غیر ملکی اشیائے تعیشں پر ٹیکس

سعد اللہ جان برق  اتوار 30 ستمبر 2018
barq@email.com

[email protected]

خبر بڑی خوبصورت لگتی ہے لیکن اس کی ’’سیرت‘‘ انتہائی بری ہے۔ گویا ایک خوبصورت چمکدار اور رنگ برنگا سانپ ہے جسے حکومت نے میدان میں چھوڑ دیا ہے یا عوام پر پھینک دیا ہے۔ جواہر لال نہرو کی ایک بہن تھی غالباً لکشمی پنڈت نام تھا، خوبصورت تھی۔لیکن ہند کے ایک لیڈر نے کہا تھا کہ وہ ’’وش کنیا‘‘ ہے یعنی اس کا حسن ’’زہریلا‘‘ ہے۔ کچھ ایسا ہی اس خبر میں حسن تو ہے لیکن ’’زہریلا‘‘ ہے۔

حکومت نے تازہ تازہ جو مہنگائی بلکہ صحیح معنی میں عوام کُش بم گرایا ہے اس میں ایک پہلو ان اشیائے تعیشں کا بھی ہے جو ایک مقروض العالم ملک میں ’’درآمد‘‘ کی جاتی ہیں اور ایک عرصے سے عوام چیخ رہے تھے کہ ایک مقروض المقروضین ملک میں بلا ضرورت کے اتنی اشیائے تعیشںکیوں آ رہی ہیں ان اشیا میں زیادہ تر کھانے پینے اور آرائش و زیبائش کی اشیا ہیں اور ان کی کل اقسام (1800) ہیں ۔یہاں تک کہ ان میں آلو چپس بھی ہوتے ہیں، چاکلیٹ ٹافیاں اور بسکٹ کی اقسام تو بے شمار ہیں لیکن ان کو صرف ’’ایک‘‘ کیٹگری میں رکھا جاتا ہے یوں ان (1800) اشیا کی اصل تعداد نہ جانے کتنی ہو گی۔

ایک عرصے سے لوگ چیخ رہے تھے کہ جب ایکس پورٹ ’’چونی‘‘ بھی نہیں ہے تو یہ عیاشانہ امپورٹ ’’روپے‘‘ سے بھی بڑھ کر کیوں ہے اور یہ ساری کی ساری اشیاء ایسی ہیں کہ ان کے بغیر کوئی مر نہیں جائے گا بلکہ یہ چیزیں اپنے ملک میں بھی دستیاب ہیں لیکن ایک خاص طبقہ محض خودنمائی اور احساس برتری کی تسکین کے لیے یہ گراں قیمت لگژری استعمال کرتا ہے۔

اب حکومت نے ان پر ’’ٹیکس‘‘ بڑھا دیا ہے اور شاید سمجھ رہی ہے بلکہ سمجھی ہوئی ہے صرف عوام کی جھوٹی تسلی کے لیے ٹیکس بڑھانے کا یہ ڈراما ہوا ہے ۔کیونکہ ایک تو اس ڈرامے سے ٹیکس کا فائدہ ہو جائے گا اور عوام صرف تالیاں پیٹ کر خوش ہو جائیں گے کیا ٹیکس بڑھانے سے یہ اشیاء امپورٹ ہونا بند ہو جائیں گی وہ تو ظاہر ہے کہ اگر بند کرنا ہوتا تو یک جنبش قلم بند کر دیا جاتا لیکن حکومت کو تو ٹیکس چاہیے، چاہے وہ عوام کو قتل کرنے پر ہی کیوں نہ ملے۔

سیدھی سی بات ہے کہ یہ اشیائے تعیشں جو لوگ استعمال کرتے ہیں ان کی آمدنی کہاں سے آتی ہے۔ حق حلال کمانے والے تو کپڑوں کا دیسی صابن بھی نہیں خرید سکتے۔ غیر ملکی اور گراں قیمت اشیا پہلے بھی وہ لوگ استعمال کرتے ہیں جن کی کمائی عوام کے چمڑے سے حاصل ہوتی ہے۔ اب اگر ٹیکس کی وجہ سے کچھ اور مہنگی ہو جاتی ہیں تو ان کو کیا کہ نکالنا تو کالانعام سے ہے۔ گویا حکومت نے اپنے غلط بلکہ خیال میں اشیائے صرف کو جو تھپڑ مارا ہے وہ سیدھا عوام ہی کے منہ پڑے گا بلکہ ’’ٹیکس‘‘ کی شدت بھی اس میں شامل ہو جائے گی ۔

مثال کے طور پر ایک راشی مرتشی جو وہ اور ان کے عیال جو چیزیں استعمال کرتے ہیں وہ رشوت یا کسی بھی کرپشن کی شرح کچھ اور بڑھا دے، بس اتنی سی بات ہے اس تمام ڈرامے میں۔ فائدہ صرف حکومت کو ٹیکس کی صورت میں ہو جائے گا۔ عوام کے ساتھ قصائی جو بھی کرے کرتا رہے ۔

کیا یہ غیر ملکی اشیائے صرف ’’عوام‘‘ خریدتے ہیں؟ کیا جو لوگ اسے خریدتے ہیں وہ جائز آمدن والے عوام میں سے ہوتے ہیں کہ یہاں تو سلسلہ ہی ’’تھپڑ‘‘ کو نیچے منتقل کرنے کا ہے۔ ایک کے منہ پر پڑتا ہے تو وہ آگے دوسرے کو منتقل کرتا ہے وہ تیسرے کو، تیسرا چوتھے کو اور وہ سیدھا اس ’’منہ‘‘ تک پہنچ جاتا ہے جس کے آگے قطار ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ یہ جو غیر ملکی اشیائے تعیش پر ’’ٹیکس‘‘ بڑھانے کا ڈراما ہے اس کے کرداروں کو یوں بھی واضح کیا جاتا ہے حکومت x امپورٹر x تھوک فروش x پرچون فروش x صارفx کالانعام۔ پہنچی وہیں پہ خاک بلکہ۔۔۔ آسمان سے نازل ہونے والی بلانے ’’انوریؔ‘‘ کے گھر پہنچ کر دم لیا کیونکہ پتہ اسے پہلے سے معلوم تھا ۔

صاف صاف لفظوں میں یہ ٹیکس بھی کالانعام کی کھال سے وصول کیا جائے گا ۔ حکومت سے لے کر ’’درمیان‘‘ والوں کو کیا فرق پڑا بلکہ پاکستانی روایت تو یہ ہے کہ ٹیکس کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی ’’بھلا‘‘ ان کا ہو جاتا ہے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا… والی بات ہو جاتی ہے ۔

اس طرح کی ہر سرکاری مہربانی یہاں وہاں سے گھوم پھر کر صرف ایک لفظ ’’مہنگائی‘‘ میں مرتکز ہو جاتی ہے اور مہنگائی اسی پر مرتکز ہوتی جس پر دنیا کی ساری آفات اور بلائیں پہلے ہی سے مرتکز ہیں۔ اتنا سارا کھڑاک پھیلانے کی بجائے اگر سیدھے سیدھے ان اشیا کو بند کر دیا جاتا ۔تو ملک کا قوم کا اور عوام کا سب کابھلا ہو جاتا… لیکن جو کوئی ایسا کرتا اسے اپنے گھربھی جانا پڑتا اور اپنے اہل و عیال اور خاص طور پراپنی بیگمات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ۔جو ان اشیائے تعیش کے صارفین ہوتے ہیں ۔کیا یہ غیر ملکی لگژریاں عوام استعمال کرتے ہیں ؟

اور پھر یکسر بند کرنے سے عوام کا بھلا تو ہو جاتا لیکن جو درمیان میں بیٹھے ہوئے حکومت کے لاڈلے ہیں وہ بیچارے کیا بیچتے اور کیا کھاتے…اور پھر ’’ٹیکس‘‘ زبان پہ بارے خدایا یہ کس کا نام آیا ۔

در حقیقت سب کچھ جھوٹ ڈراما ہے اور دھوکے فریب کے جال ہیں۔ اگر آج صرف چاکلیٹ بسکٹ‘ پرفیوم اور پہناوے بھی بند کیے جائیں ،سوفٹ ڈرنک بھی بند کیے جائیں تو کوئی نہیں مرے گا بلکہ صحت پر اچھا اثر پڑے گا ۔لیکن کیا واقعی کوئی مائی کا لال ایسا کرسکتا ہے ؟ کیا واقعی حکومت عوام کی خیرخواہ ہے۔ کیاواقعی یہ ملک آزاد ہے۔ کیا واقعی اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے ؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔