سپریم کورٹ کا منرل واٹر کمپنیوں کے پانی کے معائنے کا حکم

ویب ڈیسک  اتوار 16 ستمبر 2018
چیف جسٹس نے ایک منرل واٹر کمپنی کے فرانزک آڈٹ کی بھی ہدایت کی فوٹو:فائل

چیف جسٹس نے ایک منرل واٹر کمپنی کے فرانزک آڈٹ کی بھی ہدایت کی فوٹو:فائل

 لاہور: سپریم کورٹ نے منرل واٹر کمپنیوں کے پانی کے معائنے کا حکم دیتے ہوئے ایک کمپنی کے فرانزک آڈٹ کی بھی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں منرل واٹر فروخت کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس نہ دینے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے نیسلے کا 15 روز میں فرانزک آڈٹ کروانے کا حکم دے دیا۔ نیسلے کے وکیل اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ فرانزک آڈٹ ہماری رپورٹ آنے کے بعد کیاجائے تاہم عدالت نے اعتزاز احسن کی استدعا مسترد کردی۔

دیگر کمپنیوں نے آڈٹ کے لیے ایک ماہ کی مہلت دینے کی استدعا کی جو عدالت نے مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے بڑی منرل واٹر کمپنیوں کے پانی کے نمونے چیک کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ دیکھا جائے گا کہ کمپنیوں کو حکومت کو پانی کی کتنی ادائیگی کرنی چاہئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 20 سال سے کمپنیاں صرف منافع ہی کما رہی ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جو قوم نے ہمیں دیا اسے لوٹانا ہے لوگوں میں احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اب ہمیں پوچھا جا سکتا ہے، اس کیس کے بعد کمپنیاں مناسب قیمت ادا کریں گی اور ریٹ بھی مناسب رکھیں گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب بڑی بڑی سوسائٹیز کا نمبر آنا ہے جو ٹیوب ویل لگا کر رہائشیوں سے پوری قیمت وصول کرتی ہیں، مگر حکومت کو ایک پیسہ نہیں دیتیں، آئندہ ہفتے سوسائٹیز میں پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت شروع کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنیوں نے اربوں روپے کا منافع کمایا لیکن ملکی خزانے میں انتہائی معمولی رقم جمع کروائی، ایک لٹر پانی پچاس روپے کا بیچا جارہا ہے اور خزانے میں ایک پیسے کا آٹھواں حصہ دیا جارہا ہے، نیسلے نے ایک سال میں پانی فروخت کرکے 6 ارب روپے منافع کمایا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری ضرور کریں لیکن ملکی قوانین کی پابندی ان کو بھی کرنی ہوگی، جو سہولیات ملٹی نیشنل کو ملیں گی وہی سہولیات مقامی سرمایہ کاروں کو بھی ملیں گی، قدرتی پانی کے استعمال پر ہر کمپنی کو ٹیکس دینا پڑے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔