الیکشن میں ریاستی ادارے غیر جانبدار رہتے تو نتائج مختلف ہوتے، سراج الحق

شاہد حمید  اتوار 23 ستمبر 2018
پی ٹی آئی سے حکومتی اتحاد تھا نظریاتی ہم آہنگی نہیں، امیر جماعت اسلامی کا ’’ایکسپریس‘‘ کو خصوصی انٹرویو۔ فوٹو: فائل

پی ٹی آئی سے حکومتی اتحاد تھا نظریاتی ہم آہنگی نہیں، امیر جماعت اسلامی کا ’’ایکسپریس‘‘ کو خصوصی انٹرویو۔ فوٹو: فائل

پشاور: امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ 25 جولائی کے انتخابات میں اگر ریاستی ادارے غیرجانبدار رہتے تو نتائج مختلف ہوتے تاہم ریاستی ادارے غیر جانبدار نہ رہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ عام انتخابات میں جوکچھ ہوا اس کی تحقیقات کیلیے فوری طورپرتحقیقاتی کمیشن قائم کیاجائے۔

سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے انتخابی بائیکاٹ کی سیاست ترک کر دی کیونکہ اس سیاست نے ہمیں کافی نقصان پہنچایا، ایم ایم اے کی ناکامی کی وجہ تاخیر سے اس کی بحالی، ٹکٹوںکی تقسیم میں تاخیر اور ایم ایم اے کی جانب سے خود کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کا متبادل بنا کر پیش نہ کرنا ہے، ہم ایم ایم اے کاحصہ تو ہیں تاہم اپنی الگ شناخت بھی بحال رکھیں گے اوربلدیاتی انتخابات اپنے طورپرلڑیںگے،100روزہ حکومتی پلان پر کوئی پیشن گوئی نہیں کرناچاہتاتاہم جوکچھ کہاگیااس پرعمل مشکل لگتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاناما لیکس سمیت این آراوزسے سے مستفید ہونیوالوں کابھی محاسبہ کیا جائے، میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی ملک کسی سزایافتہ شخص کوبچانے کیلیے اربوں ڈالر دے گا، نوازشریف کی رہائی نیب کیس میں سقم کی وجہ سے ہوئی، تحریک انصاف کے ساتھ حکومتی اتحادتھا تاہم نظریاتی ہم آہنگی نہیں اورنہ ہی پی ٹی آئی نے الیکشن اتحادکیلیے کبھی کہا۔

ایکسپریس کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ ہم توشروع ہی سے دیکھ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ انتخابات میں من پسند نتائج کے حصول کیلیے کوشاںرہی اوروہی کچھ آج بھی ہورہاہے یہ روش اورسلسلہ بند نہیں ہو۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔