ڈرون حملوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،جاوید لطیف

مانیٹرنگ ڈیسک  ہفتہ 1 جون 2013
معاملہ حکمت عملی سے حل کیا جائے ، شہزاد چوہدری، تکرار میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

معاملہ حکمت عملی سے حل کیا جائے ، شہزاد چوہدری، تکرار میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

لاہور: ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ عوام نے ہماری جماعت سے توقعات وابستہ کررکھی ہیں اور ہم اس پر پورا اتر نے کی کوشش کریں گے۔

ایکسپریس نیو زکے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ہم کے پی کے اور بلوچستان میں حکومت بناسکتے تھے لیکن دوسری جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کیا۔ ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ یہی پالیسی ہم نے وفاق میں بھی اختیار کی۔ دہشتگردی، خارجہ پالیسی اہم مسائل ہیں۔ اس پر ساری پارلیمنٹ کو ساتھ لے کرچلیںگے۔ پاکستان میں کہیں بھی ڈرون حملوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ان کامزیدکہناتھاکہ ہم کسی محکمے میں کسی جیالے یا رشتہ دارنہیں لارہے، بجٹ سر پر ہے مگراس کے ساتھ گڈ گورننس بھی لانا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کی رہنما عائشہ گلا لے زئی نے کہا کہ ہماری جماعت سے فرینڈلی اپوزیشن کے کردار کی توقع نہ رکھی جائے ہم عوام دوست پالیسیوں کی حمایت کریں گے۔

تحریک انصاف نواز شریف  سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بطور وزیراعظم ڈرون حملے روکنے یا گرانے کامطالبہ کریں۔ انھیںبدامنی ختم کرنا چاہیے کیونکہ جب تک بدامنی ختم نہیں ہوگی، سرمایہ کاری نہیں ہوگی اور سرمایہ کار بھاگ جائے گا۔ نوازشریف کو ڈرون حملوں پرپالیسی واضح کرنا ہوگی۔کے پی کے میں ہم عوام دوست بجٹ بنائیں گے، اپنے صوبے کی بجلی خود بنائیں گے، اس سلسلے میں ہوم ورک کرلیا ہے۔ اگر حکمران اپنا پیسہ پاکستان میں واپس لے آئیں، حکومت اخراجات کم کرے تو کافی معاملات ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ تجزیہ کار امتیازعالم نے کہا کہ قومی اسمبلی میں نوازشریف کو واضح اکثریت مل گئی ہے مگر سینیٹ میں جو بھی قانون بنے ہوگا، وہ پیپلزپارٹی کی مدد سے ہی ہوگا۔

اس لیے اس کا تعاون ضروری ہے۔ اس مرتبہ ہنگ پارلیمنٹ نہیں بنی لیکن منقسم مینڈیٹ ہے اور سب کو کوآرڈینیشن سے چلنا ہوگا۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ الیکشن والے چوکے چھکے نہ لگائیں، ڈرون گرانے کے بعد اگلی صبح بھی ہوگی جو جنگ کی صبح بھی ہوسکتی ہے۔ عمران بردباری اور برداشت سیکھیں۔ معیشت ہماری ختم ہے، بجلی ہے نہیں اور کہا جاتا ہے امریکا پرحملہ کردو۔ ہمیں امریکا سے پیسے لیناپڑتے ہیں، ہمارے اخراجات زیادہ اور وسائل کم ہیں۔ لوڈشیڈنگ 3سال میں بھی ختم ہوجائے تو بڑی بات ہے۔ ایئروائس مارشل(ر) شہزادچوہدری نے کہاکہ عمران خان کا بیان حقیقت سے بہت دور ہے۔

اگر وہ خود حکومت میں آتے تو ایسی بات نہ کرتے۔ اس میں شک نہیں کہ انھوں نے پوائنٹ اسکورنگ کی۔ ڈرون گرانے کی بجائے معاملہ بردباری اور حکمت عملی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم بندگلی میں پھنس چکے ہیں، ڈرون حملے وقفے وقفے سے جاری رہیں گے ۔ 2014 ء تک جنگ جاری رہے گی اور اس  میں ڈرون حملے کو بہترین ہتھیار کے طورپر استعمال کررہے ہیں۔ن لیگ کی طرف سے سیکیورٹی مسائل پر سنجیدہ بریفنگ نظر نہیں آئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔