اجمل بیگ کے جسم کی نصف سے زائد ہڈیاں توڑی گئیں، بہن

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 1 جون 2013
مرنے سے قبل بھائی نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے کرنٹ لگایا، گاڑی سے گھسیٹا فوٹو: ایکسپریس

مرنے سے قبل بھائی نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے کرنٹ لگایا، گاڑی سے گھسیٹا فوٹو: ایکسپریس

کراچی: متحدہ قومی مومنٹ کے لاپتہ کارکنان کی بازیابی اور ماورائے آئین کارکنان کے قتل کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں ایم کیوایم کے کارکن اجمل بیگ کی بہنوں نے بھی شرکت کی۔

جنھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس کے بھائی کو جب اسپتال لایاگیا تووہ قریب المرگ تھا اور اس کا کہنا تھاکہ اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بدترین تشد د کا نشانہ بنایا اور کرنٹ لگانے کے علاوہ برہنہ کرکے گاڑی سے باندھ کر گھسیٹا گیا۔ اجمل بیگ کی بہن کے مطابق اس کے بھائی کے جسم کی آدھی سے زیادہ ہڈیا ں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اپنے بھائی پر ہونے و الے ظلم کی داستان سناتے ہوئے وہ جذبات پر قابونہ رکھ سکی اور بے ہوش ہوگئی۔

اجمل کی چھوٹی بہن نے بھی زارو قطار روتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹوایکشن لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کا بھائی تو اب واپس نہیں آسکتا مگر وہ آواز اٹھا کر اجمل جیسے اپنے کئی بھائیوں کو بچانا چاہتی ہے، اس موقع پر اس نے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے بھائی کے بعد خود بھی الطاف حسین پر قربان ہونے کو تیار ہے مگر دنیا جان لے کہ الطاف حسین سے محبت کرنے والے کبھی نہ جھکے ہیں اور نہ جھکیں گے اپنے بھائی کے بعد اب ایم کیوایم کی کارکن بن کر ملک و قوم کی خدمت کروں گی۔ اس موقع پرایم کیوایم کے ان10 سے زائد کارکنا ن جن کو ماورائے آئین قتل کردیا گیاکے اہل خانہ کے علاوہ لاپتہ12کارکنان کے اہلخانہ بھی شریک تھے اور عدلیہ سے ان واقعات پر سوموٹو ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے رہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔