دعووں پر عمل کیسے ہو، حکومت شدید تنقید کی زد میں

ارشاد انصاری  بدھ 26 ستمبر 2018
حکومت کو درپیش داخلی چیلنجز کے ساتھ ساتھ خارجی چیلنجز نے بھی سراٹھانا شروع کردیا ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت کو درپیش داخلی چیلنجز کے ساتھ ساتھ خارجی چیلنجز نے بھی سراٹھانا شروع کردیا ہے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لیکر آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کواپنی اوائل عمری میں ہی شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اس مختصر عرصے میں حکومت گورننس میں بہتری لانے سمیت دیگر بہت سے اہم اقدامات بھی متعارف کروائے ہیں جو یقیناً آگے چل کر نظام کو بہتر اور طاقت فراہم کریں البتہ جہاں تک تنقید کا معاملہ ہے تو اسکا سہرا بھی تحریک انصاف کے سر جاتا ہے جس نے ستر سال سے سوئی ہوئی عوام کو جگایا ہے اور اب باری حکمرانوں کے جاگنے کی ہے اور یہ ستر سال بعد جاگنے والی جماعت حکمرانوں کو چین کی نیند سونے نہیں دے گی اور انہیں عوام سے کئے ہوئے وعدے یاد دلا رہی ہے اور آئندہ بھی یاد دلاتی رہے گی۔

شائد یہی وجہ ہے کہ حکومت پر جو تنقید ہو رہی ہے ان میں سب سے زیادہ تنقید پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے پہلے کئے جانیوالے بلند و بانگ مقبول عوامی دعووں کے برعکس کئے جانیوالے اقدامات پر ہو رہی ہے کیونکہ وزیراعظم ہاوس میں نہ رہنے کا اعلان ہو یا پروٹوکول نہ لینے کا اعلان ہو یا میرٹ پر وزراء کی تعیناتی کے دعوے ہوں یا عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کیلئے بطور اپوزیشن بڑے بڑے سیاسی اجتماعات میں اس قسم کے دوسرے بلند و بانگ دعوے ہوں وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور ان کی غیرحقیقت پسندانہ سیاسی نعروں کی صورت اس تنقید کا سامان خود پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے فراہم کر رکھا ہے جو عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کیلئے لچھا دار و جذباتی تقاریر و ٹاک شوز کی صورت کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہیں اورالیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے جہاں تحریک انصاف کی قیادت کے حکومت میں آنے کے بعد کئے جانیوالے اقدامات اور باتوں کو قیادت کے پرانے دعووں کے ویڈیوکلپس کے ساتھ موازنہ کیلئے پیش کیا جا رہا ہے اور تحریک انصاف کی قیادت و موجودہ حکومت کے ساتھ کچھ نیا نہیں ہو رہا ہے، یہ سب ان کے پیش رو حکمرانوں و برسر اقتدار سیاسی جماعتوں کے سربراہاں و رہنماوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔

یہی نہیں خود تحریک انصاف کا سوشل میڈیا ونگ  اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت و انکے دعوں و کاموں سے متعلق کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ویڈیو کلپس کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں اور یہ مکافات عمل ہے کہ آج خود تحریک انصاف کو اسی عمل سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے اور پارلیمانی ،عوامی، سیاسی و سفارتی حلقوں میں تحریک انصاف حکومت کے ایک ماہ اور چند دن کے دوران کئے جانیوالے فیصلے زیربحث ہیں۔

ان میں سب سے زیادہ تنقید حکومت کی جانب سے پیش کردہ 182ارب روپے کے ٹیکسوں پر مبنی منی بجٹ اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ پر ہو رہی ہے اور بعض حلقوں کی جانب سے اس منی بجٹ کوحکومت کا احسن اقدام تو بعض مجبوری قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اقتصادی ماہرین کی جانب سے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے اور منی بجٹ کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایک نئے پروگرام لینے کے پیشگی اقدامات سے عبارت کیا جا رہا ہے اور انکاخیال ہے کہ پاکستان کی عوام اب اس قسم کے شاکس اور آفٹر شاکس کو برداشت کرنے کی عادی ہوچکی ہے۔

ابھی جو مہنگائی کی لہر آرہی ہے یہ محض پیشگی وارننگ ہے اصل سونامی تو ابھی آنا باقی ہے اور پاکستانی حکام سے بات چیت کیلئے کل (جمعرات)آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان پہنچ رہا ہے جس میں آئی ایم ایف سے مذاکرات ہونگے اور اس کے بعد کچھ سامنے آئے گا کہ کیا پاکستان ایک بار پھر اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے پروگرام لینے جا رہا ہے یا متبادل ذرائع اس قدر قابل بھروسہ ہیں کہ رواں مالی سال کیلئے درکار نو سے دس ارب ڈالر کی مالی ضرورت پوری کر سکیں گے۔

حالات بتا رہے ہیں کہ ماضی کی طرح اس بار تحریک انصاف کی حکومت کو بھی آئی ایم ایف یاترا پر جانا پڑے گا اور اسکے سوا کوئی چارہ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے پہلے غیرملکی دورہ سعودی عرب سے بہت سی توقعات وابستہ کی جا رہی تھیں اور کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب دس ارب ڈالر دینے جا رہا تھا یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر اسے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نوازشریف و داماد کیپٹن صفدر کی رہائی کیلئے ڈیل قرار دیا جاتا رہا، پھر وزیراعظم عمران خان کے دورہ کی واپسی پر سعودی عرب کے ساتھ دس ارب ڈالر کے پیکج کی بات سامنے آئی اور سی پیک میں سعودی عرب کی بطور تھرڈ پارٹی شمولیت کی تفصیلات سامنے آئیں مگر اس دورے سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی اور نہ ہی دورے سے واپسی پر کسی وزیر نے کوئی باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے عوام کو تفصیلات بتائیں۔ البتہ وزیر خزانہ اسد عمر کے ایک بیان نے ساری خوش فہمیاں دور کردیں۔

دوسری جانب حکومت کے پیش کردہ منی بجٹ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث جاری ہے ۔ پارلیمنٹ کی جانب سے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بھی اس ترمیمی فنانس بل کا جائزہ لیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ حکومت منی بجٹ پاس کرواکر لاگو کردے گی جس کے بعد اس منی بجٹ کے اثرات نمودار ہونگے اگرچہ اپوزیشن  نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میںحکومت کے اسی منی بجٹ کو مسترد کردیا ہے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنی طویل اور مدلل تقریر میںحکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور تنقید کے خوب نشتر برساتے ہوئے کہا کہ گیس کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کی نیندیں اڑگئی ہیں، اضافہ فوری واپس لیاجائے، ٹیکسوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، حکومت کھوکھلے نعروں کے بجائے ڈیم بنائے۔ البتہ حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ اسد عمر نے بھرپور دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن کی تنقید کا موثر جواب دیا اور واضح کیا کہ غریب پر کوئی بوجھ نہیں بڑھایا گیا ہے صرف امیروں پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا ہے، آزاد معاشی ماہرین کی جانب سے حکومت کے منی بجٹ کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے جس میں زیادہ فوکس ملکی معیشت اور برآمدات کے فروغ کو کیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات سے متعلق بھی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور ان انتخابی تحقیقات کیلئے اپوزیشن کی تجویز پر خصوصی اٹھارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے کام کا نہ صرف باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے ۔

حکومت کو درپیش داخلی چیلنجز کے ساتھ ساتھ خارجی چیلنجز نے بھی سراٹھانا شروع کردیا ہے ، سفارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سفارتی سطح پر خطے میں اور عالمی سطح پر پاکستان کودرپیش چیلنجز کے حل کی کنجی چین کے پاس ہے کیونکہ روسی بھی امریکی مخالفت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور ایرانی بھی ساتھ ہونگے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ ڈوبتی ہوئی اور چین ابھرتی ہوئی سپر پاور اور معیشت ہے اور سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، اس منصوبے کے خلاف تمام اندرونی بیرونی سازشوں کو ناکام بنا کر ملک میں قومی اتحاد اور یکجہتی کیلئے اقدامات کئے جائیں تو شائد مودی یار بن جائے ورنہ چیلنجز شدید ہیں اور خطے میں طاقت کے توازن میں بگاڑ لانے کی عالمی کوششیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔