چیف جسٹس کا تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال پر ازخود نوٹس

ویب ڈیسک  اتوار 16 ستمبر 2018
پاکستان کے روشن مستقل کے لیے منشیات مافیا کو قابو کرنا ہو گا، چیف جسٹس۔  فوٹو: فائل

پاکستان کے روشن مستقل کے لیے منشیات مافیا کو قابو کرنا ہو گا، چیف جسٹس۔ فوٹو: فائل

لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال  پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال  پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ایڈووکیٹ ظفر کلانوری کی مفاد عامہ کی درخواست پر چیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو منشیات باآسانی دستیاب ہے، منشیات کے فروغ سے ہم اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: تمام چوروں کو پکڑنے کا وقت آگیا ہے

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ تعلیمی اداروں کے علاوہ بھی  طالبعلموں اور دیگر نوجوانوں کو آئس سمیت دیگر منشیات باآسانی میسر آ جاتی ہیں، پاکستان کے روشن مستقل کے لیے منشیات مافیا کو قابو کرنا ہو گا۔ چیف جسٹس نے سی سی پی او لاہور اور اینٹی نارکوٹکس افسران سمیت دیگر حکام سے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔