بسوں کی جگہ چنگ چی اور6 سیٹ والے رکشوں نے لے لی

اسٹاف رپورٹر  منگل 4 جون 2013
 ٹوٹی پھوٹی بسوں وزائدکرایوں کے باعث شہریوں نے رکشوں کوترجیح دی،ابرار حسین. فوٹو آن لائن

ٹوٹی پھوٹی بسوں وزائدکرایوں کے باعث شہریوں نے رکشوں کوترجیح دی،ابرار حسین. فوٹو آن لائن

کراچی:  کراچی میں اب بڑی بسوں ، منی بسوں اور کوچزکی جگہ چنگ چی اور 6سے 11سیٹ والے سی این جی رکشوں نے لے لی ہے ۔

شہر کے تمام علاقوں میں بڑی بڑی شاہراہوں پر چنگ چی رکشا اوربڑی سیٹ والے سی این جی رکشے چل رہے ہیں اور ان رکشا مالکان نے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر اپنے اسٹاپ قائم کردیے ہیں جس کی وجہ سے عام شاہراہوں پر ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے ،کراچی میں اس وقت سڑکوں پرایک لاکھ 76ہزار رکشا اور ٹیکسی چل رہی ہیں جن میں چنگ چی رکشوں کی تعداد 23500 ، 6سے 11سیٹ والے رکشوں کی تعداد 1500 ، 2اسٹروک رکشوں کی تعداد 45000 اور 4 اسٹروک رکشوں کی تعداد 80000جبکہ ٹیکسیوں کی تعداد26000 ہے۔

آل کراچی چنگ چی اور 6سیٹر سی این جی رکشا ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما ابرار حسین کے مطابق کراچی میں بڑی بسوں ،منی بسوں اور کوچز کی کم تعداد اور ان میں ناقص سہولت کی وجہ سے عوام میں اب چنگ چی رکشا اور 6سے 11سیٹ والا رکشا مقبول ہوگیا ہے ،انھوں نے کہا کہ کراچی میں چنگ چی رکشا کا آغاز سن 2000 میں سندھی ہوٹل لیاقت آباد سے پرانی سبزی منڈی کے درمیان ہوا اور اس وقت اس روٹ پر صرف 8رکشے چلتے تھے جن کی تعداد اب بڑھ کر 23500سے تجاوز کرگئی ہے ،انھوں نے کہا کہ ان رکشوں کا کرایہ بھی کم ہے اور شہر کے 60مقامات پر چنگ چی رکشوں کے اسٹاپ قائم ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تقریباً 50000سے زائد افراد اس کاروبار سے منسلک ہیں ،ایک چنگ چی رکشہ 80سے 85ہزار روپے میں تیارہوجاتا ہے ،انھوں نے کہا کہ اس کاروبار میں اب پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں اورتقریباً 2ارب روپے کی اس شعبہ میں سرمایہ کاری کی جاچکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر حکومت ان چنگ چی رکشوں کو پرمٹ جاری کردے تو ٹیکس کی مد میں کروڑوںروپے کی آمدنی حکومت کو حاصل ہوگی ،آل کراچی رکشہ ٹیکسی یلوکیب اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حافظ الحق حسن زئی نے ایکسپریس کو بتایا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے رکشہ اور ٹیکسی کا کاروبار تباہ ہوگیا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔