بلوچستان کی قسمت کا فیصلہ

ایڈیٹوریل  منگل 4 جون 2013
بلوچستان کی نئی تبدیل شدہ سیاسی صورتحال میں امید افزا امکانات کے نئے در کھلنے والے ہیں

بلوچستان کی نئی تبدیل شدہ سیاسی صورتحال میں امید افزا امکانات کے نئے در کھلنے والے ہیں

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور نامزد وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا ہے جب کہ گورنر بلوچستان پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہوگا۔ اس امر کا اعلان میاں محمد نواز شریف نے گورنمنٹ ہائوس مری میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ یہ اقتدار نہیں بلکہ اقدار کی فتح ہے جس کا آج عملی نمونہ پیش کیا ہے،انھوں نے کہا کہ جمہوریت کی یہ خوبصورتی ہے کہ وہ سب کو جمع کرتی ہے اور آج ہم سب ایک جگہ جمع ہیں۔ اس موقع پر بلوچستان کے نامزد وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور مسخ شدہ لاشوں کو روکنا میری اولین ترجیح ہوگی۔

ہم صوبے میں وہ حالات پیدا کریں کہ سب ناراض لوگ اور قوم پرست جماعتیں مذاکرات کی میز پر آجائیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا سردار عطاء اللہ مینگل، اختر مینگل اور بی این پی کے کارکنوں کی بلوچستان میں بڑی جدوجہد ہے، میں ان سے اپیل کروں گا کہ آئیں اور مل کر مجموعی مفادات کے مد نظر صوبہ کے سلگتے ہوئے مسائل حل کریں۔ بلوچستان کی دسویں منتخب اسمبلی میں نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ15ویں قائد ایوان ہوں گے ۔بلوچستان کے گورنر نواب ذوالفقار علی مگسی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر استعفیٰ صدر آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے ۔

بلوچستان کی نئی تبدیل شدہ سیاسی صورتحال میں امید افزا امکانات کے نئے در کھلنے والے ہیں، اس صوبہ کی بدقسمتی کے تہہ در تہہ پہلو ہیں،اسے وفاق یا مضبوط مرکز اور اشرافیہ کے حصار میں یوں ’’دست ِتہہ سنگ‘‘کی حیثیت دی گئی تھی کہ کسی سیاسی و عسکری مسیحا سے اس مریض کی حالت نہ سدھر سکی ۔ بلوچستان کی سیاست کو کوئی بھی مورخ یا سیاسی مفکر داخلی تضادات،قبائلی اثرات و سرداری سسٹم کی مسلسل بازگشت ، وفاق کے مغل اعظم جیسے طرز عمل ، فوجی آپریشنز ،سیاسی کشیدگی، شورش اور آزادی و حقوق کے حصول کی مزاحمتی تحریک ، سماجی روایات اور معدنی و ساحلی دولت و وسائل سے محرومیوں کا ایک طلسم ہوشربا کہہ سکتا ہے ۔عالمی اور داخلی قوتوں نے بھی بلوچستان کے مسئلہ کو کبھی سنجیدگی سے حل کرنے کا نہیں سوچا ۔ عملی طور پر سونے کی چڑیا جیسا بلوچستان اس کے عوام کے لیے سیاسی مردار خوروں کا شکار بن گیا۔

گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں صوبہ اندوہ ناک انسانی مسائل کی نذر ہوتا گیا، نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت ، مسخ شدہ لاشوں اور لاپتا ہونے والے افراد کے مسئلہ نے بلوچستان کومقتل بنادیا۔بدامنی پر سپریم کورٹ کا ضمیر تک افسر شاہی کی بے حسی اور سنگدلی پرچیخ اٹھا۔تاہم اب امید کی جانے لگی ہے کہ حالات بدلیں گے۔ نواز شریف کے لیے ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد کرنا آسان کام نہیں تھا، زمینی حقائق ،حالات کا جبر اور دبائوناقابل بیان تھے ، جب کہ نواب ثناء اللہ زہری نے بڑے ظرف کا مظاہرہ کیا، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے بلوچوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی نامزدگی اور حکومت کے قیام کے لیے جس قربانی اور جذبے کا عملی مظاہرہ کیا ہے اس پر سب بلوچ ان کے شکر گزار ہیں، آج پنجاب کا رویہ بہت ہی مثبت اور جمہوری ہے، پشتون، بلوچ قیادت قیامت تک پاکستان کے ساتھ رہنے کو تیار ہے ۔

نئی حکومت سازی میںمحمود اچکزئی کا کردار بھی لائق تعریف ہے، چنانچہ نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ چھوٹی قومیتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا کام پنجاب اور صرف نواز شریف ہی کر سکتے ہیں، انھوں نے ڈاکٹر عبدالمالک اور بلوچستان کے عوام کو (ن) لیگ اور محمود اچکزئی اور اپنی طرف سے یقین دلایا کہ گزشتہ دس سال سے مسخ شدہ لاشیں ملنے اور لوگوں کے لاپتہ ہو نے کا جو سلسلہ جاری تھا اب ایسا کچھ نہیں ہو گا، بلوچستان کے چند بنیادی مسائل حل کر دیے گئے تو بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ رہے گا۔ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک اور ان کی ٹیم تدبر، دانشمندی اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل کے حل کے سلسلے میں سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے گی۔

حقیقت میں بلوچستان کے پہاڑوں پر موجود سرمچاروں، گوریلا وار میں مصروف اندرون و بیرون ملک مزاحمت کاروں ،دانشوروں اوریورپ ، امریکا، افغانستان و دبئی میں مقیم لیڈروں کو مکالمہ کی دعوت دینا ایک بڑا قدم ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر مالک اس سمت کب قدم بڑھاتے ہیں ۔تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے (ن) لیگ اور اتحادیوں کے فیصلے کو قابل تعریف قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اعلان مری پر شادیانے بجانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، آنے والی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نسلًا بلوچ اور ماہر امراض چشم ڈاکٹر عبدالمالک بلوچستان کی رہنمائی کے حقدار قرار پائے ہیں۔

خود کو نیلسن منڈیلا کے پیرو کارقرار دینے والے ڈاکٹر مالک نے الیکشن میں بلوچستان کی قسمت اسی طرح سے بدلنے کا وعدہ کر رکھا ہے جس طرح افریقی رہنما نے جنوبی افریقہ کے ہم نسل باشندوں کی قسمت بدل کر رکھ دی ۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ صوبہ کی تاریخ میں کیچ سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیراعلیٰ ہیں، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا تعلق ضلع کیچ تربت سے ہے جو سسی کے پنّوں کا دیس ہے ۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے 15جنوری 1958ء کو تربت کے علاقے جوسک میں آنکھ کھولی، پرائمری سے سیکنڈری تک تعلیم گورنمنٹ اسکول تربت میں حاصل کی 1973ء میں میٹرک کیا اور 1975ء میں انٹر کالج تربت سے ایف ایس سی کیا، زمانہ طالب علمی سے ہی سیاسی زندگی کے سفر کا آغاز کیا اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے انتہائی سرگرم اور فعال کارکن رہے، کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، 1982ء میں بولان میڈیکل کالج کوئٹہ سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، کراچی اسپنسر آئی اسپتال سے ڈپلومہ کیا،

بلوچستان نیشنل موومنٹ کے پلیٹ فارم سے 1988ء میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 1990ء تک وزیر صحت کے طور فرائض انجام دیے جب کہ 1990ء سے 1993تک وزیر تعلیم کے عہدے پر بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لیے کوشاں رہے، 2003ء میں بلوچستان نیشنل موومنٹ اور بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کا انضمام ہوا اور نیشنل پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا بلوچ بزرگ قوم پرست رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اس کے مرکزی صدر منتخب ہوئے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا شمار نیشنل پارٹی کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

جو 2006ء میں سینیٹر منتخب ہوئے 2008ء میں نیشنل پارٹی کے انتخابات میں وہ پارٹی کے صدر منتخب ہوئے جب کہ 2012ء میں دوسری بار بھی کامیاب ہوئے حالیہ انتخابات میں کیچ تربت سے وہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک پہلے وزیراعلیٰ ہونگے جن کا سردار گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ۔ڈاکٹر مالک بنیادی طور پر ترقی پسند اور بلوچستان کے خرد افروز سیاسی قبیلے کے رہنمائوں میں شمار ہوتے ہیں،انھیں میر غوث بخش بزنجو سے خاص نسبت ہے،وہ معتدل مکالمہ کے فکری اور مفاہمانہ اسکول سے تعلق رکھتے ہیں ۔اگر اسٹبلشمنٹ نے ’’فیئر پلے‘‘ برقرار رکھا اور اسٹیک ہولڈرز نے اپنا مائنڈ سیٹ ’’بدل‘‘ لیا تو کوئی طاقت بلوچستان میں امن ، ترقی ، مفاہمت،مصالحت اور جمہوری عمل کے نئے دور کے آغاز کو نہیں روک سکے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔