میں یہ الماری نہیں بیچوں گا

وسعت اللہ خان  منگل 4 جون 2013

خلیق و مشفق سادگی پسند و بذلہ سنج امیرِجماعتِ اسلامی سید منور حسن سے میری نیاز مندی تب کی ہے جب چونتیس برس پہلے کراچی یونیورسٹی کے ہاتھ پر تعلیم کی بیعت کی تھی۔میں بھی ان سیکڑوں جوشیلوں میں شامل ہوا کرتا تھا جن کے چہروں پر سبزہِ خط اور بے چین آنکھوں میں سبز انقلاب کے انتظار نے بسیرا کر رکھا تھا۔منور صاحب کبھی کبھار کراچی یونیورسٹی کی مسجد میں تشریف لاتے اور اسلامی جمیعتِ طلبا کے اسٹڈی سرکل سے خطاب کرتے تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ ضیا الحق کا سورج سوا نیزے پر تھا۔افغان جہاد شروع ہوچکا تھا اور مارشل لا حکومت ، سعودی عرب ، امریکا اور ان کی ایجنسیاں اور جماعتِ اسلامی ایک پیچ پر تھے۔افغانستان ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک عسکری تربیتی اکیڈمی بن رہا تھا۔جمعیت کے بچے اس اکیڈمی میں خاموشی سے جاتے اور سینہ پھلاتے ہوئے ببانگ ِ دہل اعتماد کے ساتھ واپس آتے۔ایک ہی خواب تھا کہ بس سوویت یونین کے ناک رگڑنے کی دیر ہے اس کے بعد دنیا میں امن چین ہوجائے گا اور افغانستان میں الحاد کی شکست سے متاثر ہوکر باقی دنیا اسلام کے قلعے کی طرف دوڑ پڑے گی اور چہار دانگِ عالم میں سبز پھریرے لہرا رہے ہوں گے۔

اعتماد کا یہ ٹھکانہ تھا کہ افعانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی مکمل ہوتے ہی جہاد کا اگلا ہدف کشمیر کا محاذ ٹھہرا۔تاکہ بھارتی سامراج سے بھی لگے ہاتھوں نمٹ لیا جائے، اس سے پہلے کہ لڑکوں کا جوش اور توجہ کوئی اور رخ اختیار کرلیں۔

آج اتنے برس بعد جب میں مشرقی پاکستان سے افغانستان اور افغانستان سے کشمیر تک جماعتِ اسلامی کی کامیابیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو البدر ، الشمس ، انصار ، حزبِ المجاہدین ، اسلامی جمیعتِ طلبا دل و دماغ میں یوں گڈ مڈ ہوجاتے ہیں کہ ان کی لئی پکنی شروع ہوجاتی ہے۔لیکن آج بھی جماعتِ اسلامی میں سے کوئی بھی برملا یہ بتانے کو تیار نہیں کہ مشرقی پاکستان ، افغانستان یا کشمیر میں ان کے جو بھی ٹارگٹ تھے وہ کتنے حاصل ہوئے۔کتنوں میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی ، کتنے جزوی کامیاب اور کتنے مکمل ناکام ہوئے۔ جماعت سے کہاں حکمتِ عملی کی غلطیاں ہوئیں اور کہاں اس کا موقف اور حکمتِ عملی درست ثابت ہوئے۔

کیا جماعتِ اسلامی جیسی تنظیم کو اپنی توجہ دعوت و تبلیغ اور فلاحی ، علمی و تحقیقی کاموں کی جانب ہی رکھنی چاہیے یا انتخابی سیاسی عمل کا بھی حصہ رہنا چاہیے ؟ یہ وہ سوال ہے جو انیس سو تریپن میں پنجاب کے سرحدی شہر ماچھی گوٹھ میں جماعت کے سالانہ اجتماع سے لے کر آج تک ایک واضح جواب کا منتظر ہے۔اور اس سوال نے جماعت کو ہمیشہ ایک لاشعوری کنفیوژن کی کیفیت میں رکھا اور اس کیفیت نے اس کے سیاسی ویژن کو اکثر و بیشتر دھندلائے رکھا۔

چنانچہ جماعتِ اسلامی پاکستان کی کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے مقابلے میں سب سے زیادہ اندرونی جمہوریت رکھنے والی پارٹی ہونے کے باوجود کبھی بھی انتخابی نوشتہِ دیوار درست نا پڑھ سکی۔اس نے انفرادی طور پر بھی انتخابی سیاست کرکے دیکھ لی، اتحادوں کے اندر بھی رہ کر دیکھ لیا ، انتخابی بائیکاٹ کا مزہ بھی اٹھایا ، اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بھی بن کے دیکھ لیا ، اسٹیبلشمنٹ سے فاصلہ پیدا کرکے بھی دیکھ لیا لیکن ووٹ کی سیاست کے منہ زور گھوڑے پر جماعتِ اسلامی کبھی سواری نا گانٹھ سکی۔

اگرچہ جماعتِ اسلامی اپنے خمیر میں متوسط شہری طبقے میں جڑیں رکھنی والی مثالی نظم و ضبط کی حامل تنظیم ہے۔اس کے کیڈر میں پڑھے لکھے، سمجھنے بوجھنے والے مخلص لوگ ہمیشہ سے رہے ہیں۔اس کا ووٹ بینک محدود ہونے کے باوجود جماعت سے عمومی طور پر وفادار رہا ہے۔اس نے کیمونسٹ پارٹی کی طرز پر خالص نظریاتی کارکنوں کی ایک پوری کھیپ پیدا کی ہے۔اس نے نیم متوسط اور غریب طبقات کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے جدید سیاسی طریقے اور کرتب بھی آزمائے ہیں۔اس کے کارکنوں نے سیاسی قربانیاں بھی دی ہیں۔مگر کیا وجہ ہے کہ اتنی خوبیاں ہونے کے باوجود جماعت پاپولر ووٹ کی سیاست میں کبھی بھی اپنے طور پر یا دوسروں کی مدد کے باوجود ایک خاص حد سے آگے نا بڑھ پائی۔ کیا ایسا تو نہیں کہ ووٹر کو جماعت کا منشور اور انفرادی اخلاقیات تو شائد بھاتی ہو مگر طرزِ سیاست اور سوچ کی سمت جماعت کی جانب کھچنے سے روکتی ہو۔

ایسا کیوں ہے کہ ایک جماعتِ اسلامی ایوبی آمریت کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دے رہی تھی اور ایک جماعتِ اسلامی انیس سو ستر کے جمہوری انتخابات میں حصہ لینے کے باوجود عوامی لیگ کے مینڈیٹ کے خلاف مارشل لائی حکومت کی کارروائیوں کی قدمے سخنے حامی بھی نظر آتی ہے۔اور اس کارِ خیر میں سوشلسٹ ذوالفقار علی بھٹو ، متشرع جماعتِ اسلامی اور شرابی یحیی خان ایک ہی پیج پر ہیں۔

ایک جماعتِ اسلامی سن تہتر کے آئین پر دستخط کرتی ہے اور آئین میں شریعت کی بالادستی کی دفعات شامل کرنے پر بھٹو کو خراجِ تحسین بھی پیش کرتی ہے اور دوسری جماعتِ اسلامی اسی آئین کو لپیٹ کر مارشل لا لگانے والے فوجی جرنیلوں کی بھی ہم پیالہ و ہم نوالہ نظر آتی ہے۔وہ شرابی یحیی خان کے بھی ساتھ ہے اور وہ کلین شیو متقی ضیا الحق کے بھی ساتھ ہے۔وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے پارلیمانی انتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہے اور ان انتخابات کے نتائج ہائی جیک اور ری ڈیزائن کرنے والے انٹیلی جنیس افسروں کو بھی برا نہیں سمجھتی۔ تو کیا دھاندلی صرف ستتر کے انتخابات میں ہی ہوئی تھی۔سن اٹھاسی اور نوے کے انتخابات کے نتائج دھاندلی نہیں تھے۔

ایک جماعتِ اسلامی ستانوے کے انتخابات کا اس بنیاد پر بائیکاٹ کردیتی ہے کہ جب تک احتساب نہیں ہوتا انتخابی عمل بے معنی ہے۔اور ایک جماعتِ اسلامی فوجی حکومت کے سائے میں دو ہزار دو کے انتخابات میں متحدہ مجلسِ عمل کی آب پاروی چھتری تلے انتخابی عمل کو حلال جانتی ہے اور پھر وہی جماعتِ اسلامی دو ہزار آٹھ کے انتخابات کا اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے یہ کہہ کر بائیکاٹ کردیتی ہے کہ ایک فوجی ڈکٹیٹر کے تحت ہونے والا انتخابی عمل حلال نہیں۔

ایک جماعتِ اسلامی جتنا عرصہ صوبہ سرحد ( اسوقت خیبر پختون خواہ نہیں تھا ) میں ایم ایم اے کی حکومت کا حصہ رہتی ہے اس پورے پانچ برس میں اسے گو امریکا گو یاد نہیں آتا۔نا ہی آسمان میں منڈلاتے ڈرونوں کی بھن بھن سنائی دیتی ہے۔مگر حکومت ختم ہوتے ہی ناٹو کی سپلائی اور گو امریکا گو اور ڈرون حملے قومی غیرت کے قاتل قرار پاتے ہیں۔جب کہ خودکش حملوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت اور اقلیتوں پر مسلسل حملے اس لیے قابلِ مذمت نہیں کیونکہ یہ ہلاکتیں اور حملے افغانستان میں امریکی موجودگی سے جڑے ہیں۔گویا جیسے ہی امریکا افغانستان سے نکلے گا پورے خطے کو امن و سکون کی بادِ نسیم اپنی بانہوں میں ویسے ہی لے لے گی جیسے سوویت یونین کے افغانستان سے نکلتے ہی پورا خطہ بدامنی اور بین المسلمین نفرتوں کے وائرس سے پاک ہوگیا تھا۔

ہاں تو بات ہورہی تھی جماعتِ اسلامی کی انتخابی سیاست کی۔سن ستر میں عوامی لیگ نے ایک سو ستر ، جماعتِ اسلامی نے ایک سو اکیاون اور پیپلز پارٹی نے ایک سو بیس امیدوار کھڑے کیے۔یوں امیدواروں کی تعداد کے لحاظ سے جماعتِ اسلامی متحدہ پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی تھی۔یومِ شوکت اسلام کے جلوس اتنے بڑے بڑے نکلے تھے کہ عمران خان کا سونامی ان کے حجم اور طوالت کے آگے کچھ بھی نہیں۔مگر ہوا کیا ؟ متحدہ پاکستان میں یہاں سے وہاں تک بس چار سیٹیں۔

تئیس برس بعد جماعتِ اسلامی نے نام بدل کر پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے انیس سو ترانوے کے انتخابات میں اپنی طاقت چیک کرنے کا دوبارہ فیصلہ کیا۔پورے ملک میں ایک سو دو امیدوار کھڑے کیے۔ نوجوانوں کو اپنی جانب کھینچنے کے لیے پاسبان اور شبابِ ملی کے ذریعے موسیقی اور لیزر لائٹننگ کا سہارا لیا گیا۔نتیجہ تین سیٹوں کی شکل میں برآمد ہوا۔

گیارہ مئی کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پہلے تو تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ نواز سے انتخابی اتحاد کی کوششیں کی گئیں۔لیکن اپنا بھاؤ اتنا چڑھا دیا گیا کہ کسی نے بھی اتنا مہنگا مال اٹھانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔مگر امیرِ جماعتِ اسلامی یہی کہتے رہے کہ مرکز میں کوئی بھی جیتے جماعت کے تعاون کے بغیر حکومت نہیں بنا سکے گا۔بلاخر ایک بار پھر مہم جوئی کا شوق چرایا اور سابقہ تجربات کو بھلاتے ہوئے جماعتِ اسلامی نے سن ستر کے تینتالیس برس بعد اپنے ہی نام اور ترازو کے نشان کے ساتھ یخ پانی میں چھلانگ لگا دی اور جب باہر نکلی تو مٹھی میں حسبِ معمول بس تین سیٹیں تھیں۔

اور پھر یہ خبر آئی کہ امیرِ جماعتِ اسلامی نے انتخابی شکست کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مجلسِ شوریٰ کو اپنا استعفیٰ دینے کی پیش کش کی ہے۔میں واقعی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ شکست کسے کہتے ہیں۔مسلم لیگ ق تو یہ کہتی ہوئی اچھی لگتی ہے کہ ہم نے پچھلے الیکشن میں ساٹھ سیٹیں لیں اور اس بار صرف ایک نشست ملی لہذا ہمیں شکست ہوگئی۔مگر جماعتِ اسلامی کو کیسے اور کہاں اور کب شکست ہو گئی ؟

امیرِ جماعتِ اسلامی کہتے ہیں کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کروا کے ہروایا ہے۔اور کئی جماعتوں کو ان کی مقبولیت کے تناسب سے زیادہ نشستیں دلوائی گئیں۔ فرض کریں ایسا ہوا بھی تو یہ شکوہ بھی چوہدری شجاعت کو ہونا چاہیے۔دھاندلی سے بھلا جماعتِ اسلامی کے تینتالیس سالہ انتخابی گراف پر کیا فرق پڑا۔ تو کیا اسے اس دفعہ چار سیٹوں کی امید تھی اور دھاندلی کے سبب صرف تین ملیں یا پھر اس بار ڈیڑھ سو سیٹوں کا یقین تھا اور صرف تین ملیں ؟ آخر جماعت کب اس پر غور کرے گی کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن والی جماعتیں اتنی نشستیں کیسے لے جاتی ہیں جتنی نشستیں جماعتِ اسلامی پچھلے پینسٹھ برس کے تمام انتخابات میں مجموعی طور پر بھی نہیں لے پائی۔کیا ووٹر جماعت کو نہیں سمجھ پایا یا جماعت ووٹر کی نفسیات نہیں پڑھ سکی ؟

ایک سردار جی نے دکاندار سے پوچھا، یہ الماری کتنے کی ہے۔دکاندار نے کہا، سردار جی میں یہ آپ کو نہیں بیچوں گا۔اگلے دن سردار جی برقعہ اوڑھ کر آئے اور آواز بدل کر پوچھا کہ یہ الماری کتنے کی ہے۔دکاندار نے کہا کہ سردار جی آپ کو کل بھی بتایا تھا کہ میں آپ کو یہ نہیں بیچوں گا۔تیسرے دن سردار جی کلین شیو ہو کر خوب میک اپ کرکے زنانہ لباس میں آئے اور دکاندار سے پوچھا، یہ الماری کتنے کی ہے۔دکاندار نے تنک کر کہا کہ یار سردار جی آپ تین دن سے آرہے ہو مگر آپ کو کیوں نہیں سمجھ میں آرہا کہ میں آپ کو یہ نہیں بیچوں گا۔سردار جی نے کہا کہ اچھا مت بیچو مگر یہ تو بتاؤ کہ تم نے مجھے ہر دفعہ پہچانا کیسے ؟ دکاندار نے کہا کہ آپ تین دن سے اس فریج کو مسلسل الماری کہہ رہے ہیں۔

(میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس لطیفے کا جماعتِ اسلامی کی انتخابی سیاست کے انداز سے کوئی تعلق نہیں۔)
( وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.comپر کلک کیجیے )

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔