر بابر اعظم ہیں جن کے لیے یو اے ای کے میدان رنز کے اعتبار سے کافی زرخیز ثابت ہوئے ہیں، وہ یہاں پر مسلسل سنچریاں جڑچکے اور ایک بار پھر یہ کارنامہ سرانجام دینے کو تیار دکھائی دیتے ہیں، پاکستان کے پاس شعیب ملک کی صورت میں ایک تجربہ کار بیٹسمین موجود ہے جوکہ کھیل کو فنش کرنے کا گر جانتے ہیں، کپتانی کا بھوت سر پر سے اتر جانے کے بعد ان کی پرفارمنس میں کافی بہتری آئی ہے مگر محسوس ہوتا ہے کہ کچھ حلقے ایک بار پھر انھیں قیادت کے سبز باغ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا نقصان ان کو ہی ہوگا۔ پاکستان کا بولنگ اٹیک بھی کافی مضبوط ہے جس میں حسن علی فاسٹ اٹیک کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں تو ان کے ’جگری‘ دوست شاداب خان اپنی گھومتی ہوئی گیندوں سے حریف بیٹسمینوں کو جینا دشوار کرنے کا ہنر اچھی طرح جان چکے ہیں۔

ان سطور کے شائع ہونے تک سری لنکا اور بنگلہ دیش کا میچ مکمل ہوچکا ہوگا، پاکستان اپنے سفر کا آغاز پیر کے روز ہانگ کانگ کے خلاف میچ سے کرے گا، جس نے حال ہی میں ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں کھیلے گئے ایشیا کپ کوالیفائرز کے فائنل میں مضبوط ٹیم یو اے ای کو شکست دے کر مین رائونڈ میں جگہ بنائی ہے، دلچسپ بات یہ تھی کہ ہانگ کانگ کی ٹیم رواں برس مارچ میں زمبابوے میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کوالیفائرز میں خراب کارکردگی کی وجہ سے اپنا ون ڈے اسٹیٹس گنوا چکی تھی، جس کی وجہ سے آئی سی سی کو ایشین کرکٹ کونسل کی درخواست پر خصوصی طور پر ایشیا کپ کے تمام میچز کو ون ڈے انٹرنیشنل اسٹیٹس دینے کا اعلان کرنا پڑا، اس طرح ہانگ کانگ کے خلاف پاکستان اور بھارت کے میچز کے اعدادوشمار بھی انٹرنیشنل ریکارڈز کا حصہ بنیں گے۔

پاکستان کا اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ بدھ کے روز ہوگا۔ دونوں ٹیمیں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد ایک دوسرے سے ٹکرائیںگی مگر اس بار بھارتی ٹیم کی قیادت ویرات کوہلی کے بجائے روہت شرما کے ہاتھوں میں ہوگی کیونکہ بھارتی سلیکٹرز نے آئی پی ایل سے نان اسٹاپ کرکٹ کھیلنے کو وجہ قرار دیتے ہوئے ویرات کوہلی کو اس اہم ترین ایونٹ میں ہی آرام دے دیا جوکہ ورلڈ کپ سے قبل ٹیم کا کمبی نیشن جانچنے کا اچھا موقع تھا۔ بہرحال بھارتی ٹیم کو کوہلی کے بغیر بھی اپنی مضبوط بیٹنگ لائن پر کافی بھروسہ ہے اس کے ساتھ انھیں یوزویندرا چاہل اور کلدیپ یادیو پر مشتمل اسپن اٹیک پر بھی کافی ناز ہے، اس بات کی بھی توقع کی جارہی کہ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت دو اسپنرز کے ساتھ ہی میدان میں اُترے گا۔

بنگال ٹائیگرز کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ حال ہی میں ویسٹ انڈیز کو اس کے ملک میں سفید بال کی کرکٹ میں ناکوں چنے چبوا کر آئے ہیں، انھوں نے کیریبیئن ٹیم کو ٹوئنٹی 20 اور ون ڈے دونوں فارمیٹس میں زیر کیا ہے، اس لیے وہ خود کو سپر فور مرحلے میں آسانی سے رسائی پاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں بلکہ ان کی نگاہیں تو ابھی سے ٹرافی کا طواف کر رہی ہیں جوکہ 2012 اور 2016 میں ان کے ہاتھوں سے پھسل چکی ہے، دو برس قبل بھارت نے انھیں فائنل میں مات دی تھی جبکہ 6 سال پہلے گرین شرٹس نے صرف دو رنز سے ان کے ارمان خاک میں ایسے ملائے تھے کہ ان کی آنکھوں سے چھلکنے والے آنسو آج تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی ٹیم صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہے مگر اس کا سب سے کمزور پہلو شدید دبائو والے مقابلوں میں ہمت ہار جانا ہے، اکثر وہ جیتے ہوئے میچز آخری اوورز میں ہار چکی اور کوچز ان کی یہی نفسیاتی گرہ کھولنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سری لنکن ٹیم میں لیستھ مالنگا کی واپسی ہوئی ہے، کوچ چندیکا ہتھورا سنگھے تو کافی خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ منفرد ایکشن کے حامل فاسٹ بولر اس ٹورنامنٹ میں آئی لینڈرز کا ہتھیار ثابت ہوں گے مگر ان کے ملک کے کچھ سابق کرکٹرز کا خیال ہے کہ مالنگا اپنے اچھے دن بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں، ٹوئنٹی 20 میں چار اوورز کرالینا اور بات ہے ون ڈے میں کوٹے کے 10 اوورز ان کی فٹنس کو بے نقاب کردیں گے۔

افغانستان کی ٹیم بلاشبہ انتہائی باصلاحیت اور کئی ٹیموں کو حیران کرچکی ہے، اس نے متعدد کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں، ورلڈ کپ کوالیفائرز ایونٹ جیت کر اس نے میگا ایونٹ کی ٹکٹ بھی کٹوا رکھی ہے، اس کا سب سے بڑا ہتھیار اس کے اسپنرز ہی ہیں خاص طور پر راشد خان وہ ہتھیار ہے جوچل جائے تو کسی بھی بیٹنگ لائن کو تباہ کر سکتا ہے۔ اگر اس بار بھی افغان اسپن گنز چل پڑیں تو پھر انہیں دنیا کو حیران کرنے سے روکنا مشکل ہوجائے گا، کوالیفائر ہانگ کانگ کو ایک بڑا پلیٹ فارم میسر آیا،نوجوان کرکٹرز اچھا تاثر چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔