صوبائی حکومت کی فاٹا بجٹ کنٹرول میں لینے سے معذرت

شاہد حمید  بدھ 26 ستمبر 2018
مذکورہ ضم شدہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی بھی نہیں مل سکی۔ فوٹو: فائل

مذکورہ ضم شدہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی بھی نہیں مل سکی۔ فوٹو: فائل

پشاور: قبائلی علاقہ جات کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس صورت میں مسلم لیگ(ن)کی حکومت اپنے دور میں چھٹا بجٹ پیش کرتے وقت قبائلی علاقہ جات کا بجٹ خیبرپختونخوا کو منتقل کرتی تاہم جب مئی کے مہینے میں بجٹ پیش کیا جا رہا تھا اس وقت سابقہ حکومت فاٹا کو خیبرپختونخوا کاحصہ بنانے کے حوالے سے کلیئر نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ فاٹا کا ترقیاتی اور انتظامی بجٹ مرکز نے اپنے ہاتھوں ہی میں رکھا اور خیبرپختونخوا کو منتقل نہیں کیا۔

حکومت ختم ہونے سے چند روز قبل جب فاٹاکوخیبرپختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق قانونی تقاضے پورے کیے گئے اس وقت مرکزی حکومت کے پاس وقت ہی نہیں تھا کہ وہ فاٹا سے متعلق وسائل کی منتقلی کرتی جس کے باعث یہ کام عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کے ذمے لگ گیا اور اب موجودہ دورمیں خیبرپختونخوا کی حکومت نے ضم شدہ قبائلی علاقہ جات کا بجٹ اپنے ہاتھوں میں لینے سے معذرت کر لی ہے جس کے لیے صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کے بعد ہی وہ ضم شدہ قبائلی علاقوں کا بجٹ اپنے کنٹرول میں لے گی۔

سات قبائلی ایجنسیوں اور ایف آر علاقوں پر مشتمل فاٹا کا وہ علاقہ جو اب خیبرپختونخوا کاحصہ ہے اس کے حوالے سے اس وقت تک کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں بیشتر علاقوں میں تاحال فوج ہی کا کنٹرول ہے کیونکہ وزیرستان کے کئی علاقوں میں اب تک حالات نہیں سنبھلے، مذکورہ ضم شدہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی بھی نہیں مل سکی اور یہ نمائندگی آئندہ سال اپریل، مئی میں وہاں پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے بعد ہی ممکن ہو پائے گی،آئندہ سال قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے لیے 17جنرل نشستوں پر عام انتخابات کے انعقاد کے بعد مذکورہ ضم شدہ علاقوں کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی ملنے سے صوبائی اسمبلی میں21 نشستوں کا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ سترہ جنرل کے ساتھ تین خواتین اور ایک اقلیتی نشست بھی بڑھے گی جس سے ایوان میں بیلنس آف پاور یقینی طور پر متاثر ہوگا اسی لیے یہ بات بھی ساتھ کہی جا رہی ہے کہ آئندہ سال ضم شدہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی ملنے کے باوجود وہاں سے منتخب ارکان کو ایوان میں ووٹنگ کا حق نہیں دیا جائے گا اور یہ حق انھیں لینے کے لیے 2023ء کا انتظار کرنا ہوگا۔

مذکورہ صورت حال کے تناظر میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ گورنرخیبرپختونخوا جومذکورہ ضم شدہ قبائلی علاقہ جات کے لیے چیف ایگزیکٹو ہوا کرتے تھے ان کا اثرورسوخ اور اختیارات بھی کسی نہ کسی صورت آئندہ پانچ سالوں تک برقرار رہیں گے اور پھر جب مرکزی حکومت کی جانب سے ضم شدہ قبائلی علاقوں کے لیے سو ارب روپے کا پیکج دیاجائے گا اس کے بعد یقینی طور پر صوبائی حکومت اور گورنر کے درمیان اس حوالے سے معاملات طے کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ گورنر جو عشروں سے فاٹا کے معاملات کنٹرول کرتے آئے ہیں وہ یوں بیک جنبش قلم اپنے تمام اختیارات سے دستبردار نہیں ہونگے، اگرچہ اس وقت سہولت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور مرکز میں ایک ہی پارٹی تحریک انصاف کی حکومت ہے جس کی وجہ سے گورنرخیبرپختونخوا بھی تحریک انصاف ہی کے ہیں۔

ضم شدہ قبائلی علاقہ جات کے انتظامی اور ترقیاتی بجٹ کو خیبرپختونخوا حکومت ضرور اپنے کنٹرول میں لے گی تاہم اس کے لیے صوبائی حکومت اگلے قومی مالیاتی ایوارڈ کے اجراء کا انتظار کر رہی ہے کیونکہ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ قومی مالیاتی ایوارڈ کے فارمولے کے مطابق صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم کا جو فارمولہ موجود ہے اس کے تحت ہی اب وسائل کی تقسیم ہونی چاہیے جس کے مطابق خیبرپختونخوا کو سندھ سے زیادہ حصہ ملنا چاہیے اور اس کے بعد ہی صوبائی حکومت کی جانب سے ضم شدہ قبائلی علاقوں میں مناسب انداز سے کام کرنے کا موقع ملے گا جب کہ تب تک معاملات فاٹا سیکرٹریٹ کے ذریعے ہی چلائے جائیں گے۔

صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم سے قبل ایک بڑا مرحلہ مرکز اور صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم کا ہوگا کیونکہ مرکز صوبوں کے حصے میں کمی کرتے ہوئے اپنے وسائل میں اضافہ کرنے کاخواہاں ہے جس کے لیے اسے خیبرپختونخوا اور پنجاب کی جانب سے تو مکمل طور پر حمایت مل جائے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بلوچستان بھی قدرے پس وپیش کے بعد مرکز کے لیے اپنا حصہ کم کرنے پر راضی ہو جائے تاہم جہاں تک سندھ کا معاملہ ہے تو سندھ شاید ہی اس کے لیے تیار ہو اور وہ بھی اس صورت میں کہ وہاں سے جی ڈی اے اور ایم کیو ایم ، مرکزی حکومت کی اتحادی ہیںاور سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

مذکورہ صورت حال میں این ایف سی ایوارڈ کے اجراء کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت کو سندھ کے ساتھ معاملات کو بہتر انداز میں اٹھانا ہوگا تاکہ چاروں صوبے نئے این ایف سی ایوارڈ پر دستخط کرنے پر راضی ہو جائیں بصورت دیگر یہ ایوارڈ مزید تاخیر کا شکار ہوجائے گا، این ایف سی ایوارڈ کے لیے خیبرپختونخوا کی حکومت نے بھی تیاری کر رکھی ہے جس کا گزشتہ دور میں موقف تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کو مجموعی قومی وسائل سے جو ایک فیصدحصہ دیاجاتا ہے اسے بڑھا کر تین فیصد کیاجائے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف خیبرپختونخوا کو فرنٹ پر ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے تاہم مرکز اس سے اتفاق نہیں کر رہا تھا۔ اب جبکہ قبائلی علاقہ جات بھی خیبرپختونخوا میں ضم ہو چکے ہیں تو اس صورت میں خیبرپختونخوا یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کیونکہ ضم شدہ قبائلی علاقوں میں بہت سے کام کرنے ہونگے جن کے لیے وسائل کی بھی فراوانی کی ضرورت ہوگی۔

خیبرپختونخوا کی تحریک انصاف حکومت کے لیے فوری طور پردوبڑے چینلجز ہیں جن میں سے پہلا جاری مالی سال کے آٹھ ماہ کے لیے بجٹ پیش کرنا کیونکہ سب کی نظریں اس بجٹ پر ہونگی کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے پہلے بجٹ میں صوبہ کی عوام کو کیا دیتی ہے حالانکہ پی ٹی آئی حکومت مذکورہ آٹھ ماہ کے بجٹ کے حوالے سے کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں نہیں، اگلے مالی سال 2019-20ء کے بجٹ میں وہ اپنے طور پر منصوبہ بندی کرتے ہوئے اپنے پروگرام اور ویژن کے مطابق بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام دے پائے گی تاہم یہ آٹھ ماہ کا بجٹ صوبائی حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتاہے کیونکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی اسی تسلسل میں آئے گا۔

صوبائی حکومت کو دوسرا چیلنج ضمنی انتخابات کے حوالے سے درپیش ہے کیونکہ گیارہ نشستوں پر منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپوزیشن جماعتیں کامیابی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی جس کے لیے اگر تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا نہ بھی ہوئیں تودو،دو پارٹیوں کے اتحاد ضرور بنیں گے کیونکہ تمام ہی اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف کے ساتھ حساب برابر کرنے کی خواہاں ہیں اور دس نشستوں پر ضمنی انتخابات کی صورت میں ان کے ہاتھوں میں سنہری موقع آرہا ہے۔

چیلنج تو بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی صوبہ کو درپیش ہے کیونکہ صرف تین سال قبل تحریک انصاف نے ایک نظام متعارف کراتے ہوئے صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا اور مذکورہ بلدیاتی ادارے آئندہ سال اپنا چار سالہ دورانیہ مکمل کرنے جا رہے ہیں تاہم اب پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت مذکورہ بلدیاتی نظام میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کی خواہاں ہیں جس میں کبھی ضلعی ناظم کا الیکشن براہ راست کرانے کی تجویز سامنے آرہی ہے تو کبھی ضلع کونسل اور ضلع ناظم کا عہدہ ہی ختم کرنے پر بات ہو رہی ہے جس کے تحت سارے اختیارات تحصیلوں اور ویلیج ونیبرہڈ کونسلوں کو منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت تحصیل ناظمین کا عہدہ تحصیل میئر میں تبدیل ہوجائے گا تاہم یہ تمام اب تک تجاویز ہیں اور پنجاب اور دیگر صوبوں کی جانب سے اوکے ہونے پر ہی خبیرپختونخوا کے لیے بھی نئے بلدیاتی نظام کا نقشہ واضح ہوسکے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔