ہر کوئی ہاتھ میں تلوار لیے پھرتا ہے

رئیس فاطمہ  جمعرات 6 جون 2013

آج میں نے ایک اور فون نمبر اپنے موبائل سے Delete کردیا۔ یہ نمبر تھا ایک بے حد خوش اخلاق، ملنسار اور منکسر المزاج انسان اظفر رضوی کا۔ جنھیں جمعے کی شب دہشت گردوں نے انتہائی بے رحمی اور سفاکی سے موت کی نیند سلا دیا۔ جمعے کی رات نو بجے کے خبرنامے میں ایک Ticker نے اچانک اپنی طرف توجہ مبذول کرالی۔ کریم آباد پر فائرنگ کی خبر کے ساتھ ہی جب اظفر رضوی کا نام سامنے آیا تو ’’ناقابل یقین‘‘ والی کیفیت تھی۔ ایک سکتہ تھا جو اندر ہی اندر رگوں میں اتر رہا تھا۔ ذرا سی دیر میں تمام ٹی وی چینلز پر یہ خبر عام تھی اور قریبی جاننے والے ایک دوسرے سے تصدیق کر رہے تھے۔ میں نے بھی شہاب قدوائی، نسیم احمد اور پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد خان کو فون کرکے اطلاع دینی چاہی تو صرف شہاب صاحب سے بات ہوئی۔

تھوڑی دیر بعد جب ڈاکٹر ممتاز سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کے پاس بھی کئی فون آچکے ہیں۔کسی کو جیسے یقین ہی نہ آرہا ہو۔ چند منٹ بعد ہی پروفیسر سحر انصاری نے فون پر مجھ سے تصدیق چاہی کہ کیا انھوں نے جو کچھ سنا ہے وہ صحیح ہے؟ جب میں نے ان کی بات کی تصدیق کی تو وہ انتہائی دکھ سے بولے کہ وہ چونکہ گھر سے باہر ہیں اس لیے خبریں نہیں سن سکے۔ وہ بھی گومگو کے عالم میں تھے، لیکن انھیں جب اطلاع ملی تو یہ تھی کہ اظفر زخمی ہیں۔۔۔۔ذرا سی دیر میں اس اندھے قتل کی بازگشت پورے شہر میں پھیل چکی تھی کہ مرحوم شہر کی نہایت جانی پہچانی اور فعال شخصیت تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کو مارنے والے کون تھے۔

وہ دوستوں کے دوست تو تھے ہی، مخالفین سے بھی کبھی تیز لہجے میں بات نہیں کی۔ پھر انھیں کیوں اور کس لیے مارا گیا؟ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ میری آخری ملاقات ان سے 10 اپریل کو انجمن ترقی اردو کے دفتر گلشن اقبال میں ہوئی تھی۔ جہاں ہم نے کچھ ان کتابوں پر بات کی جو اب نایاب ہیں اور انھیں دوبارہ چھپنا چاہیے۔ وہیں میں نے ایک تجویز انھیں یہ بھی دی تھی کہ وہ بڑے افسانہ نگار جن کی کتابیں اب نایاب ہیں ان کے افسانوں کا ایک ایسا انتخاب شایع کیا جائے جو اب تک کسی بھی انتخاب میں شامل نہ ہوئے ہوں۔ اس سلسلے میں علی عباس حسینی، سلطان حیدر جوش، لطیف الدین احمد، اعظم کریوی، شکیلہ اختر، رفیق حسین، مہندر ناتھ، سرلا دیوی، سلمیٰ صدیقی اور سہیل عظیم آبادی کے نام بھی میں نے تجویز کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ شہاب قدوائی اور ڈاکٹر ممتاز احمد سے مشورہ کرکے مجھے بتائیں گے۔۔۔۔پھر میں اسلام آباد چلی گئی اور واپسی کے بعد بھی کوشش کے باوجود ان سے ملاقات نہ ہوسکی کہ قیامت خیز گرمی گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتی۔۔۔۔اور پھر۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔حکیم محمد سعید کی طرح ایک اور قتل جو سارے شہر کو اداس کرگیا۔ خبر سنتے ہی میری نظروں کے سامنے ان کی بیگم حسینہ رضوی کا چہرہ گھوم گیا۔ وہ بھی اپنے میاں کی طرح حد درجہ ملنسار اور ہنس مکھ۔ خواہ حلیم کی دعوت ہو، یوتھ اسمبلی کا فنکشن ہو یا کوئی ادبی تقریب، ہر جگہ اپنے میاں کے ساتھ ساتھ، فعال نظر آنے والی حسینہ پرکیسی افتاد پڑی کہ میری تو ہمت ہی نہیں ہوئی کہ تعزیت کے لیے وہاں جاؤں۔ جس حسینہ کو میں نے ہمیشہ ہشاش بشاش دیکھا، اس کا غم زدہ چہرہ اور بہتے ہوئے آنسوؤں کو کیونکر دیکھ سکوں گی؟ خدا ایسا غم کسی کو نہ دے۔

اظفر رضوی سے ہماری ملاقات 1999 سے ہے۔ انھوں نے ایک دائرہ ادب و ثقافت قائم کیا تھا جس کے تحت مہینے کی آخری سنیچر کو کسی مشہور ادبی شخصیت کے ساتھ شام منائی جاتی تھی، جمیل الدین عالی ہر تقریب میں موجود ہوتے تھے مختلف ادبی موضوعات پر مختلف لوگ بات کرتے تھے۔ تقریب کے اختتام پر نہایت عمدہ اور لذیذ کھانا مہمانوں کے لیے پیش کیا جاتا۔ دونوں میاں بیوی اور اظفر کے بھائی انصر رضوی مسلسل مہمانوں کا خیال رکھتے کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ حسن انتظام ایسا کہ داد دینے کو جی چاہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ہر پروگرام وقت پر شروع ہوتا اور وقت پر ختم۔ خواہ انجمن ترقی اردو کے تحت کوئی پروگرام ہو یا ان کے ڈھاکا اسکول کے تحت یوتھ اسمبلی کا پروگرام، وہ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ ریڈیو پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہونے والے طلباوطالبات کے پروگرام رات دس بجے تک ہر حال میں ختم ہوجائیں۔

اسی طرح انجمن کے دفتر میں ہونے والے پروگرام صبح ساڑھے دس پر شروع ہوکر باآسانی ساڑھے بارہ ختم ہوجاتے تھے اور ایک بجے تک چائے وغیرہ سے بھی فراغت ہوجاتی تھی۔ تمام تقریبات میں اظفرخود مہمانوں کا خیال رکھتے کہ کسی کو شکایت نہ ہو۔ تکبر سے کوسوں دور، ایک بہترین منتظم، بہترین استاد ، مشفق باپ، ہمدرد شوہر اور دوستوں کے دوست کو موت کی دیوی یوں پل بھر میں لپک کر لے گئی کہ کوئی کچھ نہ کرسکا۔۔۔۔!!۔۔۔۔افسوس۔۔۔۔یہ شہر ہے یا مقتل ہے؟ اظفر رضوی بنگلہ دیش سے کراچی آئے تو نامساعد حالات کا شکار تھے۔ لیکن اس شہر نے ان کا ہاتھ پکڑا اور بہت جلد وہ کراچی کے معتبر لوگوں میں شمار ہونے لگے۔ لیکن اظفر رضوی نے اس شہر کی دوستی اور غمگساری کا حق ادا کردیا۔ انھوں نے جو کچھ کمایا وہ اس شہرکو لوٹایا بھی۔ اظفر رضوی نے اپنی ذاتی محنت اور ایمانداری سے کئی تعلیمی ادارے اور کالج قائم کیے۔

جس میں ہزاروں طلبا وطالبات تعلیم پاتے ہیں، بے شمار اساتذہ وہاں تعلیم دیتے ہیں، وہ اکثر کہتے تھے کہ ۔۔۔۔’’اس شہر کا بڑا احسان ہے مجھ پر‘‘۔۔۔۔میں نے جب بھی سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش پر کوئی کالم لکھا ہمیشہ ان کا فون آتا اور وہ اپنے جذبات شیئر کرتے۔ ایک بار 16 دسمبر کو جب میرا کالم چھپا تو انھوں نے بڑے کرب سے کہا۔۔۔۔خدا نہ کرے کہ ہمیں تیسری ہجرت کرنی پڑے۔ ایک ہجرت ماں باپ نے کی، دوسری ہم نے۔۔۔۔اب اور چارہ نہیں۔۔۔۔افسوس کہ جس طرح بنگالیوں کو دیوار سے لگادیا گیا تھا ویسا ہی کراچی والوں کے ساتھ ہورہا ہے۔ انھیں بھی ایک سازش کے تحت دیوار سے لگایا جارہا ہے‘‘۔

اظفر رضوی نہ صرف آرٹس کونسل کراچی کے خزانچی رہے بلکہ وہ تادم مرگ انجمن ترقی اردو پاکستان کے جوائنٹ سیکریٹری بھی رہے۔ تمام انتظامی امور انھی کے سپرد تھے۔ حسن ظہیر کی اچانک موت نے جو خلاء پیدا کردیا تھا اسے کافی حد تک اظفر رضوی نے پرکردیا تھا۔ قرۃ العین حیدر کے حوالے سے میری کتاب بھی انھی کی بدولت منظر عام پر آئی تھی۔ اسی لیے میں نے اس کتاب کا انتساب بھی حسن ظہیر اور اظفر رضوی کے نام کیا تھا۔۔۔۔خدا جانے انجمن کو اب ان کا نعم البدل مل پائے گا یا نہیں۔۔۔۔جس طرح اظفر رضوی نے جان کی بازی ہاری وہ اس شعر کی تشریح تھی کہ:

گھر سے نکلو تو بڑے دھیان سے چلنا کہ یہاں

ہر کوئی ہاتھ میں تلوار لیے پھرتا ہے

نہ جانے کتنی امیدیں، آرزوئیں اور خواہشیں دل میں لیے انھوں نے اپنے کوچنگ سینٹر سے قدم باہر نکالے ہوں گے اور اگلی سیٹ پر بیٹھ کے دروازہ بند کیا ہوگا کہ گھر پہنچ کر بیوی اور بچوں کے ہمراہ کھانا کھائیں گے۔ حسینہ رضوی کھانے کی میز سجائے انتظار کر رہی ہوں گی، لیکن انھیں کیا پتہ ہوگا کہ آج ان پر آسمان ٹوٹنے والا ہے۔ جس شہر نے برسوں پہلے انھیں اپنی آغوش میں سمیٹا تھا آج وہی شہر ان کے لیے مقتل بن گیا کہ اس بے مثال اور دوست نواز شہر میں اب ہر طرف بارود کی بو ہے۔ کون کس کے نشانے پر ہے کسی کو خبر نہیں۔

اظفر رضوی کی انسان دوستی اور خاکساری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ہمیشہ اگلی سیٹ پر اپنے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے جب کہ عام طور پر لوگ ایسا نہیں کرتے۔۔۔۔اظفر رضوی میرے بھائی! تمہاری الم ناک موت پر پورا شہر اداس ہے۔ تم نے اس شہر کا قرض اسی طرح اتارا کہ ایک مثال بن گئے۔ کاش! دوسرے بھی تمہاری تقلید کریں اور جو شہر ان کو رزق دیتا ہے اس کا حق بھی ادا کریں۔۔۔۔مگر تم جیسا شاید کوئی نہیں ہوسکتا۔ تم ہی سب کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہوگے کہ تم جیسے لوگ مرنے کے بعد امر ہوجاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔