دوستی کا لازوال رشتہ

ایم جے گوہر  منگل 4 جون 2013

پاکستان اور چین کے درمیان مثالی اوردوستانہ تعلقات اعتمادکے ایسے بندھن میں جڑے ہوئے ہیں کہ زمانے کے موسموں کی گرمی وسختی بھی پاک چین مراسم کو کوئی گزند نہ پہنچاسکی۔ پاک چین دوستی کو اگر ہمالیہ کی بلندی اورسمندر کی گہرائیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے تو اس کی ٹھوس وجوہ بھی موجود ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان ابتدائی سفارتی تعلقات تو1950کی دہائی میں قائم ہوگئے تھے۔

تاہم بھٹو صاحب کے دور حکومت میں پاک چین دوستی کا رشتہ نئے سرے سے استوار ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا اور اس وقت سے دونوں ممالک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے چلے آرہے ہیں، بالخصوص اقتصادی وعسکری شعبے میں چین پاکستان کوہر ممکن مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ نہ حکومتی سطح پر بلکہ عوامی وسماجی رابطوں کے حوالے سے بھی دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے دلی محبت اور لگائو رکھتے ہیں اور متعدد شعبہ جات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون واشتراک عمل کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔

پاکستان اور چین میں کوئی بھی حکومت اور جماعت برسر اقتدارہو دونوں ملکوں کے تعلقات میں کبھی دراڑیں نہیں پڑیں۔ اخلاص، یقین اوراعتماد پیدا ہوتا چلا گیا۔ اکثر علاقائی،عالمی معاملات اور مسائل کے حوالے سے پاکستان اورچین کے موقف میں بالعموم یکسانیت اورایک دوسرے کے موقف کی تائیدوحمایت سے اس امر کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور سربراہان سفارتی محاذ پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعہ کشمیر پر چین نے پاکستانی موقف کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ چین کے سرحدی تنازعے پر پاکستان نے چین کے موقف سے صرف نظر نہیں کیا۔

چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاک چین دوستی کے حوالے سے نہایت خوبصورت بات کہی۔ انھوںنے فرمایا کہ پاک چین دوستی سونے سے زیادہ قیمتی اور چٹان سے بھی زیادہ مضبوط ہے اور عالمی حالات خواہ کچھ بھی ہوں پاک چین دوستی پائیدار رہے گی۔ انھوں نے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ہر آزمائش میں پورا اترنے والا بہترین دوست ملک ہے اور چین میں آنے والی قدرتی آفات سمیت بعض مشکل مراحل میں پاکستان نے جس طرح چین کی مدد اور رعایت کی چینی قوم اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ وزیراعظم لی کی چیانگ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان پوری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کررہاہے۔

چینی وزیراعظم نے اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے چین سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کی مدد کرے گا اور معاشی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے اور اسٹرٹیجک تعلقات کو جاری رکھیں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے 12معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔ جس سے پاکستان اور چین کی قیادت کو مزید قریب آنے کا موقع ملے گا۔ چینی وزیراعظم نے صدر آصف علی زرداری، نامزد وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری حکام اور سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں اور علاقائی وعالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں تبادلہ خیال کیا۔

یہ محض اتفاق ہے کہ پاکستان اور چین میں محض تین ماہ کے وقفے سے قیادت کی تبدیلی کا عمل وقوع پذیر ہورہا ہے، لی کی چیانگ نے امسال مارچ میں چین کے وزیراعظم کا منصب سنبھالا جب کہ میاں نواز شریف جون کے اوائل میں وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے جارہے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں صدر آصف علی زرداری نے چین کے9دورے کیے اور پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم اور خوشگوار بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر واقع گوادر کا انتظام سنگاپور اتھارٹی سے لے کر چین کی ایک معروف کمپنی چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ لمیٹڈ کے حوالے کیاگیا، جس سے دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات میں ایک اور باب کا اضافہ ہوا۔

صدر آصف علی زرداری نے گوادر پورٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ اس تازہ معاہدے کی بدولت پاک چین تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور گوادر خطے میں تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ معاشی روابط قائم ہونے کی راہ ہموار ہوگی، جس سے نہ صرف ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا بلکہ بلوچستان کے لوگوں پر بھی روزگار کے دروازے کھل جائیں گے۔

صدر آصف علی زرداری تو ستمبر کے وسط میں اپنے منصب سے سبکدوش ہوجائیں گے، ملک میں میاں نواز شریف کی حکومت ہوگی، اب یہ میاں صاحب کی پالیسی ہو گی کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کن خطوط پر استوار کرتے ہیں، بالخصوص پاک چین تعلقات کو بہتر بنانے اور گوادر پورٹ منصوبے کو ملک کی معاشی ترقی میں تیز رفتار اضافے کے حوالے سے کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔

اپنے سابقہ دور حکومت میں میاں صاحب نے دنیا کے دیگر ممالک سے پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی خاص طور پر بھارت اور امریکا کے ساتھ انھوں نے تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ دی تاکہ خطے میں ترقی کا دور شروع ہو سکے۔ امریکا کی بھی شدید خواہش تھی کہ پاک بھارت قربت کا فائدہ اٹھاکر سوویت یونین کی شکست کے بعد تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت چین کے حوالے سے اپنے مفادات حاصل کرے۔ اب بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کے تناظر میں میاں صاحب پاک چین دوستی کے لازوال رشتے کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔چین اور پاکستان کی قربت دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔