ابا جی، آپ کا مسئلہ کیا ہے؟

شیریں حیدر  اتوار 30 ستمبر 2018
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

’’ ابا جی آپ کا مسئلہ کیا ہے آخر؟ ‘‘ فون اٹھائے جانے اور دوسرے پار سے ہیلو کی آواز سنتے ہی اس نے سوال کیا۔

’’ السلام علیکم پتر اعجاز، کیا حال ہے تیرا؟ ‘‘ دوسری جانب سے انتہائی شفقت سے پوچھا گیا، ’’شکر ہے تیری آواز سننے کو ملی ہے!! ‘‘

’’ وعلیکم… ٹھیک ہوں میں، مگر آپ بتائیں آپ کو کیا پرابلم ہے ؟ ‘‘ رکھائی سے سلام کا جواب دے کر سوال کیا گیا۔

’’ اللہ کا کرم ہے پتر وہ جس حال میں رکھے… میں خوش ہوں ، کوئی مسئلہ نہیں ہے مجھے!! ‘‘ ادھیڑ عمری سے منسوب سارے مسائل میں مبتلا باپ نے اپنی کھانسی روکنے کی کوشش کر کے بیٹے کو اسی شفقت سے جواب دیا۔ وہ اسی بات پر خوش ہو گیا تھا کہ بیٹے نے اتنے عرصے کے بعد خود اسے فون کر کے بات کی تھی، ورنہ عموما تو بہو بتا دیتی تھی کہ ان کی کال آئی تھی اور آپ کو بھی سلام کہہ رہے تھے… وہ بھی کبھی کبھار، جب اس کا مزاج کسی بات پر اچھا ہوتا یا اس روز وہ اپنی پنشن نکلوا کر لائے ہوتے تھے اور بہو کسی نہ کسی بہانے وہ ساری پنشن ہتھیا چکی ہوتی تھی۔ ’ آپ کو بھلا کس چیز کی ضرورت ہے ابا میاں ! ‘ اور ابا میاں اس میں سے دو تین نیلے نوٹ اپنے پاس رکھ کر باقی ساری رقم بہو کے ہاتھ پر رکھ دیتے۔ انھیں اندازہ تھاکہ ان کا بیٹا پردیس میں محنت کر کے اتنا کچھ کمالیتا ہے کہ بہو کو پیسے کی کوئی تنگی نہیں مگر جہاں دلوںمیں تنگی ہو وہاں دامن اور ہاتھ ہمیشہ تنگ رہتا ہے۔

’’ جب آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تو کیوں میرے بیوی بچوں کو سکون سے نہیں رہنے دیتے آپ؟ ‘‘ پھر اسی روکھے لہجے میں سوال کیا گیا۔

’’ مم… میں نے ان سے کیا کہا ہے؟ ‘‘ وہ ہکلا سے گئے۔ انھیں سمجھ میں ہی نہ آیا تھا کہ ان کے لاڈلے پوتوں اور ان کی ماں کو ابا میاں کا کیا کہا برا لگ گیا تھا۔

’’ ان کی ماں نے انھیں ان کے مطالبے پر رقم دینا چاہی اور آپ نے ان سے سوال جواب شروع کر دیے کہ انھیں اس رقم سے کیا کرنا ہے… ابا میں یہاں پردیس میں، سات سمندر پار، اپنے بال بچے کے بغیر مشقت کر رہا ہوں ، ان ہی کے لیے کماتا ہوں اور آپ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے۔ اپنے بال بچوں کو یہاں اپنے پاس رکھنے کی بجائے آپ کی خدمت کے لیے وہاں چھوڑا ہوا ہے، لیکن آپ اس عمر میں اللہ اللہ کرنے کی بجائے میرے بچوں کے معاملات میں دخل اندازی سے باز کیوں نہیں آ جاتے… آپ بھی تو چالیس پچاس ہزار روپیہ پنشن کا اس رقم کے علاوہ ہر ماہ لیتے ہیں جو میں آپ کو یہاں سے اپنے دوا دارو کے لیے بھجواتا ہوں۔ میںنے تو کبھی آپ سے اس رقم کے بارے میں سوال نہیں کیا، نہ میری بیوی نے نہ بچوں نے، آپ کھائیں ، پئیں ، اڑائیں، کسی کو دیں یا کنویں میں پھینکیں!!! ‘‘ وہ حق دق سے اپنے بیٹے کی گوہر افشانیاں سن رہے تھے۔

’’ کون سے پیسے تم بھیجتے ہو مجھے پتر؟ ‘‘ انھوں نے حیرت سے پوچھا۔

’’ لیں … یہ آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے کہ میں کون سے پیسے آپ کو بھیجتا ہوں ، یہی سننا تھا مجھے اتنے سالوں کی جلا وطنی کے بعد… ‘‘

’’ میں نے کب کہا تھا بیٹا کہ تم جلا وطن ہو جاؤ؟ تم نے یہ فیصلہ اپنی بیوی کے مشورے اور اپنے بال بچوں کے مفاد کے لیے کیا تھا، میرے اعتراض کی کیا حیثیت تھی اس فیصلے میں۔ میری تو کل دولت ہی تم ہو اورتمہاری ماں کے بعد میں جس تنہائی کا شکار ہو گیا تھا اسے مٹانے کے لیے تمہارا میرے پاس ہونا ضروری تھا مگر تم نے فیصلہ کر لیا تھا تو میں تمہیں کہاں روک سکتا تھا!!‘‘ ابا نے بے بے بسی سے کہا۔

’’ آپ کو لگتا ہے کہ میں تنہائی کا شکار نہیں ہوں … آپ کے پاس تو پھر گھر میں رونق ہے، میرا بال بچہ ہے، گلی محلے کے یار دوست ہیں، خاندان ہے، سب کچھ ہے، میں تو کولہو کے بیل کی طرح سال بھر کام کرتا ہوں، نہ یہاں عید ہے نہ شب برات!! ‘‘

’’ پھر بھی تم اتنا نہیں کماسکتے کہ یہاں مہینہ بھر کے لیے کافی پڑ جائے… اور کہتے ہو کہ سال بھر مشقت کرتے ہو تو بہتر ہے کہ تم اتنی محنت یہاں آ کر کر لو، اپنے بال بچے کے ساتھ ہونے کا سکھ بھی دیکھ لو!!‘‘

’’ آپ سے کس نے کہا میں کم کماتا ہوں اور وہاں کیوں مہینہ بھر پورا نہیں پڑتا، ابا میں بہت اچھا کماتا ہوں، اپنا یہاں کا خرچہ بھی چلاتا ہوں اور وہاں بھی بے شمار رقم بھیجتا ہوں، آپ سے کس نے کہا کہ میں کم کماتا ہوں ؟ ‘‘

’’مجھے تو بہو یہی کہتی ہے کہ تمہاری کمائی سے مہینہ بھر بھی پورا نہیں گزرتا، ہر ماہ کوئی نہ کوئی ایسا بل آجاتا ہے بیٹا جس کے لیے میری پنشن کی رقم چاہیے ہوتی ہے… کل بھی بہو نے مجھ سے کہا کہ اگر میرے پاس بیس ہزار روپیہ رکھا ہو تو اسے دے دوں، بچوں کو کوئی ضرورت تھی… اسی پر میں نے پوچھ لیا تھا بیٹا کہ چھٹی ساتویں جماعتوںمیں پڑھنے والوں کو اتنی رقم کی کس چیز کے لیے ضرورت پڑ گئی ہے اور کہا کہ بیٹا ہر ماہ اپنی پنشن میں سے صرف دو تین ہزار رکھ کر باقی تمہیں دے دیتا ہوں تو میرے پاس بیس ہزار کہا ںسے آئے گا۔ ہر ماہ سوچتا رہتا ہوں کہ اپنی پنشن کی رقم سے میں سے کچھ نہ کچھ تمہاری مرحومہ ماں کے نام سے کسی یتیم یا بیوہ کو دے دیا کروں مگر… ‘‘’’ اور جو رقم میں آپ کو ہر ماہ بھیجتا ہوں ؟ ‘‘ مرے سے لہجے میں سوال کیا گیا۔

’’ مجھے تو آج ہی خود پتہ چلاہے کہ تم مجھے ہر ماہ کوئی رقم بھیجتے ہو، مجھے آج تک کوئی رقم ملی ہے بیٹا نہ اس کا علم ہے!!‘‘

’’ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ابا؟ ‘‘ حیرت سے سوال ہوا۔

’’ میرے لیے تو یہ بھی انکشاف ہے بیٹا کہ تم نے اپنی بیوی کو میرے پاس میری خدمت کے لیے چھوڑا ہوا ہے، میں دن رات اپنے ہی گھر کے برآمدے کے ایک کونے ملازموں کی طرح پڑا رہتا ہو ں، اس کے سودے سلف ڈھوتا ہوں، ایک ایک پائی کا حساب اسے دیتا ہوں، اپنی مرضی سے تو میں اس کی لسٹ کے علاوہ ایک آلو بھی نہیں لا سکتا… اپنے بچوں کو کھانا کھلا لیتی ہے تو اس کے بعد ٹھنڈا سالن اور آدھی پوری ، ٹھنڈی روٹیاںمیرے حصے میں آتی ہیں۔ میں وہ بھی صبر شکر کر کے کھا لیتا ہوں ، کبھی تم سے گلہ نہیں کیا ، کروں بھی کیسے… چار ماہ کے بعد آج تم سے بات ہو رہی ہے۔ عید کے دن تم نے عید مبارک کہہ کر میرا حال پوچھا تھا، میرا جواب ابھی میرے لبوں پر ہی تھا کہ تمہارے بیٹے نے میرے ہاتھ سے فون چھین کر اپنی بات شروع کر دی تھی۔ آج بھی تم نے کال کی ہے تو غالبا اسی لیے کہ بہو نے شکایت کی ہے میری… چلو اچھا ہے، اسی بہانے تم نے فون تو کر لیا، گلے شکوے ہی سہی مگر اتنی دیر تک تو تم سے برسوں سے بات نہیں ہوسکی!‘‘ ابا کی آواز بھرا گئی تھی۔ کبھی بھی بیٹے سے شکوہ نہ کرتے مگر اس کا کٹھور انداز اور خود پر کی گئی خواہ مخواہ کی الزام تراشی ان سے برداشت نہ ہوئی تھی۔

’’ میں تو ہر ماہ آپ کے لیے علیحدہ سے رقم بھیجتا ہوں ابا!! ‘‘ بیٹے کی آواز بھی بھیگ گئی تھی۔

’’ کاش پردیس جانے والے بیٹے یہ جان سکیں کہ ان کا نعم البدل دنیا کی کوئی دولت نہیں ہو سکتی… جو بیٹے خود ماں باپ کی خدمت کو سعادت نہیں سمجھتے اور اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے مسائل کے لیے ملک چھوڑ کر دیار غیر جاکر بس جاتے ہیں، وہ اپنی بیویوں اور اولادوں سے کیونکر توقع کرتے ہیں کہ ان کا فرض وہ پورا کریں گی… رہے بچے تو وہ کل کو تمہیں وہی پھل دیںگے جس کا بیج تم آج بو رہے ہو۔ تمہاری کم کمائی میں بھی یہاں برکت ہوتی اور تم اپنی اولادوں کو بڑھتا اور پھولتا ہوا دیکھتے تو یہ تمہاری خوش قسمتی ہوتی۔ اپنے بچوں کے سر پر ہوتے تو میری بجائے تم پوچھتے کہ انھیں اتنی سی عمر میں اتنی بڑی بڑی رقموں کی کیا ضرورت پڑ جاتی ہے… مجھے تو علم ہی نہیں کہ تم کیا کماتے ہو اور کیا بھجواتے ہو۔ میری پنشن میرے لیے ہی نہیں بلکہ اس گھر کے بہت سے خرچے اٹھانے کے لیے بھی کافی ہے ، تم لوٹ آؤ پتر… جو کچھ کھو دو گے وہ کبھی واپس نہیں آئے گا!!‘‘

’’میں واپس کیسے آ سکتا ہوں ابا اور واپس آ کر اب کروں گا بھی کیا… جس عیش و آرام کی میرے بال بچوں کو عادت ہو چکی ہے وہ میں انھیں اس ملک میں رہ کر جائز طریقوں سے نہیں دے سکتا!!‘‘

’’ تم ان کے سر پر ہو گے تو انھیں اور کیا چاہیے پتر…

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔