رواں ماہ بجلی کی صورتحال میں بہتری آئیگی،سپریم کورٹ میں جواب

نمائندہ ایکسپریس  اتوار 2 جون 2013
عدالت عظمیٰ کابجلی کی منصفانہ تقسیم کاحکم تمام تقسیم کارکمپنیوں کو پہنچادیا گیا فوٹو: فائل

عدالت عظمیٰ کابجلی کی منصفانہ تقسیم کاحکم تمام تقسیم کارکمپنیوں کو پہنچادیا گیا فوٹو: فائل

اسلام آباد: بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان نے بجلی کی تقسیم سے متعلق سپریم کورٹ میں مشترکہ بیان جمع کرادیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گرشتہ دس دنوں21مئی سے30مئی 2013ء کے دوران بجلی پیداوار4676 میگا واٹ سے بڑھ کر5099 میگا واٹ ہوگئی ہے۔

جون، جولائی اور اگست میں بجلی کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی جب ہائیڈل اسٹیشن اپنی پوری گنجائش 6733 میگاواٹ پرکام کر رہے ہوں گے۔ بجلی کی کل پیداوار تقریباً 12500 میگاواٹ ہے، بجلی پیداوار برقراررکھنے کیلیے پاورپلانٹس کو فرنس آئل اورگیس کی سپلائی کو یقینی بنایا جارہا ہے اورپاور پلانٹس میں ٹرپنگ کی وجہ سے طویل دورانیہ کی لازمی لوڈشیڈنگ پر تقریباً قابو پا لیا گیا ہے۔مشترکہ بیان میںکہا گیاہے کہواپڈا ہائیڈرو پاور اسٹیشن سے بھی بجلی پیداوار میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم میں پانی کے بہائو میں اضافہ ہے اور مزید یہ کہ تربیلا اور منگلا کے ذخائر سے ارسا کی مقررکردہ مقدار میںکافی اضافہ ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں31 مئی کو  وزیر پانی و بجلی کی سربراہی میں بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے سربراہان کی ویڈیوکانفرنس منعقد ہوئی۔تقسیم کارکمپنیوں کے سربراہان کو عدالتِ عظمیٰ کا حکم بحوالہ ’’گھریلو اور صنعتی صارفین میں بجلی کی منصفانہ تقسیم‘‘ پہنچایا گیااور انہیں سختی سے حکم دیا گیا کہ وہ اس حکم پر صاف ، واضح اور انصاف سے مکمل طور پر عملدرآمدکرائیں، یہ بھی کہا گیا کہ صارف کے مرتبہ کو بالائے طاق رکھ کر بجلی فراہمی کے نظام کی مکمل نگرانی کی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔