مسائل سے آگاہی پر وزیراعظم کراچی ترقیاتی پیکیج دے رہے ہیں، میئر کراچی

اسٹاف رپورٹر  اتوار 16 ستمبر 2018
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان عمران خان کے ساتھ ہے، وزیر اعظم بااختیار میئر چاہتے ہیں، وسیم اختر۔ فوٹو:فائل

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان عمران خان کے ساتھ ہے، وزیر اعظم بااختیار میئر چاہتے ہیں، وسیم اختر۔ فوٹو:فائل

کراچی: میئرکراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوگی، مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم نہ صرف انھیں حل کریں گے بلکہ کراچی کے ترقیاتی پیکیج کے لیے اعلان بھی کریں گے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ آج وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں میں میئر کی حیثیت سے ملاقات کروں گا جس میں سرکلر ریلوے کی بحالی، مردم شماری میں کراچی کی آبادی، کراچی یونیورسٹی کے لیے 9 ارب دیے جانے سمیت پانی کے منصوبے کے فور کی تکمیل، سیوریج کے منصوبے ایس تھری اوردیگر منصوبے پر بات کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں جو وفاقی کابینہ کے وزرا حلف اٹھائیں گے ان میں ایم کیو ایم پاکستان کا بھی ایک وزیر شامل ہوگا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے کراچی کو تباہ و برباد کیا، حکومت سندھ کراچی کو وڈیرے کے اوطاق کی طرح چلاتی ہے، وفاقی حکومت نے کراچی کے تین برجز اور دو بڑی سڑکیں بنانے کی منظوری دے دی ہے، فائر بریگیڈ کے سامان خریدنے کے لیے پانچ ارب روپے دیے جارہے ہیں ساتھ ہی کراچی کے لیے 25 ارب روپے کا پیکیج منظور ہوگیا ہے جس کے لئے ہم نے وفاقی حکومت کو خط لکھا تھا۔

وسیم اختر نے کراچی کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں، پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ویگنوں کی چھتوں پر چڑھ کر لوگ سفر کرتے ہیں اور اکثر و بیشتر چھتوں سے گرنے کے باعث معذور ہوجاتے ہیں کراچی میں 10 لاکھ موٹر سائیکلوں پر نوجوان سفر کررہے ہیں اور روزانہ حادثات کا شکار ہوتے ہیں، ساتھ ہی ان حادثات کی وجہ سے کئی لوگ اپاہج ہورہے ہیں، پیپلز پارٹی کی 10 سالہ حکومت میں ایک بس بھی کراچی کو نہیں دی گئی شہریوں کو پانی سے ترسایا اور سیوریج سے سڑکوں کو تباہ کیا۔ کراچی میں سیوریج کو بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے، ہم وہ قوم ہیں جو اپنے سمندر کو بھی تباہ کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم بلدیاتی نظام کو بہتر کرنا چاہتے ہیں اور انھیں اختیار دینا چاہتے اگر کراچی کو اختیارات دینے ہیں تو کراچی کو ایک ضلع بنانا ہوگا اور پولیس، کنٹونمنٹ بورڈ، کے ڈی اے اور دیگر بلدیاتی اداروں کو ایک میئر کے چھتری تلے لانا ہوگا، جو بندر بانٹ کراچی میں کی گئی ہے وہ کراچی کے دو اضلاع جنوبی اور ملیر پر قبضے کے لیے تھی، اب ایسا نہیں ہونے دیں گے اور کراچی کو صحیح معنوں میں بین الاقوامی شہر بنانے کے لیے میئر کراچی کو بااختیار کرنا ہوگا، گزشتہ 10 سالوں میں ایڈمنسٹریٹرز نے کراچی کو تباہ کردیا، کے ایم سی پر ڈھائی ارب روپے کے واجبات ہیں لیکن سندھ حکومت یہ واجبات نہیں دے رہی اس پر بھی وزیر اعظم سے بات ہوگی۔

میئر کراچی نے مزید یہ بھی کہا کہ کراچی میں تین بڑے برج سخی حسن چورنگی، فائیو اسٹار چورنگی اور کے ڈی اے چورنگی کے منصوبے وفاقی حکومت منظور کرچکی ہے اس پر کام کا آغاز ہوگا، وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات سیاسی نہیں ہے بلکہ کراچی کے مسائل کے حوالے سے ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ٹرینوں کے ذریعے شہر کا کچرا منتقل کیا جاتا ہے، ہر اسٹیشن پر گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن بنائے جاتے ہیں اگر سرکلر ریلوے بحال کیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے، دھابیجی اسٹیشن پر گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن پہلے سے موجود ہے اسے بحال کیا جائے شہر میں پانی و سیوریج کے انفراسٹرکچر پر بھی وزیر عظم سے بات ہوگی تاکہ اس مسئلہ کو حل کیا جاسکے۔

وسیم اختر نے کہا کہ یہ واحد وزیر اعظم ہیں، جو کراچی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں اگر کراچی کے مسائل حل کریں گے تو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ایم سی اور کراچی کے شہری ان کے ساتھ کھڑے ہیں، اور اگر بیوروکریسی کے ہاتھوں کاموں کو تعطل کا شکار کیا گیا اور مسائل حل نہیں کیے گئے تو پھر یہ سمجھنے میں ہم حق بجانب ہونگے کہ سب ایک تھالی کے لوگ ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔